اتوار، 1 فروری، 2026

ماہ شعبان اور من گھڑت رسوم و بدعات افروز عالم سلفی

۔

۔

ماہ شعبان اور من گھڑت رسوم و بدعات 

افروز عالم بن ذکراللہ سلفی ،گلری

ہ ےےےےےے ہ


۔ ہ﷽ ہ ۔


ماہ شعبان بڑی عظمت والا مہینہ ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اس لیے مسلم ہے کہ یہ ماہ رمضان کے مقدس و متبرک مہینہ کے لیے گویا بطور تمہید ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں رمضان کو چھوڑ کر بقیہ مہینوں کی بنسبت زیادہ روزے رکھتے تھے۔
 
ماہ شعبان کو چار حرمت والے مہینوں میں شمار کرنا درست نہیں ،اس پورے مہینے میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے جس عبادت کا خاص طور پر اہتمام کیا وہ "روزہ "ہے ۔ کسی ایک دن کے ساتھ اس کو خاص نہیں کیا اور نہ ہی اس مہینے کے کسی ایک دن کے روزے کی کوئی فضیلت بیان کی۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ _"كانَ أحبَّ الشُّهورِ إلى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ أن يصومَهُ شَعبانُ ، بل كانَ يصلُهُ برَمضانَ" ( أخرجه أبو داود (2431)، والنسائي (2350) واللفظ له، وأحمد (25548) وصححه الألباني رحمه الله فى صحيح ابى داود
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزوں کے لئے سب سے محبوب مہینہ شعبان تھا پھر آپ شعبان  کے روزوں کو رمضان المبارک کے روزوں سے جوڑ دیتے تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے اکثر ایام روزے سے ہوتے تھے ۔
لھذا امت مسلمہ کو بھی ماہ شعبان کے اکثر روزے رکھنے چاہیے نیز کچھ ایسی بھی روایات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن اپنے گزشتہ رمضان کے چھوڑے ہوے قضا شدہ روزے ماہ شعبان میں رکھتی تھیں ،پس جو خواتین رمضان کی قضا شدہ روزے ماہ شعبان سے قبل ادا نہ کرسکیں تو وہ لازماً ماہ شعبان میں ادا کریں تاکہ نئے رمضان سے قبل وہ اس فریضے کو انجام دے سکیں ۔

شعبان کے پندرہویں رات کی شرعی حیثیت:-
شعبان کے پندرہویں رات کے تعلق سے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ؟؟
اس سلسلے میں وارد احادیث ضعف اور وضع سے خالی نہیں ،صرف ایک حدیث جو گرچہ طعن سے خالی نہیں ہے مگر علامہ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کے سارے طرق ملانے کے بعد درجہ استناد کو پہنچتی ہے ۔
حدیث:-"( إنَّ اللَّهَ ليطَّلعُ ليلةِ النِّصفِ من شعبانَ فيغفرُ لجميعِ خلقِه إلَّا لمشرِك أو مشاحِنٍ") (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ 136/03 حدیث نمبر : 1144)
اس کے علاوہ جتنی احادیث ماہ شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت میں بیان کی جاتی ہیں اور انھیں اخبارات اور محفلوں کی زینت بنایا جاتا ہے وہ سب انتہائی کمزور بلکہ من گھڑت ہیں ۔

مذکورہ بالا حدیث میں پندرہویں شعبان کی فضیلت دوسری راتوں کے مقابلے میں بالکل ثابت نہیں ہے اس لیے کہ صحیحین کی حدیث کے مطابق ایسا بلکہ اس سے زیادہ فضیلت ہر رات کی توبہ و استغفار کو حاصل ہے ۔

چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:-"
يَنْزِلُ رَبُّنا تَبارَكَ وتَعالَى كُلَّ لَيْلةٍ إلى السَّماءِ الدُّنْيا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ، يقولُ: مَن يَدْعُونِي، فأسْتَجِيبَ له؟ مَن يَسْأَلُنِي فأُعْطِيَهُ؟ مَن يَستَغْفِرُني فأغْفِرَ له؟"
أخرجه البخاري (1145)، ومسلم (758)، وأبو داود (1315)، والترمذي (446) واللفظ له، والنسائي في ((السنن الكبرى)) (10310)، وابن ماجه (1366)، وأحمد (7792).

