منگل، 7 جولائی، 2026

مستقبل کا خوف اور اللہ پر کامل بھروسہ ام سلیمان محمدی


۔



۔ ﷽ ۔ 

📍*مستقبل کا خوف اور اللہ پر کامل بھروسہ۔*

[  ام سلیمان محمدی عفا اللہ عنہا  ] 


 ---------------------------------------------- 
 

📍اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو آزمائش کا گھر بنایا ہے۔ انسان کی زندگی میں کبھی خوشی آتی ہے کبھی غم کبھی آسانی اور کبھی ایسی آزمائشیں جن سے دل گھبرا جاتا ہے۔ انہی حالات میں ایک سوال بار بار انسان کے ذہن میں ابھرتا ہے۔ *"میرا مستقبل کیسا ہوگا؟"*

📍آج کا انسان بظاہر ترقی یافتہ ہے۔مگر اس کے دل سے سکون چھن چکا ہے۔ کوئی روزگار کے بارے میں پریشان ہے، کوئی شادی میں تاخیر سے غمزدہ ہے۔ کوئی اولاد کے مستقبل کی فکر میں مبتلا ہے۔ کوئی بیماری سے خوف زدہ ہے۔ کوئی قرض اور معاشی تنگی کی وجہ سے بے چین ہے، اور کوئی آنے والے کل کی غیر یقینی صورتِ حال سے ڈر رہا ہے۔ یہی اندیشے انسان کی موجودہ خوشیوں کو بھی چھین لیتے ہیں۔

📍لیکن ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے مستقبل کواپنےاندازوں کے سپرد نہیں کرتا بلکہ اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مستقبل انسان کے ہاتھ میں نہیں۔بلکہ مستقبل کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔

📍 میں تلاوتِ قرآن کر رہی تھی تو سورۂ مریم سامنے آئی۔ اس سورت میں غور کی تو محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کومستقبل کے خوف سے نکال کر اپنی قدرت اور رحمت پر کامل یقین سکھا رہے ہیں۔

📍 جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

*«﴿قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا﴾*

 "فرشتے نے کہا:ایسا ہی ہوگا۔ تمہارے رب نے فرمایا یہ میرے لیے بہت آسان ہے، اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں، اور یہ فیصلہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔(سورۃ مریم: 21)

📍حضرت مریم علیہا السلام نے عرض کیا کہ میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا جبکہ نہ میری شادی ہوئی ہے اور نہ کسی انسان نے مجھے چھوا ہے؟ انسانی عقل کے اعتبار سے یہ ایک ناممکن بات تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*«﴿هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ﴾*

*«یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔"»*

📍امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*«أي: ذلك سهلٌ عليَّ يسيرٌ، فإنِّي على ما أشاءُ قادرٌ.»*

"یعنی یہ کام میرے لیے نہایت آسان ہے، کیونکہ میں جو چاہوں اس پر پوری قدرت رکھتا ہوں۔"

حوالہ: تفسير القرآن العظيم، ابن كثير، تفسير سورة مريم، الآية (21)۔»

📍امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*«يَقُولُ تَعَالَى ذِكْرُهُ: قَالَ لَهَا جِبْرِيلُ: هَكَذَا الْأَمْرُ كَمَا تَصِفِينَ، مِنْ أَنَّكِ لَمْ يَمْسَسْكِ بَشَرٌ وَلَمْ تَكُونِي بَغِيًّا، وَلَكِنَّ رَبَّكِ قَالَ: هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ: أَيْ خَلْقُ الْغُلَامِ الَّذِي قُلْتُ أَنْ أَهَبَهُ لَكِ عَلَيَّ هَيِّنٌ، لَا يَتَعَذَّرُ عَلَيَّ خَلْقُهُ وَهِبَتُهُ لَكِ مِنْ غَيْرِ فَحْلٍ يَفْتَحِلُكِ.»*

"اللہ تعالیٰ (اپنے پیغام کا) تذکرہ فرماتے ہوئے فرماتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت مریم سے کہا: معاملہ بالکل اسی طرح ہے جیسے تم بیان کر رہی ہو کہ تمہیں کسی انسان نے نہیں چھوا اور نہ ہی تم بدکار ہو، لیکن تمہارے رب نے فرمایا ہے۔ یہ میرے لیے بالکل آسان ہے یعنی اس لڑکے کو پیدا کرنا جس کے بارے میں میں نے کہا ہے کہ میں تمہیں عطا کروں گا۔میرے لیے آسان ہے۔ میرے لیے اس کی پیدائش اور بغیر کسی مرد کے جو تمہارے پاس آئے۔ تمہیں اس کا تحفہ دینا کچھ بھی مشکل یا ناممکن نہیں ہے۔

جامع البيان عن تأويل آي القرآن (تفسير الطبری: سورۃ مریم، آیت نمبر (21)


📍امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*««أي ليس ذلك بعظيمٍ ولا متعذِّرٍ، فإنَّ الله تعالى لا يعجزه شيءٌ.»»*

"یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہ کوئی بڑا کام ہے اور نہ ہی مشکل، کیونکہ اللہ کو کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔"

حوالہ: الجامع لأحكام القرآن، الإمام القرطبي، تفسير سورة مريم، الآية (21)»

📍ان تمام تفاسیر کا خلاصہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسباب کا پابند نہیں بلکہ اسباب کا خالق ہے۔ جب وہ کسی نعمت یا کسی فیصلے کا ارادہ فرماتا ہے تو ظاہری وسائل کی کمی اس کے حکم میں رکاوٹ نہیں بنتی۔

📍اسی حقیقت کو سورۂ مریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے سے بھی واضح کیا گیا ہے۔

 جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

*«﴿يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا﴾*

 "اے زکریا ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے، اس سے پہلے ہم نے کسی کا یہ نام نہیں رکھا۔"(سورۃ مریم: 7)»

📍حضرت زکریا علیہ السلام عمر کے آخری حصے میں تھے، جسم کمزور ہو چکا تھا اور ان کی زوجہ بانجھ تھیں، لیکن جب انہوں نے اللہ سے امید وابستہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسا صالح بیٹا عطا فرمایا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے اسباب کے محتاج نہیں۔

📍اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی پر *غور کیجیے*۔ کنویں میں ڈالے گئے، غلام بنا کر بیچے گئے، بے گناہ ہونے کے باوجود قید خانے میں رہے۔لیکن انہیں معلوم بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں مصر کی سلطنت میں عزت و اقتدار عطا فرمانے والا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ بعض اوقات جن آزمائشوں کو ہم اپنا انجام سمجھتے ہیں۔ وہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری کامیابی کا آغاز ہوتی ہیں۔

📍اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

*«﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ﴾»*

"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔"(سورۃ الطلاق: 3)»


📌*اور ایک بات:* 

1: اگر آج تمہیں رزق کی فکر ہے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔

2: اگر شادی میں تاخیر ہے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔

3:اگر اولاد کی خواہش ہے تو حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے پر غور کرو۔

4:اگر حالات تمہارے خلاف ہیں تو حضرت مریم علیہا السلام کو یاد کرو۔

5:اگر مسلسل آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہو تو حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کو سامنے رکھو۔

6:اور اگر مستقبل تمہیں ڈرا رہا ہے تو اپنے رب کے اس فرمان کو اپنے دل میں بسا لو:*«﴿هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ﴾*

*«"یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔"»*

📍*یاد رکھو:* جس رب نے حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام عطا کیے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا کیے۔اور حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں اور قید خانے سے نکال کر مصر کا عزیز بنایا۔ وہی رب آج بھی زندہ ہے۔اس کی قدرت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

📍*اس لیے اپنے مستقبل کے خوف میں اپنی موجودہ خوشیوں کو ضائع نہ کرو۔* اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھو۔ صبر کو اپنا ساتھی بناؤ۔ دعا کو اپنا ہتھیار بناؤ۔ کیونکہ مستقبل تمہارے ہاتھ میں نہیں۔مگر مستقبل کا مالک وہ رب ہے جس کے لیے ہر ناممکن صرف *ہےھوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ"* ہے۔ 
اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما، اپنے احکامات پر چلنے والا بنا، ہر حال میں تجھ پر بھروسہ اور کامل یقین رکھنے کی توفیق عطا فرما۔رَبِّ ارْحَمْهَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔ آمین۔

ہ ےےےےےے ہ 

جوائین ان :

دورِ حاضر کا نوجوان امت کا سرمایہ یا کھویا ہوا مستقبل؟ ام سلیمان محمدی

۔



۔ ﷽ ۔ 

📍*دورِ حاضر کا نوجوان امت کا سرمایہ یا کھویا ہوا مستقبل؟*

✒️*:ام سلیمان محمدی حفظہا اللہ۔*


ہ ےےےےےے ہ


📍نوجوانی انسان کی زندگی کا وہ سنہری دور ہے جس میں قوت، طاقت،ہمت، عزم، صلاحیت اور خواب اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس میں انسان اپنی زندگی کا رخ متعین کرتا ہے اور اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ اسلام نے نوجوانی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا ہے اور اس کی حفاظت و درست استعمال کی خصوصی تعلیم دی ہے۔

📍مگر افسوس آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ اپنی زندگی کے اس قیمتی خزانے کو فضولیات، بے مقصد مصروفیات، سوشل میڈیا کی حد سے بڑھی ہوئی مشغولیت، بے حیائی عورتوں کا فتنہ،اور وقت کے ضیاع میں کھو رہا ہے۔ وہ جوانی جو قرآنِ کریم کے فہم، علم کے حصول، والدین کی خدمت، امت کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف ہونی چاہیے تھی، وہ اکثر غیر ضروری چیزوں اور وقتی لذتوں میں صرف ہو رہی ہے۔

📍آج کا نوجوان گھنٹوں موبائل فون کی اسکرین کے سامنے گزار سکتا ہے، لیکن چند منٹ قرآنِ مجید کی تلاوت یا دینی مطالعے کے لیے نکالنا اسے دشواری اور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ راتیں جاگ کر فضول چیزوں میں وقت ضائع کرتے ہیں جس کی وجہ سےفجر کی نماز جیسی عظیم عبادت غفلت کی نذر ہو جاتی ہے۔ علم و تحقیق کے میدان خالی ہو رہے ہیں جبکہ نوجوان نسل بیدار ہونے کا نام تک نہیں لیے رہے ہیں وہ خواب غفلت میں سورہیں ہیں۔ 

 📍جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«﴿أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ﴾

"کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟"

(سورۃ المؤمنون: 115)»

📍یہ آیت نوجوانوں کے علاوہ ہر انسان کو یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا ایک مقصد ہے اور انسان کو اپنے ہر لمحے کا حساب دینا ہے۔

 📍جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے نوجوانی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

«"لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسأل عن أربع... وعن شبابه فيما أبلاه"

"قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے... اور اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں گزارا۔"
(جامع ترمذی: 2417)»
امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے  صحیح قرار دیئے ہیں۔ 

📍یہ حدیث نوجوانوں کو متوجہ کرتی ہے کہ جوانی صرف مستی اور مزےکا نام نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دینا ہوگا۔

📍افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بہت سے نوجوان نہ دین میں نمایاں ہیں اور نہ دنیا میں۔ نہ علم حاصل کرنے کا جذبہ، نہ عبادت کی رغبت، اور نہ والدین کی خدمت کا شوق اور نہ امت کی فکر۔ کاہلی، سستی اور بے مقصد زندگی بہت سے نوجوانوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔

📍اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایسے نوجوان نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی جوانی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کر دی تھی جن میں سے چند یہ ہیں۔

📍حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نوجوانی میں شرک کے خلاف علمِ حق بلند کیا۔

📍حضرت یوسف علیہ السلام نے جوانی میں پاکدامنی اور کردار کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

📍اصحابِ کہف نے ایمان کی خاطر اپنا گھر، خاندان اور آرام و آسائش سب کچھ چھوڑ دیا۔

📍حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حیا، سخاوت اور دین کی خدمت میں عظیم 
مثال قائم کی۔ 

📍حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی رسول اللہ ﷺ کے فرامین محفوظ کرنے کے لیے وقف کر دی۔

📍یہ وہ نوجوان تھے جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا، کیونکہ ان کے پاس ایمان تھا، مقصد تھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا جذبہ تھا۔

📍*اللہ تعالیٰ اصحابِ کہف کے بارے میں فرماتا ہے:*

«﴿إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى﴾

"بے شک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے، پس ہم نے ان کی ہدایت میں مزید اضافہ فرما دیا۔"

(سورۃ الکہف: 13)»

*📍آج ہر نوجوان کو اپنے آپ سے چند سوالات ضرور کرنے چاہئیں:*

- کیا میں اپنے والدین کے لیے باعثِ راحت ہوں یا باعثِ پریشانی؟
- کیا میری نمازیں وقت پر ادا ہوتی ہیں؟
- کیا میں روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہوں؟
- کیا میرا وقت کسی مقصد کے تحت گزر رہا ہے؟
- کیا میں علمِ دین اور علمِ دنیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟
- کیا میری صلاحیتیں امت اور انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں؟

*قارئینِ کرام۔*
📍اپنی جوانی کی قدر کریں، کیونکہ یہ زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت کو ضائع نہ کریں، کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ سوشل میڈیا کو اپنا سب کو کچھ نہ بنائے۔ علم حاصل کریں، اچھے اخلاق بنائے، والدین کی خدمت کریں، نمازوں کی پابندی کریں۔ اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں۔

📍یاد رکھو:جوانی چند دنوں کی مہمان ہے۔ لیکن اس میں کیے گئے اعمال کا اثر دنیا اور آخرت دونوں میں باقی رہتا ہے۔ جو نوجوان اپنی جوانی اللہ تعالیٰ کی اطاعت، علم، خدمتِ خلق اور نیک اعمال میں گزارتا ہے، وہ دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔

📌*علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں کی بلند ہمتی کو یوں بیان کیا:*

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔ 

📍آج امتِ مسلمہ کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو ایمان والے ہوں، علم والے ہوں، کردار والے ہوں، محنتی ہوں، باحیا ہوں اور اپنی صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور امت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے والے ہوں۔


📍*نوجوانوں کے وقت ضائع ہونے کے اسباب اور علاج۔* 

📌*اسباب۔*
*1:دین سے دوری اختیار کرنا۔*
جب انسان کو یہ نہ پتا ہو کہ زندگی کا مقصد کیا ہے تو وہ وقت ضائع کرتا ہے۔

*2:سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنا۔*
موبائل، گیمز اور سوشل میڈیا کی وجہ سے وقت ضائع ہوتا ہے۔

*3:اچھی تربیت کی کمی۔*
گھر ، والدین،اور مدرسہ، سے صحیح رہنمائی نہ ملے تو نوجوان غلط راستے پر چلا جاتا ہے۔

*4:بری دوستی کرنا۔*
غلط دوست انسان کو بھی غلط عادتیں سکھاتے ہیں۔

📌*علاج۔*
*1:دین سے تعلق مضبوط کرنا۔*
قرآن اور سنت پر عمل کرنے سے زندگی سیدھی ہو جاتی ہے۔

*2:وقت کا صحیح استعمال کرنا چائیے۔*
اپنا وقت ضائع نہ کریں اور روز کا کام وقت پر کریں۔

*3:اچھی تربیت ہونا۔*
والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کی صحیح رہنمائی اور ترتیب کریں۔

*4:اچھے دوست بنانا چائیے۔*
اچھے دوست انسان کو اچھا بناتے ہیں۔

*5:زندگی کے مقصد کو سمجھنا چائیے۔* 
یہ سوچنا کہ ہمیں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے، ایسی سوچ انسان کو بہتر بنا دیتی ہے۔

📍اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کو ایمانِ کامل، علمِ نافع، عملِ صالح، حیا، تقویٰ اور بلند کردار عطا فرمائے، اور انہیں امتِ مسلمہ کا حقیقی سرمایہ بنائے۔رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔آمین یا رب العالمین۔

ہ ےےےےےے ہ 

جوائین ان :

۔

اتوار، 31 مئی، 2026

دعاۓ قربانی و عقیقہ کےچند مسائل مختصرا مختلف علماء

۔

ہ ہ ہ ۔ ﷽ ۔ ہ ہ ہ 


دعاۓ قربانی و عقیقہ کے مسائل مختصرا 

مختلف علماء 

جمع و ترتیب 
عزیر ادونوی  

سلفی تحقیقی اسلامی لائبریری:



ہ ےےےےےےےہ 


1 ۔ 
* جانور ذبح کرنے،عقیقہ اورقربانی کی دعاء 


سب حلال جانور ذبح کرنےکی مسنون و ضروری دعاء بس ایک ہی ہے

" بسم اللہ "

ہاں نیت الگ الگ رہیگی قربانی میں قربانی کی نیت،

اجتماعی قربانی میں ان تمام افرادکی جانب سےنیت،

عقیقہ میں جن کا عقیقہ ہےان کی جانب سےنیت،

عام جانور ذبح کرنےمیں بس حلال کرنےکی نیت ۔ 

وغیرہ وغیرہ 

بقیہ دیگر الفاظ میں جو دعائیں آئیں ہیں اگر یادہےتو تھیک ہےپڑھیں،ورنہ مسنون ہیں بس،ضروری و فرض نہیں ۔

و اللہ اعلم

طالب علم
عزیر ادونوی


ہ ےےےےےےےہ 


2 ۔ 
* شیخ عقیقہ کی کوئی دعا ھے؟
* ذبح کرتےوقت کچھ پڑھتےھیں؟

ایک روایت ملی ھے:
عقیقہ کا جانور مولودکا نام لےکر ذبح کرنامستحب ہے۔ 

حضرت عائشہ صدیقہؓ سےمروی ہےکہ نبی ﷺ نےارشادفرمایا:

''اذبحوا علی اسمه فقولوا،بسم اللہ اللھم لك وإلیك ھٰذہ عقیقة فلان'' iii

''(مولود) کےنام پر ذبح کرو او ریہ دعا پڑھو۔''

''بسم اللہ اللھم لك وإلیك ھٰذا عقیقة فلان''

(فلاں کی جگہ مولودکا نام لیاجائے)''۔

رواہ ابن المنذر و کذا في حصن حصین لابن الجزري

کیایہ صحیح ھے؟۔
جزاکم اللہ خیر  
عمر اثری 



جواب :  

محترم بھائی آپ نےجس روایت کےمتعلق سوال کیاہے،وہ مسندابی یعلی،اورالسنن الکبری بیہقی اورمصنف عبدالرزاق میں موجودہے،

مسندابی یعلی میں درج ذیل سندو متن کےساتھ ہے: 

عن ابن جريج،عن يحيى بن سعيد،عن عمرة،عن عائشة قالت: يعق عن الغلام شاتان مكافئتان،وعن الجارية شاة قالت عائشة: 
" فعق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن والحسين شاتين شاتين يوم السابع،وأمر أن يماط عن رأسه الأذى." 
وقال: 
" اذبحوا على اسمه وقولوا: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ "۔

[حكم حسين سليم أسد] : إسناده صحيح
مسندکی تحقیق میں علامہ حسین سلیم اسدلکھتےہیں کہ اس کی سندصحیح ہے۔ 

اورامام ابن قیم رحمہ اللہ نے’’ تحفة المودودبأحكام المولود‘‘
میں بھی اسےنقل فرمایاہے۔

جواب از  : 
اسحاق سلفی ؒ  


ہ ےےےےےےےہ 


3 ۔ 
* قربانی کی دعاء 


إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ،إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ. اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ،عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ،بسم الله والله أكبر

[سنن الدارمي:1989،مسندأحمد:15022]

نوٹ:دعا میں مذکور الفاظ (عن محمدوأمتہ) کی بجائےاپنااوراہل وعیال کا نام لیں،یاجس کی طرف سےقربانی کرنی ہے،اس کا نام لیں۔

العلماء 


ہ ےےےےےےےہ 


4 ۔ 
* قربانی کا جانور ذبح کرتےوقت کی مسنون دعاء 


سوال :  

قربانی کا جانور ذبح کرتےوقت کی مسنون دعا ذکر فرمائیں۔ 


جواب : 

جانور ذبح کرنےکی مسنون دعا : 

’ بِسْمِ اللّٰهِ وَ اللّٰه اَکْبَر ‘ ۔ 

(متفق علیه،سنن ابن ماجه،بَابٌ فِی الشَّاةِ یُضَحَّی بِهَا عَنْ جَمَاعَةٍ،رقم:۲۸۱۰) 

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی
جلد:3،کتاب الصوم،صفحہ : 365 ۔  


ہ ےےےےےےےہ 


5 ۔ 
* ذبح کرنےکی دعا

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری،
جلدنمبر2،کتاب الأضاحی والذبائح،ص 392 ۔ 



سوال  :  

کیاقربانی کاجانورذبح کرنےوقت کی دعا پڑھنی اوربسم اللہ اوراللہ اکبر کہنااورجن لوگوں  کی طرف سےقربانی کی جائے  انکانام لیناضروری ہےیامحض نیت کرلینی کافی ہے؟


جواب : 

بہتریہ ہےکہ قربانی کرنےوالااپناجانورہاتھ سےذبح کرےاوراگردوسرےسےذبح کرائےتوبہتریہ ہےکہ وہاں حاضراورموجودرہے۔

وان  ذبحهابيده كان افضل بيده لان النبىﷺضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ،ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ،وَسَمَّى وَكَبَّرَ،وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا. وَنَحَرَ الْبَدَنَاتِ السِّتَّ بِيَدِهِ. وَنَحَرَ مِنْ الْبُدْنِ الَّتِي سَاقَهَا فِي حِجَّتِهِ ثَلَاثًاوَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ.وَلِأَنَّ فِعْلَهُ قُرْبَةٌ،وَفِعْلُ الْقُرْبَةِأَوْلَى مِنْ اسْتِنَابَتِهِ فِيهَافَإِنْ اسْتَنَابَ فِيهَا،جَازَ،لِأَنَّ النَّبِيَّﷺ اسْتَنَابَ مَنْ نَحَرَبَاقِيَ بُدْنِهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.وَهَذَالَاشَكَّ فِيهِ.وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَحْضُرَذَبْحَهَا،لِأَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ الطَّوِيلِ "وَاحْضُرُوهَاإذَاذَبَحْتُمْ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكُمْ عِنْدَأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا"۔وَرُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّﷺقَالَ لِفَاطِمَةَاُحْضُرِي أُضْحِيَّتَك،يُغْفَرْلَك بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا.

المغتى13/389/390

وامرابوموسى الاشعرى بناته ان يضحين بايديهن۔
(بخاري)



* ذبح کےوقت بسم اللہ کہنافرض ہے،

اگرقصدادیدہ دانستہ چھوڑدیاتووہ ذبیحہ حرام ہوگابھول کی وجہ سےنہیں کہہ سکاتوبلاشک وشبہ حلال ہوگا:

وَأَمَّاالذَّبِيحَةُ فَالْمَشْهُورُمِنْ مَذْهَبِ أَحْمَدَ،أَنَّهَاشَرْطٌ مَعَ الذِّكْرِ،وَتَسْقُطُ بِالسَّهْوِ.
وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ،وَالثَّوْرِيُّ،وَأَبُو حَنِيفَةَ،وَإِسْحَاقُ.
وَمِمَّنْ أَبَاحَ مَانَسِيَتْ التَّسْمِيَةُ عَلَيْهِ،عَطَاءٌ،وَطَاوُسٌ،وَسَعِيدُبْنُ الْمُسَيِّبِ،وَالْحَسَنُ،وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،وَجَعْفَرُبْنُ مُحَمَّدٍ،وَرَبِيعَةُ،وَعَنْ أَحْمَدَ،أَنَّهَامُسْتَحَبَّةٌ غَيْرُوَاجِبَةٍ فِي عَمْدٍوَلَاسَهْوٍ.وَبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ،لِمَاذَكَرْنَافِي الصَّيْدِقَالَ أَحْمَدُ:إنَّمَاقَالَ اللَّهُ تَعَالَى:{وَلاتَأْكُلُوامِمَّالَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ}الأنعام: 121.يَعْنِي الْمَيْتَةَ.

وَذُكِرَذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَلَنَا،قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ:مَنْ نَسِيَ التَّسْمِيَةَ فَلَابَأْسَ.وَرَوَى سَعِيدُبْنُ مَنْصُورٍ،بِإِسْنَادِهِ عَنْ رَاشِدِبْنِ رَبِيعَةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: ذَبِيحَةُ الْمُسْلِمِ حَلَالٌ وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ،إذَالَمْ يَتَعَمَّدْ.وَلِأَنَّهُ قَوْلُ مَنْ سَمَّيْنَا،وَلَمْ نَعْرِفْ لَهُمْ فِي الصَّحَابَةِ مُخَالِفًا.

وقَوْله تَعَالَى﴿وَلاتَأْكُلُوامِمَّالَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ۔۔﴾الأنعام121 مَحْمُولٌ عَلَى مَاتُرِكَتْ التَّسْمِيَةُ عَلَيْهِ عَمْدًا،بِدَلِيلِ قَوْلِهِ:﴿وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ۔۔﴾الأنعام121.وَالْأَكْلُ مِمَّانُسِيَتْ التَّسْمِيَةُ عَلَيْهِ لَيْسَ بِفِسْقٍ.

المغنى13/49



* قربانی کی دعاء:  

وَجَّهْت وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ۔۔۔ الخ
پڑھنی سنت اورمستحب ہےضروری اورلازم نہیں۔حضرت جابرکی حدیث(ابوداود،ابن ماجہ،بیہقی)سےصرف استحباب وسنیت کاثبوت ہوتاہےپس اگر کوئی اس دعاءکوچھوڑدےگاتومحض تارک سنت ہوگا۔قربانی کایہ ذبیحہ بلاشک وشبہ حلال ہوگا

قال الشوکانی فی النیل5/212فی شرح حديث جابر:فيه استحباب تلاوة هذه الاية عندتوجيه الذبيحه للذبح



* اللہ اکبرکہنابھی ضروری نہیں۔

ثَبَتَ أَنَّ النَّبِيَّﷺكَانَ إذَاذَبَحَ قَالَ:بِسْمِ اللَّهِ،وَاَللَّهُ أَكْبَرُ،وَفِي حَدِيثِ أَنَسٌ:وَسَمَّى وَكَبَّرَ.وَكَذَلِكَ كَانَ يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ.وَبِهِ يَقُولُ أَصْحَابُ الرَّأْيِ،وَلَانَعْلَمُ فِي اسْتِحْبَابِ هَذَاخِلَافًا،وَلَافِي أَنَّ التَّسْمِيَةَ مُجْزِئَةٌ.وَإِنْ نَسِيَ التَّسْمِيَةَ،أَجْزَأَهُ،عَلَى مَاذَكَرْنَافِي الذَّبَائِحِ.وَإِنْ زَادَفَقَالَ:اللَّهُمَّ هَذَا مِنْك وَلَك،اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي،أَوْ مِنْ فُلَانٍ. فَحَسَنٌ.وَبِهِ قَالَ أَكْثَرُأَهْلِ الْعِلْمِ۔ 

المغی13/390



* ذبح کرنےکےوقت ان لوگوں کانام بولناضروری نہیں ہےجنکی طرف سےقربانی کی جانی ہوصرف انکی نیت کافی ہے۔

قال الخرقى فى مختصره:وليس عليه يقول عندالذبح عمن لان النية تجزى انتهى قال ابن قدامه:لااعلم خلافاان النية تجزئى وان ذكرمن يضحى عنه فحسن لماروينامن الحديث قالحسن:يقول بسم الله والله اكبرهذامنك ولك تقبل من فلان۔

المغنى13/391

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری،
جلدنمبر2،کتاب الأضاحی والذبائح،ص 392 ۔ 

 
 ہ ےےےےےے ہ   
 

6 ۔ 
سوال: 

كيا قربانی كے وقت كوئی مخصوص دعاء ہے؟ 


جواب : 

قربانی ذبح کرتے وقت  تکبیر پڑھنا اور دیگر دعائیں پڑھنا سنت سے  ثابت ہے ۔تکبیر ان الفاظ میں پڑھی جائے:
 ’’بسم اللہ واللہ اکبر‘‘ 

(صحیح مسلم: 5063)


اور مندرجہ ذیل دعا پڑھنا سنت سے ثابت ہے :

إنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَاْلأَرْضِ حَنِيْفًا وَمَآ أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، إِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْنَ، لَاشَرِيْكَ لَهُ وَ بِذالِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ ، بِاسْمِ اللهِ وَ اللهُ أَكْبَرُ۔أَللّٰهُمَّ هٰذَا مِنْكَ وَ لَكَ أَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّيْ (وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِيْ)”۔

اس حدیث کو شیخ البانی نے مشکوۃ کی تخریج میں صحیح قرار دیا ہے اور شعیب ارناؤط نے اس کی تحسین کی ہے۔ 

الشیخ اکرم الہی 


ہ ےےےےےے ہ  


7 ۔ 
کیا قربانی کرتے وقت کی دعا ضعیف ہے؟
 

سوال : 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے پچھلے ماہ الاعتصام لگوایا تھا۔ رسالہ اپنی وسعت معلومات کی وجہ سے واقعی بہت اچھا ہے۔ اس سال جلدنمبر۵۰ شمارہ نمبر۱۳ میں ایک مضمون’’فضائل ومسائل عید الاضحی‘‘ میری نظر سے گزرا اس میں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ صفحہ ۹ اور ۱۰ پر قربانی کرتے وقت کی دعا :
’إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ…‘ 

( سنن أبی داؤد،بَابُ مَا یُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَایَا،رقم: ۲۷۹۵،سنن ابن ماجه،بَابُ أَضَاحِیِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،رقم:۳۱۲۱)

راقم الحروف کے نزدیک سخت ضعیف ہے۔ یہ روایت ابوداؤد کے ساتھ ’’مسند احمد‘‘، مشکوٰۃ شریف اور اس کے علاوہ اور بھی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن ہر ایک کے سلسلۂ اسناد میں ضعف پایا جاتا ہے۔ میں کوئی عالم تو نہیں ہوں کہ اس پر مزید بحث کروں لیکن اگر تفصیل دیکھنی ہو تو اس کتاب(مشکوٰۃ المصابیح للالبانی) میں مذکور باب کے نیچے دیکھیں۔  

( فیصل مختار) (۳ جولائی ۱۹۹۸ء)



الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

روایتِ ہذا ضعیف ہے کیونکہ اس میں راوی عبدالمطلب بن عبداللہ بن حنطب کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے اس کا سماع نہیں لیکن منذری اور ابوحاتم رازی نے کہا ممکن ہے اس کو پایا ہو۔ ابن حجر رحمہ اللہ  نے ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں اور ابن ابی حاتم نے’’المراسیل‘‘ میں عَنْ اَبِیہ کہا جابر سے اس کا سماع نہیں لیکن جابر رضی اللہ عنہ  کی ایک دوسری روایت جس کو ابویعلیٰ نے ذکر کیا اس کے بارے میں امام ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا اس کی سند حسن درجہ کی ہے۔ اور امام ابوداؤد کا بھی اس پر سکوت ہے۔(بحوالہ مرعاۃ المفاتیح) 

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب 

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی 

جلد:3، کتاب الصوم: صفحہ: 365
محدث فتویٰ


ہ ےےےےےے ہ  


8 ۔ 
*💠 ذبح کرنے کے بعد ایک من گھڑت دعا*

*✍️ از قلم :*
حافظ اکبر علی اختر علی سلفی عفا اللہ عنہ
ا====================

محترم قارئین! نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے جو دعائیں صحیح یا حسن سند کے ساتھ منقول ہیں، ہمیں اُسی پر اکتفا کرنا چاہیے. اِسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حقیقی اتباع ہے لیکن بعض احباب ایسے ہیں جو احادیث اور دعائیں گھڑتے ہیں.

آج اس تحریر میں ایک من گھڑت دعا کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، بغور ملاحظہ فرمائیں :

*ایک پیمفلیٹ میں لکھا ہوا تھا :*
"قربانی کرنے کا مسنون طریقہ... جب جانور کو ذبح کرنے کے لیے قبلہ رو لٹائے تو یہ آیت پڑھے "إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ" پھر "بسم الله الله اکبر" کہہ کر ذبح کرے، بعد ذبح کے یہ دعا پڑھے *"اللهم تقبله مني كما تقبلت من حبيبك محمد و خليلك إبراهيم عليهما الصلاة والسلام".*

پھر نیچے لکھا ہے :
*(شائع کردہ) دفتر اہتمام : الجامعۃ الاسلامیہ نور الہدی نوگڈھ و جامعہ ام سلمہ للبنات خوشراج پور، سدھارتھ نگر، یوپی، انڈیا)*

*🌸 راقم کہتا ہے کہ :*
*(1)* قربانی عبادت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کئی قربانیاں کی ہیں، اپنے ہاتھ سے کئی جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کیا ہے لیکن کسی بھی صحیح یا حسن حدیث تو دور، کسی موضوع من گھڑت حدیث میں بھی یہ بات منقول نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی جانور کو ذبح کیا اور ذبح کرنے کے بعد زیر بحث دعا کا اہتمام کیا ہو اور نہ ہی کسی صحابی رسول سے زیر بحث دعا منقول ہے. 

*(2)* ذبح کے بعد کی یہ دعا من گھڑت ہے، ہمارے کسی بھائی نے اسے گھڑا ہے.
دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ یہ دعا دنیا کی کسی کتاب میں باسند موجود نہیں ہے. واللہ اعلم.

اللہ من گھڑت دعاؤں سے ہماری حفاظت فرمائے اور ثابت شدہ دعاؤں پر اکتفا کرنے اور ان کا اہتمام کرنے کی توفیق دے. آمین. 

*💓 ناشر : البلاغ اسلامک سینٹر*
08-جون-2025ء
11-ذو الحجہ-1446ھ


ہ ےےےےےے ہ  


9 ۔
سوال : 

قربانی کا جانور ذبح ہونے کے بعد کی دعا صحیح احادیث سے دعا بتلایں تو عین نوازش ہوگی ۔۔ ؟ 



جواب : 

 قربانی کا جانور ذبح ہونے کے بعد کی کوئی کسی بھی قسم کی دعاء صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے ۔

و اللہ اعلم 

طالب علم 
عزیر ادونوی 


ہ ےےےےےے ہ  


جوائن ان : 

ٹلیگرام چینل : 


واٹسپ کلوز گروپ  :  

.

منگل، 17 مارچ، 2026

احکام صدقہ فطر قیمت و اجناس د کلیم اللہ عمری مدنی

۔





پی ڈی یف 

احکام صدقہ فطر قیمت و اجناس 

مفتی کلیم اللہ عمری مدنی
( پرنسپل و مفتی جامعہ دار السلام عمرآباد )

صفحات 4

پی ڈی یف ڈاؤنلوڈ لنک :
https://telegram.me/salafitehqiqikutub/5577  




۔

ہفتہ، 21 فروری، 2026

روزہ دار ریاکار نہیں ہوتا ؟

۔



۔ ہ ﷽ ہ ۔


روزہ دار ریاکار نہیں ہوتا ؟


ہ ےےےےےے ہ


سوال : 

کیا روزہ ریاکاری سے پاک ہوتا ہے ؟ 
روزہ دار میں ریاکاری نہیں ہو سکتی ؟
جیسا کہ حدیث قدوسی 
" روزہ میرے لۓ ہے میں ہی اس کا اجر و بدلہ دوں گا" 
کا مفہوم یہی بیان کیا جاتا ہے ؟ 
وضاحت مطلوب ہے ۔



جواب : 

اس سلسلے کی حدیث کہ :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: 

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ رَبَّكُمْ يَقُولُ: 

" كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَ الصَّوْمُ لِي وَ أَنَا أَجْزِي بِهِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَإِنْ جَهِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ جَاهِلٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ ". 

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

” تمہارا رب فرماتا ہے : 
ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اگر تم میں سے کوئی جاہل کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہہ دینا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں“۔

سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 764


اس میں  " روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔" کے الفاظ کے معنی میں اہل علم کا اختلاف ہے یا یوں سمجھیں کے اہل علم نے اس کے مختلف معنی یا تشریح بیان کی ہے یا اہل علم کے مختلف اقوال ہیں جو اسی حدیث کے مختلف شروحات میں مل جائیں گے 

* اکثر اہل علم نے کہا کہ :

” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “  کا مطلب یہ ہے کہ روزہ میں ریا کاری کا عمل دخل نہیں ہے جبکہ دوسرے اعمال میں ریا کاری ہو سکتی ہے کیونکہ دوسرے اعمال کا انحصار حرکات پر ہے جبکہ روزے کا انحصار صرف نیت پر ہے ۔ 


* دوسرا قول یہ ہے کہ :  
دوسرے اعمال کا ثواب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس سے سات سو گنا تک ہو سکتا ہے لیکن روزہ کا ثواب صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ ہی اس کا ثواب دے گا دوسروں کے علم میں نہیں ہے اسی لیے فرمایا : 

«الصوم لي و أنا أجزي به» ۔
” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “

قال الشيخ الألباني: صحيح، 
التعليق الرغيب (2 / 57 - 58) ، صحيح أبي داود (2046) ، الإرواء (918)



* ایک قول یہ بھی ہے کہ : 
یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ اعمال سبھی اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں اور وہی ان کا بدلہ دیتا ہے پھر عمل وہی قبول ہوتا ہے جو خالص اللہ کی رضا کےلئے کیا گیا ہو۔
ریا اور دکھاوے کی غرض سے کیا جانے والا عمل اللہ کے ہاں ناقابل قبول ہے۔
چونکہ روزے کا تعلق نیت سے ہوتا ہے۔
اور دوسرے ظاہری اعمال مثلا نماز زکوۃ اور حج وغیرہ کی نسبت روزہ پوشیدہ ہوتا ہے اور اس میں ریا کا شائبہ بھی کم ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اس کےاجر کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اور کہا گیا کہ ” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “


* ایک قول یہ ہے کہ :
" روزہ اللہ کے لیے ہے" ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بھی عبادت روزے سے نہیں کی گئی کیونکہ کفار و مشرکین نے کسی وقت بھی معبودان باطلہ کی عبادت روزے سے نہیں کی، نیز روزہ ایک ایسا خفیہ عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا مطلع نہیں ہو سکتا۔
روزے کے پاک عمل کو ایک پاک چیز سے تشبیہ دی گئی ہے اس لۓ کہا گیا 
” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “



* ایک قول یہ ہے کہ : 
دوسرے اعمال كى طرح روزے ميں رياء كارى نہيں ہو سكتى. قرطبى ؒ كہتے ہيں: 
جب سارے اعمال ميں رياء كارى داخل ہو سكتى ہے، اور روزہ ايك ايسا فعل ہے جس پر اللہ كے علاوہ كوئى اور مطلع نہيں ہو سكتا تو اللہ تعالى نے اسے اپنى جانب مضاف كيا، اور اسى ليے حديث ميں فرمايا:

" وہ ميرى بنا پر اپنى شہوت ترک كرتا ہے "



* ایک قول یہ ہے کہ :
ابن جوزى ؒ كہتے ہيں:

سب عبادات كرتے وقت ظاہر ہو جاتى ہيں، اور بہت ہى كم ايسى ہيں جن ميں رياء كا شائبہ نہ ہوتا ہو ، يعنى ہو سكتا ہے اس ميں رياء شامل ہو ، ليكن روزہ ايسا عمل ہے جس ميں رياء كارى كا شائبہ بھى نہيں .  



* ایک قول یہ ہے کہ :

" روزہ ميرے ليے ہے "

اس فرمان كا معنى يہ ہے كہ ميرے ہاں سب سے محبوب ترين اور مقدم عبادت يہى روزہ ہے.

ابن عبد البر كہتے ہيں: 
باقى سب عبادات پر روزے كى فضيلت كے ليے " روزہ ميرے ليے ہے " كہنا ہى كافى قرار ديا .

اور امام نسائى ؒ نے ابو امامہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم روزے ركھا كرو، كيونكہ اس كى مثل كوئى اور عمل نہيں "

سنن نسائى حديث نمبر ( 2220 ) علامہ البانى ؒ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.



* ایک قول یہ ہے کہ :
يہاں پر شرف اور عظمت كى اضافت ہے، جیسے بيت اللہ، كہا جاتا ہے ، حالانكہ سارى مساجد تو اللہ كى ہيں ہى ليكن بيت اللہ كى اضافت شرف و عظمت كى اضافت ہے . 



* ایک قول یہ ہے کہ :  
زين بن منير كہتے ہيں :  
اس طرح كے سياق ميں عمومى جگہ ميں تخصيص سے عظمت و شرف كے علاوہ كچھ سمجھا نہيں جا سكتا.
۔۔۔ وغیرہ 


خلاصہ :

حقیقی مفہوم و معنی تو اللہ ہی جانتا ہے ہمارے ناقص علم میں دلائل کی رو سے سب سے صحیح بات یا مفہوم اس حدیث کا جو معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ :

” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “ کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ روزہ دار میں ریاکاری نہیں ہو سکتی ، ایسا نہیں ہے بلکہ ریاکاری ہو سکتی ہے روزے دار میں بھی ، کیوں کہ نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ :

وعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ :  
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُول :
 
من صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ 
وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ 
وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ۔

شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں : 
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : 

”جو شخص دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، 
جو شخص دکھلاوے کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، اور 
جو شخص دکھلاوے کی خاطر صدقہ کرتا ہے تو اس نے شرک کیا ۔ “ 
 
اسنادہ حسن، رواہ احمد ۔  
[مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5331]
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

معلوم ہوا کہ عبادت روزہ میں بھی دیگر عبادات کی طرح روزہ رکھنے کا عمل کرنے والے میں بھی ریاکاری ہو سکتی ہے 

اور مؤمن کے تمام عبادات و نیک اعمال اللہ ہی کے لئے ہوتے ہیں ، فرمان الہی ہے :
 
قل إن صلاتي و نسكي و محياي و مماتي لله رب العالمين ۔۔۔
سورہ انعام 6 : 162 

ترجمہ : 
آپ کہئے کہ میری نماز اور میری قربانی، اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔ 
سورۃ نمبر 6 الأنعام
آیت نمبر 162

تو یہ جو کہا گیا ہے کہ :
” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “
یہ دراصل روزہ کی شان عظمت و فضیلت ظاہر کرنے کے لۓ کہا گیا ہے جیسے مثلا ماہ محرم کو بطور شان و عظمت و فضیلت کے   " شھر اللہ ۔۔۔ "   " اللہ کا مہینہ "   کہا گیا ہے ، جب کہ تمام ہی مہینے اللہ ہی کے ہیں ، ماہ محرم کو خاص کر کہنا بطور شان و عظمت و فضیلت کے ہے ۔

و اللہ اعلم  

طالب علم  
عزیر ادونوی 


ہ ےےےےےے ہ

جوائن ان : 


۔

پیر، 16 فروری، 2026

منہج بلڈوزر انڈ کمپنی

۔





منہج بلڈوزر انڈ کمپنی

ان کی سلفیت خود ساختہ ہے  

بے پیندے کے لوٹے ہیں  

سنجیدہ جواب بھی دیں گے مخنث بن کر بلاک کر دیں گے  

من چاہی کتب ، سلفیت کے نام پر پیش کریں گے 

جو من چاہی نہیں ہونگے ان کتب سلف کو اپنی جوتی کی نوک پہ رکھیں گے

من چاہی مؤقف کے اثبات کے لۓ متقدمین سلف کے اقوال لے لیں گے متاخرین سلف کے اقوال روندیں گے اور اس کے رد میں من چاہی استدلال لائیں گے

اور کبھی من چاہی مؤقف کے اثبات میں متاخرین سلف کے اقوال پیش کر متقدمین سلف کے اقوال کو روندیں گے اور اس کے رد میں من چاہی استدلال لائیں گے 

کبھی من چاہا تو قرآن و حدیث کو اقوال سلف پر ترجیح دیں ، تو کبھی من چاہا تو قرآن و حدیث پر اقوال سلف کو ترجیح دیں 

یہ سب علمی لبادے اور سلفیت کا رنگ دے کر کیا جا رہا ہے ، خود ساختہ سلفیت کے یہ گل و رنگ ہیں ان کے ۔

ان منہج میں بالغ بردرس کی خود ساختہ سلفیت پر چلیں تو نبی اور صحابہ بھی جو کہ سلفیت  کی اساس ہیں وہ بھی سلفیت سے خارج ہو جاتے ہیں ۔
نعوذ باللہ

صرف منہجی بالغ بردرس انڈ کمپنی ہی سلفیت پر باقی رہ جاتی ہے ۔
لا حول ولا قوة إلا بالله العظيم 

یہ دھیرے دھیرے پوری جماعت کو مونڈ کے رکھ دیں گے 

نہ صرف جماعت بلکہ پوری سلفیت اور صغار کبار سبھی سلفی علماء و اداروں کو بھی مونڈ کے رکھ دیں گے ، ان کا اگر بس چلے ۔



ہ ےےےےےے ہ
ہ ےےےےےے ہ


۔ ہ ﷽ ہ ۔ 


خارجیت زدہ!! 

ہرگز نہ خورد آب زمینے کہ بلند است
كل إناء يترشح بما فيه

تحریر.........🖋️📒 فیصل عادؔل


صحیح بخاری میں دیکھیں 
بَاب: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ /الحجرات: ٩/.فَسَمَّاهُمُ الْمُؤْمِنِينَ
امام بخاری کہتے ہیں کہ دو گروہ جو سخت خون ریزی (قتال) میں ملوث ہیں انھیں مؤمنین ہی کہا گیا ہے۔ یعنی مرتکبِ کبیرہ کافر نہیں ہوجاتا ہے ۔
خوارج گرچہ قرآن پڑھتے تھے مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں جاتا تھا یعنی اس کی تشریح، تفہیم اور تطبیق اور علم میں پختہ نہیں تھے اسی وجہ سے عقدی انحراف کے شکار ہوے۔ يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، ويقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ (رواہ البخاری ٧٥٦٢) 

🔴خوارج اپنی شدت پسندی کے سبب ہر مرتکبِ کبیرہ میں ایمان کی کچھ رمق نہیں دیکھ پاتے تھے اس لیے ارتکابِ کبیرہ کسی سے ہوجائے تو کافر ٹھہرا دیتے تھے اور ان کے قتل کو واجب سمجھتے تھے ۔ ان معصیت کاروں کے ساتھ کافروں جیسا معاملہ کیا جاتا تھا۔ اور دین کے نام پر شدت اور انتہا پسندی ان میں در آئی تھی۔ ان کی نظر میں ایمان کے دعویدار ہیں تو کبیرہ گناہ نہ کریں ۔ کبیرہ گناہ یعنی خدا کے احکامات کی نافرمانی کرکے بھی کیسے کوئی مؤمن رہ سکتا ہے؟ یہ ان کا بنیادی فہم تھا۔ دین داری کے نام پر شدت کرتے ہوئے بظاہر ایمان کے تحفظ کے لئے انھوں نے یہ منہج سلف سے انحراف کر کے غلط عقیدہ بنا لیا تھا۔

🟢ہمیشہ سے سلفی اور اہلِ سنت(مختلف مکاتب ومسالک) کے علماء نے خوارج کے اس تکفیری عقیدے کی تردید کی ہے ۔اور قرآن و سنت کی مخالفت پر مبنی مانا ہے۔ اور کہا کہ صحیح عقیدہ سے انحراف ہے اور انتہا پسندی پر مبنی عقیدہ ہے ۔
🔻یہاں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ سے میرا سوال یہ ہے کہ تمھارے مزاج اور منطق کے مطابق جن علمائے سلف نے خوارج پر رد کیا ہے کیا وہ مرتکبِ کبیرہ (معصیت کاروں) کے سہولت کار ہوے؟ کیا وہ کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے گنجائش نکالنے والے ہوے؟ ان عاصیوں اور خطاکاروں کے ساتھ مداہنت کرنے والے ہوے؟ کیا وہ دلی طور پر چاہتے تھے کہ لوگ خوب معصیت کریں کیونکہ ہم تو خوارج پر رد کر کے گناہ کی سنگینی کا خاتمہ کر ہی دے رہے ہیں؟ 
یا ان علمائے سلف نے خوارج کے انحرافات کو سمجھ کر ان کا آپریشن کرنا ضروری سمجھا۔ خوارج نے دین میں اعتدال کی روش سے ہٹ کر جو انتہا پسندی کی بنیاد پر تکفیر کی روش اختیار کی تھی اس پر علمائے سلف کی جانب سے زبردست چوٹ کی گئی ۔ خوارج نے جو کتاب و سنت سے منحرف ہو کر غلط مفاہیم اخذ کیے اور لوگوں پر شدت سے تھوپنا چاہا اس کو نکارا ۔ مسئلہ عقیدہ کا تھا اس کی خرابی کی سنگینی کو دیکھ کر اس کے خلاف تحذیر تردید اور مناظرہ کیا گیا ۔
کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان علمائے سلف کو گناہوں کی سنگینی کو کمزور کرنا تھا اسی لئے انھوں نے سخت تنقید کی؟
کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ علماء بڑے گناہوں کا خاتمہ نہیں چاہتے تھے۔ یا اطاعت و معصیت میں تمییع کرنے والے تھے ۔ نعوذ باللہ 

⏪اب فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کا حال دیکھیں ۔ یہ لوگ بھی اسی انتہا پسندی کے مزاج سے شدت پسندانہ روش اپناتے ہوئے خارجیت زدہ نظر آتے ہیں اسی لیے بدعتِ غیر مکفرہ سے ہی خارجِ ملت جیسا معاملہ کے قائل نظر آتے ہیں ۔ گویا جوں ہی بدعت کا ارتکاب ہوا اس بدعت(غیر مکفرہ) کے نتیجے میں سب کارِ خیر جو دینی خدمات، عملی احکامات ارکانِ ایمان واسلام سے متعلق ان سے انجام پا رہے ہیں سب ساقط الاعتبار ہوگیا سب کی کوئی اہمیت نہیں ۔ان میں ایمان کی رمق نہیں رہی اور اسلام ان سے ایسے غائب ہو گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اب جب ان میں کوئی خیر نہیں تو وہ شرِّ محض بن کر رہ گئے ۔ اب اس شر سے کسی قسم کا تعرّض نہ کیا جائے نہ دعا نہ سلام نہ تنبیہ نہ تذکیر نہ مدارات۔ صرف واحد حل ہے بات چیت بند کر کے کلیّ مقاطعہ کر کے ان سے سیکڑوں کلومیٹر دور ہوجانا ۔اور یوں 
تقرب الی اللہ حاصل کیا جائے گا۔
فرقہ پرستی کی انتہا دیکھیں کہ اپنے مخصوص چند افراد کے علاوہ ان کی نظر میں کوئی معتمد و معتبر نہیں! ان کی رائے کا مخالف خواہ علم وفضل میں کتنوں بڑا اور درجہء کمال رکھتا ہو ان کے علمی کمالات کا اعتراف تو کجا ان کی سارے حسنات کو یک قلم رائیگاں، ساقط الاعتبار اور مردود ٹھہرا دیتے ہیں ۔ اپنے فرقے کو لے کر ان میں اتنا تعصب ہے کہ اپنے فرقہء خاص کے علاوہ دوسرے کسی شخص کا ذکر نہیں کرتے اگرچہ وہ کتنا بڑا عالم و مصنف و معلم و مقرر ہو۔ ان کے نزدیک وہی بڑا عالم اور بڑا مسلمان ہے جو ان کے فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ سے منسلک ہے۔دوسرے کی کوئی قدر وقیمت نہیں۔ ؏
کجا دانند قدرِ ما سبکسارانِ ساحلہا

🟢اور اگر کوئی کتاب و سنت اور منہجِ سلف عقیدہء صحیحہ کی روشنی میں ان کے اندر بدعات کے سبب بغض و براءت کے پہلو کے ساتھ ساتھ ایمان کی رمق دیکھ کر یہ کہے کہ اس ایمان کے حقوق اور تقاضے کے حساب سے وہ شخص دعا سلام، نصیحت وتذکیر، اور دنیوی تعامل اور شعبہ ءِایمان کی وجہ سے موالات کا استحقاق رکھتا ہے تو فوراً فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ اس لقب سے نواز دیتا ہے کہ یہ لوگ اہلِ بدعت کے سہولت کار ہیں ۔ یہ سب کا ساتھ سب کا وکاس چاہ رہے ہیں ۔صلحِ کلی والے ہیں ۔ یہ ممیّع ہیں ۔ یہ بدعت کا خاتمہ نہیں چاہتے ۔

💠گویا خوارج جس طرح کبیرہ گناہ کے صدور کے بعد اس گناہگار کے اندر ایمان کے بقا کے باوجود اس ایمان کی روشنی کو دیکھ نہیں پاتے ہیں بالکل اسی طرح فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ اپنی فرقہ واریت اور تعصب کی وجہ سے بدعت (مفسقہ) کے ارتکاب سے اس گناہ گار کے اندر موجود ایمان اور کسی بھی خیر کی روشنی نہیں دیکھ پاتے ہیں ۔

🔷خوارج نے دین پر چلنے کے لیے شدت مزاجی کے سبب انتہا پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے تکفیر کی روش اپنائی۔ 
وہیں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ  جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھائے گئے تسامح و تعایش اور اعتدال سے دوری بنا کر اپنی شدت پسندانہ مزاج کے سبب متطرف( انتہا پسند) ہو کر مفسقہ بدعت سے ہی خارجِ ملت جیسا معاملہ اپناتا ہے۔ سعودی حکومت نے ریال دے کر جو تسامح و تعایش کا پاٹھ پڑھایا اس کو یک قلم در کنار کر دینا یہ مملکت کی مالی اعانت کے ساتھ نمک حلالی ہے یا کچھ اور؟ 

👈خوارج تکفیری ہو کر انتہا پسندی کی بنیاد پر مرتکبِ کبیرہ کے کفر کا فیصلہ صادر فرما کر یہ چاہتے ہیں کہ اگر وہ مرتکبِ کبیرہ، حاکم بنا ہوا ہے تو اسے معزول کر دیا جائے اور اس کو ختم کر دیا جائے یہی ایک واحد حل ہے ۔اسی طرح فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ بدعتِ مفسقہ کے مرتکب کے متعلق یہ کہتا ہے کہ اس کو موضوعِ سخن بھی نہ بنایا جائے چہ جائیکہ اسکی تعریف کی جائے اور خدمات کا اعتراف کیا جائے ۔
گویا ان کے بقول دشمن اور کفار سے ہمیشہ برسرِ پیکار (جنگ میں ملوث) ہی رہا جائے، جبکہ شریعت میں مصالح ومفاسد کے اعتبار سے کبھی جزیہ لینے، کبھی صلح کرنے اور کبھی لڑائی کی بات آتی ہے ۔ یہ لوگ اپنی شدت پسندی کے سبب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ کہا جائے کہ مشرکین و کفار سے قتال کا حکم ہے ہمیشہ یہی بتایا جائے، صلح اور جزیہ لے کر امن و امان کے قیام کی بات نہ ہو۔

🔴 اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ انتہا پسندی کی وجہ سے جو دہائیوں سے خالص کتاب و سنت اور منہجی بنیادوں پر دعوت و اصلاح کا کام کر رہا ہے اور جس کی بڑی خدمات ہیں وہ اگر انصاف پسندی کے تحت شرعی جواز کی بنیاد پر بدعتی میں موجود اور قائم ایمان اور فضل وکمال کا اعتراف کردے اور منحرف کے انحرافات کو بھی کھول کھول کر بتا دے اس  سلفی شخص کو بھی منہجِ سلف کے تئیں لاپرواہ بتا دیتے ہیں ۔
بلکہ ساقط الاعتبار جانتے ہوے عوام کو ان سے بد ظن کرتے ہوئے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ لوگ خالص منہجی نہیں ہیں ۔ 

دیکھیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کیا کہا ہے👇
وَإِذَا اجْتَمَعَ فِي الرَّجُلِ الْوَاحِدِ خَيْرٌ وَشَرٌّ وَفُجُورٌ وَطَاعَةٌ وَمَعْصِيَةٌ وَسُنَّةٌ وَبِدْعَةٌ: اسْتَحَقَّ مِنْ الْمُوَالَاةِ وَالثَّوَابِ بِقَدْرِ مَا فِيهِ مِنْ الْخَيْرِ وَاسْتَحَقَّ مِنْ الْمُعَادَاتِ وَالْعِقَابِ بِحَسَبِ مَا فِيهِ مِنْ الشَّرِّ فَيَجْتَمِعُ فِي الشَّخْصِ الْوَاحِدِ مُوجِبَاتُ الْإِكْرَامِ وَالْإِهَانَةِ فَيَجْتَمِعُ لَهُ مِنْ هَذَا وَهَذَا  (مجموع الفتاوى ٢٠٩/٢٨)
جب کسی شخص میں خیر اور شر، نیکی اور گناہ، اور سنت اور بدعت جمع ہو جائیں، تو وہ اپنی خیر کے بقدر موالات (محبت) اور ثواب کا مستحق ہے، اور اپنے شر کے بقدر دشمنی اور سزا کا مستحق ہے۔ یوں ایک ہی فرد میں تکریم اور توہین کے اسباب جمع ہوجاتے ہیں ۔
یہ انصاف پسندی اور حق گوئی میانہ روی اور اعتدال فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کو نہیں پسند ہے۔ وہ ہمیشہ ایک انتہا پر کھڑے نظر آتے ہیں اور وہ انتہا یہ ہے کہ بدعتی کے اندر ایمان نہیں ہو سکتا ہے! 
اب جب ایمان نہیں تو اسکے نتیجے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جو استحقاق کی بات کہی ہے حقوقِ ایمان میں موالات کی بات کہی ہے وہ سلب کر لیا جاتا ہے اور تمام حالات میں مفسدت و مصلحت سے چشم پوشی کرتے ہوئے کلی مقاطعہ اور بائیکاٹ ہی واحد حل نظر آتا ہے اور یوں وہ لوگوں سے کٹ کر تقرب الی اللہ حاصل کرنے کے قائل ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ لوگ خود اہلِ بدعت سے تعامل روا رکھتے ہیں ۔ لیکن خود کریں تو صحیح اور جامعہ دار السلام عمرآباد اور وہاں کے اساتذہ پر فیصلہ دیتے ہوئے انصاف اور عدل کا دامن چھوڑ دیتے ہیں ۔ پھر بھی دعوی اور غرور بھرپور ہوتا ہے کہ منہجی تو ہم ہی ہیں ۔ باقی سب زہر کو شہد میں گھول رہے ہیں ۔سبحان اللہ سبحان اللہ 
یہ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ جو عقیدہ اہلِ سنت کے اعتدالی مزاج میں اپنا تطرف اور انتہا پسندانہ مزاج کو گھسیڑ کر جو صاف فرش کو مزید رگڑ کر کھردرا اور بدنما بھدا بنا رہے ہیں اس پر کوئی نہ بولے؟ کیا زبردستی کروانا خود کو منہج قرار دے کر اپنی بات کو ہی حق سمجھنا تعصب و انکار نہیں کہ جس کے نتیجے میں مخالفین کے فضل و کمال کا اعتراف بھی نہ کرتے ہوئے ان کے اصولِ دین کو منہدم قرار دیتے ہیں ۔ 
جبکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے (مجموع الفتاوی١٨٠/١٢)
فَ «التَّكْفِيرُ» يَخْتَلِفُ بِحَسَبِ اخْتِلَافِ حَالِ الشَّخْصِ فَلَيْسَ كُلُّ مُخْطِئٍ وَلَا مُبْتَدَعٍ وَلَا جَاهِلٍ وَلَا ضَالٍّ يَكُونُ كَافِرًا 
تکفیر کا عمل ہر فرد کی حالت کے حساب سے بدلتا ہے 
ہر خطاکار، بدعتی، جاہل، اور گمراہ کافر نہیں ہو جاتا ہے ۔
کیا ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان سب لوگوں کے لیے سہولت کاری کا مظاہرہ فرمایا ہے؟ کیا وہ صلح کلی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کرنا چاہ رہے ہیں؟ کیا وہ منہجِ سلف کی مضبوط دیوار میں روزن بنا رہے ہیں تاکہ بدعتی کی مسموم ہوائیں اندر کی فضا خراب کردے۔ 

🔴کیا عقائد کے بجائے بعض عملی احکامات میں مختلف رائے والوں کو ایمان سے خارج مان لیا جائے؟ 
فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو ان کی رائے سے متفق نہیں اس کو ساقط الاعتبار ٹھہرا دیتے ہیں ۔ عملی احکامات میں اگرچہ ان کے مخالفین کی رائے کی شرعی گنجائش موجود ہوتی ہے لیکن انھیں یہ اصرار ہوتا ہے کہ ہماری ہی بات حق ہے باقی دیگر لوگوں کی بات باطل ہے۔ اور بسا اوقات وہ مخالفین کو عملی احکامات میں دوسرا موقف اپنانے پر بدعتی کہہ کر ہجرِ مبتدع کے اصول کا سب سے آخری مرحلہ بائیکاٹ کو نافذ کردینے کے قائل ہیں اور ان سے تحذیر و تردید کرتے ہیں ۔ 
جبکہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعين میں لکھا ہے 👇
مِنْهَا أَنَّ أَهْلَ الْإِيمَانِ قَدْ يَتَنَازَعُونَ فِي بَعْضِ الْأَحْكَامِ وَلَا يَخْرُجُونَ بِذَلِكَ عَنْ الْإِيمَانِ، وَقَدْ تَنَازَعَ الصَّحَابَةُ فِي كَثِيرٍ مِنْ مَسَائِلِ الْأَحْكَامِ، وَهُمْ سَادَاتُ الْمُؤْمِنِينَ وَأَكْمَلُ الْأُمَّةِ إيمَانًا، وَلَكِنْ بِحَمْدِ اللَّه لَمْ يَتَنَازَعُوا فِي مَسْأَلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ مَسَائِلِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ وَالْأَفْعَالِ، بَلْ كُلُّهُمْ عَلَى إثْبَاتِ مَا نَطَقَ بِهِ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ كَلِمَةً وَاحِدَةً (إعلام الموقعين ٣٩/١)

ترجمہ👈ان (فوائد) میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اہلِ ایمان کے درمیان بعض احکامات (مسائل) میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس سے وہ دائرہء ایمان سے خارج نہیں ہو جاتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی فقہی احکامات کے بہت سے مسائل میں آپس میں اختلاف کیا، حالانکہ وہ مومنوں کے سردار اور پوری امت میں ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل تھے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء، صفات اور اس کے افعال کے بارے میں ایک بھی مسئلے میں اختلاف نہیں کیا، بلکہ وہ سب کے سب قرآن و سنت میں بیان کردہ حقائق کو تسلیم کرنے پر متفق اور ایک زبان تھے۔ 
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیدے میں صحابہ کا اختلاف نہیں تھا جہاں تک عملی احکامات کا تعلق ہے اس میں دلیل شرعی کی بنیاد پر محدثین کے منہج کے مطابق راجح قول پر عمل کرنا چاہیے ۔ صحیح حدیث کے سامنے اپنے مسلکی تقلید کی بنیاد پر امام کے قول کو برتر رکھ کر حدیثِ رسول کی تاویل یا اس کا انکار کرنا درست نہیں ۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے تفہیماتِ الہیہ جلد ایک صفحہ 211 میں لکھتے ہیں 
و أشهد لله بالله أنه كفر بالله ان يعتقد في رجل من الامة ممن يخطئ ويصيب أن الله كتب على اتباعه حتما وأن الواجب علي هو الذي يوجب هذا الرجل علي ولكن الشريعة الحقة قد ثبت قبل هذا الرجل بزمان قد وعاها العلماء و أداها الرواة وحكم بها الفقهاء  

 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کہتے ہیں 
میں اللہ کی جناب میں اس کی قسم کھا کر اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے کے مترادف ہے کہ امت کے کسی ایسے شخص کے بارے میں جس سے غلطی بھی ہو سکتی ہے اور جو صحیح بات بھی کہہ سکتا ہے یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ نے اس کی پیروی کرنا فرض کر دیا ہے، یا یہ سمجھا جائے کہ مجھ پر صرف وہی کام واجب ہے جسے یہ شخص واجب قرار دے۔ حالانکہ شریعتِ حقہ تو اس شخص کے پیدا ہونے سے بہت پہلے ثابت و مستحکم ہو چکی تھی، جسے علماء نے محفوظ کیا، راویوں نے آگے پہنچایا اور فقہاء نے اس کی روشنی میں فیصلے دیے۔ انتہی قول الدہلوی۔

اب اگر کوئی ہلدی کو ہی ادرک سمجھ کر کھاتا رہے گا تو یہی کہا جائے گا کہ اصل حقیقت کا ادراک نہیں ہے ۔

ایک ویڈیو میں شیخ امان جامی رحمہ اللہ کہتے ہیں :

البِدَعُ أَنْواعٌ: بِدْعَةٌ مُكَفِّرَةٌ، مَنْ عَلِمْتَ بِأَنَّهُ مُبْتَدِعٌ بِدْعَةً مُكَفِّرَةً لَا تُسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَمَنْ دُونَ ذٰلِكَ فَهُوَ مِنْ عُصاةِ الْمُوَحِّدِينَ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ.
وَمَسْأَلَةُ الْهُجْرانِ: هٰذِهِ مَسْأَلَةٌ تَأْتِي فِي النِّهايَةِ بَعْدَ الْعِلاجِ كَالْكَيِّ، لِلْعِلاجِ، آخِرُ الْعِلاجِ الْكَيُّ، كَذٰلِكَ آخِرُ الْعِلاجِ وَآخِرُ الْأَحْوالِ هُنا مَعَ الْمُبْتَدِعَةِ وَالْعُصاةِ الْهُجْرانُ آخِرُ شَيْءٍ.
تَبْدَأُ بِأَنْ تُقَرِّبَ الْعاصِيَ وَالْمُبْتَدِعَ وَتُدارِيَهُ وَتُجامِلَهُ وَتَنْصَحَهُ وَتُحاوِلَ إِصْلاحَهُ إِذا كانَ قَصْدُكَ الْإِصْلَاحَ

اس ویڈیو میں شیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ بدعت کی اقسام اور ان سے نمٹنے کے طریقے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہجر (تعلق ختم کرنا) آخری حربہ ہونا چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسے علاج میں داغنا آخری آپشن ہوتا ہے۔ اس سے پہلے نصیحت اور اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ مختصر ویڈیو کا لنک ہے👇

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شیخ امان جامی نے بھی بدعتِ مفسقہ کے مرتکب کے سلسلے میں کہا کہ مدارات، مجاملت، نصیحت کے ساتھ اصلاح کی کوشش کی جائے گی ۔ کیا وہ ہجر کی بات نہ کرتے ہوئے اہلِ بدعت کے سہولت کار قرار پاتے ہیں؟ 
کیا وہ ممیع ہیں؟ 

شیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید رحمہ اللہ نے اپنی کتاب حلية طالب العلم میں لکھا ہے 

فكن طالب علم على الجادة؛ تقفو الأثر، وتتبع السنن، تدعو إلى الله على بصيرة، عارفًا لأهل الفضل فضلهم وسابقتهم.(ص٢٠٣) 

ترجمہ 👈پس تم ایک ایسے طالبِ علم بنو جو شاہراہ (اصل راستے) پر ہو؛ جو نقشِ قدم (آثارِ سلف) کی پیروی کرے، سنتوں کی اتباع کرے، اللہ کی طرف بصیرت (علم و یقین) کے ساتھ دعوت دے، اور اہل ِفضل (اہلِ علم و کمال) کے فضل اور ان کی دین کے لیے سابقہ خدمات کو پہچاننے والا ہو۔

ایک سچے طالبِ علم کی نشانی یہ ہے کہ وہ متکبر نہیں ہوتا۔ وہ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے علما، اساتذہ اور دین کے لیے قربانیاں دینے والوں کے مقام و مرتبے کو پہچانتا ہے اور ان کا احترام کرتا ہے۔ ان کی "سابقت" (پہل کاری/خدمات) کا اعتراف کرنا اس کے اخلاق کا حصہ ہے۔
یہ نصیحت ہمیں ایک متوازن شخصیت بننے کی ترغیب دیتی ہے
 👈 علم میں پختہ (سنت اور اسلاف کے نقشِ قدم پر)۔
 👈 عمل میں مخلص (اللہ کی طرف بلانے والا)۔
 👈 اخلاق میں بلند (بڑوں اور علما کا احترام کرنے والا)۔
کیا ہم منہجِ سلف کے ان پہلوؤں پر کھرے اترتے ہیں یا حق کی دعوت دے کر سلفیت کے دائرے میں شامل کرنے کے بجائے صرف منہج بدری میں مصروف ہیں؟ اس پر ٹھنڈے دماغ سے غور و تامل کی ضرورت ہے! 

ضروری وضاحت 👈👈🔴فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے :👇

جس منہجِ سلف صالحین پر چلنے کا حکم اللہ رب العالمین نے اور نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے دیا ہے اسے ہندوستانی ماحول کے لئے مناسب نہ جاننا انسان کے اسلام و ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے 
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں "...... من اعتقد أن نظام الإسلام لا يصح في القرن العشرين...  (فهو كافر). (نواقض الإسلام ص 2)
انتہی کلام إمام الفرفة اليوسفية الشاطبة من المنهج۔

👈یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ایک عملی فرعی امر میں ان کی رائے کے خلاف جانے والے سلفی علماء کے تئیں ان کے اندر تکفیری جراثیم پنپ رہے ہیں ۔ اب یہ تبدیع سے آگے بڑھ کر تکفیر کے دائرے میں لانے کی بات کر رہے ہیں ۔ اور اس کے لیے وہ بات پیش کر دے رہے ہیں جس کا عملی فرعی حکم سے تعلق نہیں ہے  گویا دکتور صاحب وضع الشيء في غير محله کا مظاہرہ فرما رہے ہیں ۔ اور اسے نواقضِ اسلام سے جوڑنے کی سعی فرما رہے ہیں ۔عملی فرعی امور سے متعلق اپنی ہر رائے اور فیصلے کو عقائد اور توحید کے ہم پلہ قرار دے رہے ہیں اور اس رائے کے مخالفین کو کافر قرار دینے کے درپے ہیں۔ کیوں کہ کسی عالم کا قول کہیں سے بھی غث وسمین مل جائے اگر وہ مقصود سے غیر متعلق ہو تب بھی ملمع کاری کر کے پیش کردیتے ہیں اور ان کے اندھ بھکت معیارِ حق کو نہیں دیکھ پاتے ہیں یعنی امرِ مقصود کے لیے فی نفسہ وہ دلیل یا عالم کا قول حجت بن سکتا ہے کہ نہیں اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے واہ واہی کرتے ہیں کیونکہ ان میں شخصیت اور علمی ڈگری کا رعب أشربوا في قلوبهم العجل کی طرح رگ و ریشے میں پیوست کردیا گیا ہوتا ہے اور ان میں شکست خوردہ ذہنیت کے سبب اعتماد کی کمی کی وجہ سے لگتا ہے کہ ہمارے فرقہ کے امام نے جو لکھا ہے وہ تو درست ہی ہوگا۔
جبکہ جو قضیہ ہوتا ہے اس کے لیے وہ دلیل کارگر نہیں ہوتی ہے جیسے کہ اسی مسئلے کو دیکھ لیں 👇
جب ہم کسی عملی فرعی معاملے کی تطبیق میں دینی مصالح کے تحت شرعی گنجائش کی روشنی میں کوئی بات مسلم اقلیت کے تناظر میں کہتے ہیں تو اس کو نظامِ اسلام یا عقیدہ و منہج سے جوڑ کر بتانا محلِ نظر ہے۔ کیا ہم نے یہ کہا کہ منہجِ سلف کے مطابق اللہ ایک ہے کے بجائے ہم گائے کو بھی ماتا ماننے کے جواز کے قائل ہیں؟ کیا ہم بھارت کو ماتا کہہ کر اسکی پرستش کا جواز فراہم کر رہے ہیں کیا ہم عقیدے کے کسی جزئیے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ کیا ہم نے نظامِ الہی یا شرعی قواعد میں سے کسی کو ماننے سے انکار کر دیا ہے؟ 
اگر عملی فرعی معاملے (ہجر مبتدع) کے سلسلے میں فقہ الأقليات کی روشنی میں ہم نے یہ کہا کہ دینی مصالح و مفاسد کے پیش نظر ہجر یا تالیف میں سے حسبِ اقتضائے حال جو مناسب ہے وہ کیا جائے گا۔ تو کیا ہم نے کسی مسلّم عقیدہ کا انکار کر دیا؟ ہم نے یہ کب کہا کہ ہجر کبھی نہیں ہوگا یہ غیر شرعی طریقہ ہے؟
 ۔ ہم نے منہجِ سلف کے مطابق اس کو مانا ہے۔
ہم تو منہجِ سلف کے مطابق رائے رکھتے ہیں اور ہجر کے سلسلے میں وہی کہتے ہیں جو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاوی میں لکھا ہے اسی کی عملی تطبیق کی صورت ہندوستان میں پیش کر رہے ہیں جو آپ لوگوں کی زود قضائی تبدیعی، تکفیری طبیعت کو ہضم نہیں ہو پا رہی ہے 👇

وَهَذَا الْهَجْرُ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْهَاجِرِينَ فِي قُوَّتِهِمْ وَضَعْفِهِمْ وَقِلَّتِهِمْ وَكَثْرَتِهِمْ فَإِنَّ الْمَقْصُودَ بِهِ زَجْرُ الْمَهْجُورِ وَتَأْدِيبُهُ وَرُجُوعُ الْعَامَّةِ عَنْ مِثْلِ حَالِهِ. (مجموع الفتاوى ٢٠٦/٢٨)

قارئین یہ دیکھیں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے قوت و ضعف، کثرت و قلت دیکھنے اور ہجر کرنے کے مقصود پر زور دے رہے ہیں ۔ اسی کی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ جہاں ضعف ہے قلت ہے وہاں اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

اسی طرح یہ دیکھیں 👈ابن قیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعين میں لکھا ہے :

وَكَلَامُ الْأَئِمَّةِ وَالْفُقَهَاءِ هُوَ مُطْلَقٌ كَمَا يَتَكَلَّمُونَ فِي نَظَائِرِهِ، وَلَمْ يَتَعَرَّضُوا لِمِثْلِ هَذِهِ الصُّوَرِ الَّتِي عَمَّتْ بِهَا الْبَلْوَى، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِي زَمَنِ الْأَئِمَّةِ، بَلْ قَدْ ذَكَرُوا أَنَّ الْمُكْرِيَ يَلْزَمُهُ الْمُقَامُ وَالِاحْتِبَاسُ عَلَيْهَا لِتَطْهُرَ ثُمَّ تَطُوفُ، فَإِنَّهُ كَانَ مُمْكِنًا بَلْ وَاقِعًا فِي زَمَنِهِمْ، فَأَفْتَوْا، بِأَنَّهَا لَا تَطُوفُ حَتَّى تَطْهُرَ لِتَمَكُّنِهَا مِنْ ذَلِكَ، وَهَذَا لَا نِزَاعَ فِيهِ وَلَا إشْكَالَ، فَأَمَّا فِي هَذِهِ الْأَزْمَانِ فَغَيْرُ مُمْكِنٍ. 
(إعلام الموقعين ٤٥١/٣)

یہاں وجہ استشہاد آخری لائن میں کہی گئی بات ہے ۔
فَأَمَّا فِي هَذِهِ الْأَزْمَانِ فَغَيْرُ مُمْكِنٍ. 
انھوں نے عورتوں کے احوال یعنی قدرت اور مجبوری کے ساتھ ساتھ زمانے کے پیچیدہ حالات اور ظروف کا اعتبار کرتے ہوئے حیض والی عورت کے لیے حج کے طوافِ زیارت (افاضہ) کے جواز کی بات کہی ہے اور قدیم ائمہ و فقہاء کے فتووں کو موجودہ (ان کے) زمانے میں ناممکن العمل قرار دیا ہے جوکہ آج تک موافق الحال ہے۔

🟢اگر ابن باز رحمه الله کی بات کو اس عملی فرعی معاملے پر آپ چسپاں کرتے ہیں تو پھر اس پیمانے کے مطابق ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم رحمهما الله دونوں ہی کافر قرار پاتے ہیں اور ان دونوں کے اسلام و ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے ۔جیسا کہ آپ نے ابن باز رحمه الله کی بات پیش کی ہے "...... من اعتقد أن نظام الإسلام لا يصح في القرن العشرين...  (فهو كافر). (نواقض الإسلام ص 2)

ابن باز رحمہ اللہ کے اس قول کا محل دوسرا ہے اور وہ بات سید قطب جیسے لوگوں پر منطبق ہوتی ہے جو اسلامی نظام کی جامعیت کے مقابلے میں غیر اسلامی نظام کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور مغرب کی چکاچوند میں کھوجاتے ہیں اور انھیں اسلامیانے کی سعی کرتے ہیں ۔ اور غیر اسلامی نظام کو اتنا قوت فراہم کرتے ہیں کہ ان کی نظر میں وہ غیر اسلامی نظام، اسلامی تشریعی احکامات (غلامی، رجم، قطعِ ید وغیرہ) کو منسوخ کر سکتے ہیں ۔۔لا حول ولا قوة الا بالله
جبکہ اللہ نے قرآن مجید میں کہہ دیا ہے👇 
ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِینࣰاۚ(المائدة ٣)
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ (التوبة٣٣) 
معلوم ہوا کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے اس قول کا تعلق اصولی عقیدے سے ہے، نہ کہ عملی فرعی مسائل (فقہی اختلافات) سے۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے
شیخ کی یہ بات ان لوگوں کے بارے میں ہے جو سرے سے اسلامی نظام کی صلاحیت کا انکار کرتے ہیں اور اسے "فرسودہ" یا "پرانا" قرار دیتے ہیں۔ یہ کفریہ عقیدہ ہے۔ اس کے برعکس، "عملی فرعی امور" (جیسے نماز، زکوٰۃ یا دیگر معاملات کے جزئیات) میں علما کی مختلف آراء ہونا اس سے الگ معاملہ ہے ۔ جہاں دلائل کی بنیاد پر کسی حکم میں مختلف اقوال سامنے آتے ہیں ۔
احکامات کے عملی نفاذ کی حکمتِ عملی کی بنیاد پر 
کبھی کبھار لوگ کسی شرعی حکم کے نفاذ کی ترتیب یا حکمتِ عملی میں اختلاف کرتے ہیں (مثلاً کہ پہلے کون سا قانون نافذ ہو یا موجودہ حالات میں اس کی کیا صورت ہو)۔ اگر نیت اسلام کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ اسے بہتر طور پر نافذ کرنا ہو، تو یہ اس کفر کے زمرے میں نہیں آتا جس کا ذکر شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے کیا ہے۔ لا تقطع الأيدي في الغزو ایک حدیث میں بتایا گیا ہے 
الراوي: بسر بن أبي أرطأة • الألباني، صحيح الترمذي (١٤٥٠) • صحيح • أخرجه أبو داود (٤٤٠٨)، والنسائي (٤٩٧٩) بنحوه، والترمذي (١٤٥٠) واللفظ له، وأحمد (١٧٦٢٦) 

یہاں جنگ کے دوران دار الحرب میں ہاتھ کاٹنے کی ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی ہے ۔
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ لا قطع في عام المجاعة۔یعنی قحط سالی میں چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ۔
(دیکھیے تفصیلات إعلام الموقعين ١٧/٣) وغیرہ احکامات اس قبیل سے ہیں ۔فافہم وتدبر۔ 

 یہاں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب سے یہ سوال ہے کہ آپ کی منطق کے حساب سے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر بھی سوال قائم ہوگا؟ کہ اليوم أكملت لكم دينكم
اور والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما
جیسے نصِ صریح قطعی الدلالۃ کے ہوتے ہوئے انھوں نے جب لا قطع في عام المجاعة کہا تو کیا یہ سمجھا جائے گا نعوذ باللہ کہ انھوں نے کسی زمانے کے لیے اسلامی حدود میں قطع کو ناقابلِ عمل سمجھا اور درست نہیں قرار دیا؟ یا انھوں نے مزاجِ شریعت کو سمجھ کر حکم نافذ کیا؟ 

مصالحِ عباد سے متعلق امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں 
الْعِلْم بِصَحِيحِ الْقِيَاسِ وَفَاسِدِهِ مِنْ أَجَلِّ الْعُلُومِ وَإِنَّمَا يَعْرِفُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ خَبِيرًا بِأَسْرَارِ الشَّرْعِ وَمَقَاصِدِهِ؛ وَمَا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ شَرِيعَةُ الْإِسْلَامِ مِنْ الْمَحَاسِنِ الَّتِي تَفُوقُ التَّعْدَادَ؛ وَمَا تَضَمَّنَتْهُ مِنْ مَصَالِحِ الْعِبَادِ فِي الْمَعَاشِ وَالْمَعَادِ ۔
(مجموع الفتاوی ٢٠/٥٨٣)

ترجمہ◀️"درست اور فاسد قیاس (یعنی صحیح اور غلط استدلال) کی پہچان بلند ترین علوم میں سے ہے۔ اور اسے وہی شخص جان سکتا ہے جو شریعت کے اسرار و رموز اور اس کے مقاصد سے گہری واقفیت رکھتا ہو۔ نیز وہ ان خوبیوں سے آگاہ ہو جو شریعتِ اسلامیہ میں اس قدر موجود ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں، اور ان مصلحتوں کو جانتا ہو جو بندوں کی دنیاوی زندگی (معاش) اور اخروی زندگی (معاد) کے لیے اس شریعت میں پوشیدہ ہیں۔"

قرآن میں سورہ توبہ آیت 73 اور سورہ تحریم آیت 9 میں صریح نص وارد ہوا جہاں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کا حکم ہوا اور کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ شدت کا معاملہ ہو۔
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ جَـٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَـٰفِقِینَ وَٱغۡلُظۡ عَلَیۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِیرُ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کفار کے خلاف جہاد کیا ۔ جہاد بالسیف والسنان ہوا۔ کیا منافقین کے ساتھ جہاد بالسنان کیا؟ کیا ان کے سر قلم کیے گئے؟ پھر ان کے ساتھ کس نوع کا جہاد کیا گیا تھا؟ کبھی اس پر غور کیجیے! 
کیا جہاد کا حکم دونوں کے لیے نہیں تھا؟ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے منافقین کے ساتھ جہاد باللسان پر اکتفا کیا اور اللہ کے حکم سے بعد کے مرحلے میں ان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھا کر سختی کی ۔ اسکے پیچھے کیا حکمت تھی وہ ایک حدیث میں بتائی گئی ہے 👇
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا حال یہ تھا کہ جو قتل کا مستحق ہے منافق اسے مصلحت اندیشی کے سبب قتل کرنے سے رک گئے
تاکہ دشمنان اسلام یہ نہ کہنے لگیں کہ دیکھو یہ شخص تو اپنوں کو ہی قتل کر رہا ہے

صحیح بخاری  کی اس حدیث کے آخری جملہ پر غور کیجئے 
حدیث نمبر: 3518
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ثَابَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ حَتَّى كَثُرُوا وَكَانَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلٌ لَعَّابٌ فَكَسَعَ أَنْصَارِيًّا فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى تَدَاعَوْا، وَقَالَ: الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ: الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ، قَالَ: مَا شَأْنُهُمْ فَأُخْبِرَ بِكَسْعَةِ الْمُهَاجِرِيِّ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهَا فَإِنَّهَا خَبِيثَةٌ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَقَدْ تَدَاعَوْا عَلَيْنَا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَا نَقْتُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْخَبِيثَ لِعَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّهُ كَانَ يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ

کیا یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سب صحیح مان لیا کفر بھی صحیح اور نفاق بھی صحیح نعوذ باللہ! 

بطورِ خلاصہ👇
ابن باز رحمه الله کا یہ قول "...... من اعتقد أن نظام الإسلام لا يصح في القرن العشرين...  (فهو كافر). 
 ذہن نشین کر لیں کہ یہ قول ان لوگوں کے لیے ہے جو نظریاتی طور پر اسلام کو جدید دور کے لیے ناکام سمجھتے ہیں۔ جو لوگ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں لیکن کسی جزوی یا فرعی مسئلے کی تشریح میں اختلاف کرتے ہیں، ان پر اس سخت حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسلامی شریعت میں "اجتہادی مسائل" میں اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ صحیح حدیث پر عمل کی کوشش ہونی چاہیے ۔جیسا کہ اوپر آپ نے دیکھا کہ صحابہ کرام میں بھی بعض عملی احکامات ومسائل میں اختلاف تھا۔
اب اگر کوئی اصولی عقائد کے سلسلے میں میں کہی گئی بات کو مزاجی شدت پسندی کی بنیاد پر دوسری جگہ منطبق کردے تو اس کے فکر وفہم پر بجز ماتم کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ کیا کیا گل کھلائے جاتے ہیں اور کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے ۔ اسی لیے میں نے بہت پہلے لکھا تھا کہ کسی بھی عالم کے نام کے سابقے لاحقے سے مرعوب نہ ہوں۔ بالخصوص فضیلۃ الدكتور سے ۔ امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول یاد رکھیں 👇

كلٌّ يؤخذ من قوله ويُردُّ إلاَّ رسول الله ﷺ ۔
(ص ٣٦ الحث على اتباع السنة والتحذير من البدع للشيخ عبد المحسن العباد) 

اس مضمون کے آخر میں افتخار عارف کا ایک شعر پیش ہے👇

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا 
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں


۔
۔
۔
۔
۔
۔
بشکریہ 👇 

۔

ہفتہ، 14 فروری، 2026

عنایت مدنی کی بے اعتدال سلفیت اور جامعہ عمرآباد کا راہ اعتدال

۔



۔

عنایت مدنی کی بے اعتدال سلفیت اور جامعہ عمرآباد کا راہ اعتدال  

عنایت مدنی کے جھوٹ

 
🖕
اسے کہتے ہیں بھیانک سانپ
🖕
یعنی بول رہا ہے غلط ، صحیح کے انداز میں
🖕


ہ ےےےےےے ہ 


سلفیت کے برقعے میں خارجیت

یہ عنایت اور محمد رحمانی انڈ کمپنی کی حقیقت یہ ہے کہ منہج منہج ، رد اخوانیت ، رد خارجیت ہی کے لیبل  میں خارجیت ہی کا احیاء کرنا ان کا کام ہوتا ہے ۔
بدعتیوں اور دشمنان اسلام کی سہولت کاری کرتے ہیں ۔
سلفی کبار صغار علماء ، دعاة ، برادرس ، سسٹرس ، اداروں ، مجلات ، ٹی وی ، وغیرہ پر ملاحظات کے پردے میں اخوانیت ، غیر منہجی ، غیر سلفی وغیرہ جیسے ہونے کے اتہامات لگاتے ہیں ۔

عنایت مدنی وغیرہ انڈ کمپنی کے خود ساختہ سلفیت و منہج کے حساب سے سارے سلفی مجلات و پبلشرس غیر سلفی غیر منہجی بن جاتے ہیں صرف یہ اور ان کی کمپنی ہی " نحن أبناء الله و أحباؤه " کے مصداق سلفی رہ جاتے ہیں ۔


ہ ےےےےےے ہ 


جو باتیں اس مجلہ پر کہہ کر اسے منہج بدر کیا گیا ہے اس کی رو سے تقریبا تمام تر اہل حدیث مجلات کا منہج مشکوک ہو جائے گا، جریدہ ترجمان، محدث، صوت الامہ، البلاغ، نوائے اسلام، اہل حدیث ، اہل حدیث گزٹ، التوعیہ، التبیان، الفرقان، اور فلاں اور فلاں، سب مجلات کی پرانی فائلیں اٹھا کر دیکھ لیجۓ، دور کیوں جاییے، اپنے گھر کے مجلہ التوعیہ اور التبیان کی فائل اٹھا کر دیکھ لیجیے، مگر نزلہ گرے گا تو بیچارے عمرآباد ہی پر ۔ 
جمیل اختر فیضی

 

ہ ےےےےےے ہ 
ہ ےےےےےے ہ


۔ ہ ﷽ ہ ۔ 

تجھے عزیز شبِ فہم ، ردّ و کد کے سبب
ترا چراغِ نظر گل ہوا حسد کے سبب (فکرِ عادؔل) 



راہِ اعتدال کے سلسلے میں صریح جھوٹ اور الزام تراشی، پروپیگنڈے کا جائزہ 

تحریر ...... 🖋️📒فیصل عادؔل 


ہ ےےےےےے ہ 


وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَـٰذَا حَلَـٰلࣱ وَهَـٰذَا حَرَامࣱ لِّتَفۡتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِینَ یَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا یُفۡلِحُونَ ۝١١٦ مَتَـٰعࣱ قَلِیلࣱ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِیمࣱ ۝١١٧﴾ 
[النحل] 

قال ابن كثير رحمه الله 👇
وَيَدْخُلُ فِي هَذَا كُلُّ مَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَيْسَ [لَهُ] فِيهَا مُسْتَنَدٌ شَرْعِيٌّ، أَوْ حَلَّلَ شَيْئًا مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ، أَوْ حَرَّمَ شَيْئًا مِمَّا أَبَاحَ اللَّهُ، بِمُجَرَّدِ رَأْيِهِ وتشهِّيه. 

بقولِ ابن کثیر رحمہ اللہ اس میں ہر وہ بدعتی داخل ہوجاتا ہے جو دین میں کوئی نئی بات پیش کرتا ہے جس کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی ہے یا پھر اپنی خواہشات یا خالص فکری بنیاد پر اللہ کی حرام کردہ کو حلال قرار دیتا ہے۔ یا حلال شۓ کو حرام ٹھہراتا ہے۔

ایک مولانا صاحب کو جب متاعِ قلیل مل جاتا ہے تو مسجد میں عورتوں کے پروگرام کو جائز قرار دیتے ہیں اور جب مسجد کے متولیان جیب گرم نہ کریں انھیں نہ بلائیں تو وہی مولانا فتوی صادر کرتے ہوئے جسے حلال سمجھتے تھے اسے حرام قرار دے دیتے ہیں ۔ 
گویا فتوے کے درخت پر ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی کی طرف کودنا کوئی ان سے سیکھے۔

یہی صاحب اپنی بات قضیہ کو جب ٹھوس دلائل سے پیش کرنے سے عاجز آتے ہیں تو بظاہر سستی شہرت کے حصول اور قلبی منافرت، حسد کے جذبات کی شفاے صدر کے لیے موقع بہ موقع منہجِ سلف کو بطورِ ڈھال استحصال کرتے ہوئے جامعہ دار السلام عمرآباد ، وہاں کے اساتذہ اور وہاں کے مجلہ راہِ اعتدال پر لب کشائی کرتے ہوئے جھوٹی باتیں کہتے ہیں جیسا کہ ملحقہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ 

ہمارا بس یہ کہنا ہے کہ 

ولا تقف ماليس لك به علم إن السمع والبصر والفؤاد كل أولئك كان عنه مسؤولا

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسير میں عطیہ بن سعد العوفی کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا قول نقل کیا ہے👈

قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَقُولُ: لَا تَقُلْ. قَالَ الْعَوْفِيُّ عَنْهُ: لَا تَرْم أَحَدًا بِمَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۔

لا تقف مطلب لا تقل (مت کہو) ۔ اور آگے کہا لَا تَرْم أَحَدًا بِمَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ. کسی پر ایسی بات کا الزام نہ لگاؤ جس کا تمھیں علم نہیں۔

اس ویڈیو (ملحقہ) میں انھوں نے کہا کہ اس مجلہ راہِ اعتدال میں عقیدے کے باب میں سنت کے باب میں سلفیت کے باب میں ہر طرح کے مضامین ان کے عقائد کے انحراف، سنت کے انحراف کو پورے طور سے نظر انداز کرتے ہوئے سارے لوگوں کے مضامین شائع کیے جاتے ہیں مودودی، حسن بنا، سید قطب، وحید الدین اور قرضاوی جیسے گمراہوں اور منحرفين کے مضامین شائع ہوتے ہیں ۔ اور جھوٹ باندھتے ہوۓ کہتے ہیں کہ راہِ اعتدال میں ان لوگوں کے چھوٹے بڑے مضامین ملیں گے اور مسلسل ملیں گے ۔ 

یہ ویڈیو 5 جنوری 2025 کی ہے ۔ 
اس پر ایک سال ہو چکا ہے مگر اس ویڈیو کو ان دنوں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے مقلدین بہت وائرل کر رہے ہیں اس لیے اس پھیلتے جھوٹ اور پروپیگنڈے کے وائرس کا ویکسینیشن ڈوز دینا ضروری سمجھا گیا ہے تاکہ جھوٹ اور الزام تراشی کے اسہال سے افاقے کا تیر بہدف نسخہ دیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ہم ان سے پہلے بھی چیلنج کر چکے تھے کہ آپ اپنی باتوں کی دلیل کے طور پر کوئی ایک جملہ جو غلط عقیدے و سنت کے انحرافات پر مبنی ہو راہِ اعتدال میں چھپا ہو آپ دکھا دیں ۔ صرف ہوا ہوائی باتوں اور بے پرکی اڑانے سے کچھ نہیں ہوتا ۔

میرا وہ مفصل مضمون اس لنک سے دیکھیں : 

فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے نزدیک بدعتِ مفسقہ کے ارتکاب سے وہ فرد ساقط الاعتبار ہوجاتا ہے اب اس کے اندر خیر کا کوئی عنصر باقی نہیں ۔ وہ شرِ محض ہوگیا ۔ اس کی کتاب اور خدمات پر پانی پھیر دیا جائے ۔ 

قارئین! یہ بتائیں 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ اخوانی سید سابق کی فقہ السنۃ کی احادیث کی تخریج امام البانی رحمہ اللہ نے کی تھی؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن بنا کی کتاب مجاہد کی اذان کے اردو ترجمے والی کتاب کی اشاعت پر  شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ نے تعریف و توصیف کے پل باندھے تھے؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ یوسف قرضاوی کی کتاب الحلال و الحرام کی احادیث کی تخریج امام البانی نے کی تھی؟

💠 کیا یہ صحیح نہیں کہ یوسف قرضاوی کی کتاب الحلال والحرام کا اردو ترجمہ 
 سب سے پہلے مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ نے دار السلفية سے چھپوا کر سارے ہندوستان میں مفت تقسیم کی؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ ایک اخوانی (عبد العزيز کامل) کی کتاب سے متاثر ہو کر اخوانیت کو پروموٹ کرنے کے لیے ترجمہ کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تھے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہجومِ اشغال کی وجہ سے وہ یہ کام نہ کر سکے ۔ پھر مولانا عبد المجید اصلاحی صاحب نے ترجمہ کیا تو جمعیت اہل حدیث نے شائع کیا؟

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ صوفی سرغنہ وحدت الوجود بدعتی خواجہ حسن نظامی کے مضامین شوق سے پڑھتے تھے اور ادارتی نوٹ کے ساتھ شائع کرتے تھے اور ان کے اسلوب کے بانکپن کے قتیل تھے؟ 

💠  کیا یہ سچ نہیں کہ استخفاف حدیث کرنے والے الطاف اعظمی کی کتاب توحید کا قرآنی تصور کی ترویج و اشاعت اور فروخت کا کام جامعہ سنابل کی طرف سے انجام پایا تھا؟ 

💠 کیا رشید رضا مصری اپنے انحرافات کے باوجود مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ نے ان کی تعریفوں کے پل نہیں باندھے تھے؟ جن کے نیچے سے منہجی غیرت کا آبِ زر بہہ گیا تھا؟ 

اگر ان منحرفين کی تحریروں میں سے جو کتاب و سنت کی روشنی میں درست بات ان کی کتاب میں ایک بھی نہیں ہوتی تو ان علماء نے ان کی کتابوں کی تخریج و ترجمہ وغیرہ پر وقت صرف کرنا کیوں گوارا کیا؟  

💠 کیا جامعہ سنابل میں غبار ِ خاطر جیسی کتاب موجود ہے کہ نہیں؟ جس میں موسیقی کو خوشنما بنا کر مفصل مکتوب مولانا آزاد رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نہیں ؟ جنھیں پڑھ کر ایک صاحب نے موسیقی کو روح کی غذا تک لکھ ڈالا ۔

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ جامعہ سنابل کے تحت تفہیم القرآن کے نسخے فروخت کیے گئے؟ 

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن سلفی علماء نے ان منحرفين کی کتابوں سے تقارب و تواجہ کیا اور نشر و ترجمہ و تخریج وغیرہ میں گراں قدر وقت صرف کیا وہ منہج بدر ہوۓ کہ نہیں؟ 

کیا منہجی لاپرواہی ان میں بدرجہءِ اتم موجود تھی کہ نہیں ؟
وہ صلحِ کلّی والے ہوۓ کہ نہیں 
وہ ممیّع ہوۓ کہ نہیں؟ 
وہ سب کا ساتھ سب کا وکاس چاہنے والے اور اہلِ بدعت کے سہولت کار ہوۓ کہ نہیں؟ 

اگر منحرفين کی کتاب میں کوئی بات اچھی نہیں ان کی کتاب سے درست اقتباس تک نقل کرنا جائز نہیں تو اس نام نہاد چھلنی اور معیار پہ تو مملکت سعودی عرب کے سب سے بڑے مفتی شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ بھی نہیں اترتے ہیں ، 
انھوں نے بھی اپنی ایک کتاب میں اپنے قول کی تائید میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن کے کئی اقتباسات نقل کیے ہیں۔ 

وقلیل منک یکفیني ولكن 
قليلك لا يقال له قليل 
کے مصداق 

کیا وہ کتاب لکھتے وقت غیر منحرف علماء کی کتابوں سے استفادے کرتے تھے؟ 
اور کیا وہ سید قطب کی تفسیر سے مستغنی نہیں ہو سکتے تھے؟ 
آخر ایسی کیا ضرورت آ پڑی تھی کہ اس سے کئی جگہ پر اقتباسات نقل کرتے ہیں؟ 

ان منحرفين کی کتابوں کے پڑھنے، اقتباسات اٹھانے، ترجمہ کرنے اور ان کی نشر و اشاعت کے باب میں ان کے سامنے کیا اصول موجود تھا؟ 

کیا وہ خذ ما صفا ودع ما کدر کا اصول تھا؟ 
یہ تو فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے نزدیک باطل اصول ہے 

پھر شیخ فوزان حفظہ اللہ نے اقتباس نقل کیا تو وہ صحیح، مگر راہِ اعتدال میں کسی غیر سلفی کی قرآن و حدیث کی روشنی میں لکھی گئی درست اور منہجی بات کیوں درست نہیں؟ 

یہ دوہرے معیار اور دو پیمانے کیوں ہیں؟ 

واضح رہے کہ ہم ان منحرفين کی ہر بات درست نہیں مانتے ہیں بلکہ ہمارے سامنے بھی ملاحظات ہیں ۔ 

بس آئینہ دکھا دے رہے ہیں تاکہ دوہرے معیار والے اس میں اپنا سراپا دیکھ لیں۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کچھ بات تو ضرور ہے ورنہ بار بار اسی جامعہ دار السلام عمرآباد پر کیوں سوال اٹھایا جاتا ہے؟ 

اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت کسی بات پر سوال اٹھائے تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان کا قضیہ اور قول درست ہی ہو! 

کیا ہم نہیں دیکھتے کہ مسلمانوں کے دین، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی، اسلام، قرآن، جہاد پر لوگ بار بار سوال اٹھاتے ہیں؟ 

اس سے کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اسلام میں کچھ تو گڑبڑ ہے دال میں کالا ہے نعوذ باللہ؟ 

کیا ہندوستان میں مسلمانوں کو حب الوطنی کے ثبوت بار بار نہیں مانگے جاتے ؟

کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہوگا کہ کچھ تو خرابی ہے مسلمانوں کی حب الوطنی میں؟ 

کیا آئے دن اہلِ اسلام پر دہشت گردی کے الزامات نہیں لگائے جاتے ہیں؟ 

معترض کی منطق کے حساب سے کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ کچھ تو گڑ بڑ ہے نعوذ باللہ؟ 

کیا کسی بے خبر، لاعلم اور دشمنی میں مبتلا شخص کی دشمنی پر مبنی رائے اور جھوٹ کی بنیاد پر کسی ادارے کے تعلق سے بدظن ہو جانا اور منہج بدری کا ٹھپہ لگانا اور اخوانیت و مودودیت کا مدرسہ ٹھہرانا مناسب ہوگا؟ 

کیا یہ بلاثبوت مانگے ٹھوس دلیل کے بغیر ہی بات مان لینا تقلید نہیں؟  

کیا سلفیوں میں یہ تقلیدِ اعمی کی بدعت سرایت کر چکی ہے اسے تسلیم شدہ حقیقت مان لیا جائے؟ 

کیا اکثریت کی رائے ہمیشہ سچ ہوتی ہے؟ 

قرآن دیکھیے کیا کہتا ہے : 
وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِی ٱلۡأَرۡضِ یُضِلُّوكَ عَن سَبِیلِ ٱللَّهِۚ إِن یَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا یَخۡرُصُونَ ۝١١٦ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ مَن یَضِلُّ عَن سَبِیلِهِۦۖ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِینَ ۝١١٧﴾ 
[الأنعام ١١٦-١١٧] 

یہاں کثرت کی بنیاد پر حق ماننے والوں کے متعلق ہے کہ اگر ان کی بات مانیں گے تو وہ تمھیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے 

دوسری آیت میں بتایا گیا ہے 

وَمَا یُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ ۝١٠٦

لوگوں کی اکثریت اللہ کے ساتھ شرک میں مبتلا ہیں ۔

سورہ یوسف میں کہا گیا ہے :

وَمَاۤ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِینَ 

ایک جگہ کہا گیا ہے :

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحࣰا وَإِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ وَجَعَلۡنَا فِی ذُرِّیَّتِهِمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَـٰبَۖ فَمِنۡهُم مُّهۡتَدࣲۖ وَكَثِیرࣱ مِّنۡهُمۡ فَـٰسِقُونَ ۝٢٦ 

آخر میں دیکھیں 
ہدایت یافتہ کچھ ہی لوگ ہیں اور بیشتر فاسق ہیں بتایا گیا ہے ۔

ایک جگہ بتایا گیا 
 ٱعۡمَلُوۤا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرࣰاۚ وَقَلِیلࣱ مِّنۡ عِبَادِیَ ٱلشَّكُورُ ۝١٣﴾ 

شکر اور اطاعت کے جذبے سے سرشار ہو کر عمل کرتے جاؤ ۔ بہت کم بندے شکر گزار ہیں ۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں کہا گیا ہے :

حَتَّىٰۤ إِذَا جَاۤءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلۡنَا ٱحۡمِلۡ فِیهَا مِن كُلࣲّ زَوۡجَیۡنِ ٱثۡنَیۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَیۡهِ ٱلۡقَوۡلُ وَمَنۡ ءَامَنَۚ وَمَاۤ ءَامَنَ مَعَهُۥۤ إِلَّا قَلِیلࣱ﴾ 
[هود ٤٠]

آیت کے آخری ٹکڑے پر نظر ڈالیں کہا گیا ہے کہ ساڑھے نو سو سال سے زائد دعوت کے باوجود بڑی قلیل تعداد میں لوگوں نے ایمان قبول کیا تھا۔

ایک جگہ کہا گیا ہے :

قُل لَّا یَسۡتَوِی ٱلۡخَبِیثُ وَٱلطَّیِّبُ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِیثِۚ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ یَـٰۤأُو۟لِی ٱلۡأَلۡبَـٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ۝١٠٠ 

خبیث چیزوں کی کثرت تمھیں حیرانی (تعجب) میں ڈال سکتی ہے مگر طیب کے مقابلے میں اسکی کوئی وقعت نہیں ۔ اور یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔

مضمون کے اختتام پر ایک شعر پیش ہے

تمنا سربلندی کی ہمیں بھی تنگ کرتی ہے
مگر ہم دوسروں کو روند کر اونچا نہیں ہوتے

بشکریہ : 

۔