وفی روایۃ لمسلم:-("فلا يزالُ كذلِكَ حتَّى يضيءَ الفجرُ")

ہمارا رب جو بابرکت اور بلند والا ہے ہر رات کا جب تہائی حصہ باقی ہوتا ہے تو وہ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے پھر کہتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟؟
اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کروں ؟؟
اور کون ہے جو مجھ سے معافی طلب کرے تو میں اس کو معاف کردوں ؟؟

صحیح مسلم کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ:" پھر وہ بدستور اسی طرح رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاۓ۔"

اس صحیح حدیث کی روشنی میں یہ فضیلت ہر رات کو نصیب ہوسکتی ہے ۔
لہذا اسے شعبان کی پندرہویں رات کے ساتھ خاص کرنا یقیناً غلط اور حدیث نبوی کے مفہوم سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ:- 
جو لوگ اس رات کی خصوصی فضیلت کے قائل ہوکر اس میں قیام نماز کا اہتمام کرتے ہیں وہ سورہ" الدخان" کی آیت کریمہ" انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ" میں "لیلۃ مبارکۃ" سے پندرہویں شعبان کی رات مراد لیتے ہیں جب کہ اس سے مراد "شب قدر " ہے ،اور اس کی تائید سورۃ القدر کی آیت " انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" سے ہورہی ہے ۔
جمہور علماء کی یہی راۓ ہے کہ اس سے مراد شب قدر ہے نہ کہ شعبان کی پندرہویں رات
کیونکہ قرآنی توضیح کے مطابق نزول قرآن رمضان میں ہوا تھا نہ کہ شعبان میں لہذا لیلۃ مبارکۃ سے "شب قدر" ہی مراد لی جاسکتی ہے ۔( تفسیر ابن کثیر 245/06, فتح القدیر 298/04)۔


ماہ شعبان رسوم و بدعات:-

(1) شب برات کا اہتمام:- 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس رات گناہ بخشے جاتے ہیں ،اسی کو بنیاد مان کر بعض غلو پسند حضرات رات گزار کر بلند آواز سے دعائیں کرتے ہیں ان دعاؤں کو لوگوں نے از خود گڑھ لیا ہے، قبروں کی زیارت کرتے ہیں جب کہ اس رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مخصوص عمل ثابت نہیں ہے ۔
(لطائف المعارف 139/01)

(2) حلوہ بنانا :-
پندرہویں شعبان کو حلوہ بنانا اس مناسبت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید ہوگیا ،اس لیے آپ کو حلوہ کھلایا گیا،اس لیے ہم بھی اسی کی یاد میں ایسا کرتے ہیں ۔
اولا تو یہ حدیث موضوع و من گھڑت ہے لیکن اگر یہ بات تسلیم کرلیں کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہونے کی وجہ سے حلوہ پکایا جاتا ہے تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک جنگ احد شوال المکرم سن ٣/ ہجری میں شہید ہوے تھے نہ کہ پندرہ شعبان کو ۔
اور ماہ شوال میں کوئی حلوہ نہیں پکاتا ،لہذا شب برات کو مخصوص عمل سمجھ کر حلوہ پکانے کا اہتمام کرنا درست نہیں ہے۔
بہرحال حلوہ صحت بخش اور مقوی غذا ہے ،انسان کو میسر ہو تو اسے روزانہ کھانا چاہیے ،حلوہ کھانے پکانے کے لئے کوئی دن خاص کرنا اور اسے کار ثواب سمجھنا صحیح نہیں ہے۔
یہ کون سی محبت اور کون سی اتباع نبی ہے ۔ کسی نے سچ کہا :-
کسی کو زخم لگے کھاۓ دوسرا حلوہ
یہودیوں کی طرح یہ ہے من و سلوی

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وتابعین وبزرگان دین کے عمل میں کہیں حلوہ خوری کا تذکرہ نہیں ہے لہذا ہر بندہ مومن کو اس عمل سے احتراز کرنا چاہئے ۔

(3) چراغاں و آتش بازی :-
اسی طرح پندرہویں شعبان کے موقع پر روشنی و چراغاں کرتے ہیں یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے ۔ مساجد کے لئے اہتمام کے ساتھ ضرورت سے زائد روشنی کا انتظام کیا جاتا ہے جب کہ شریعت اسلامیہ میں کوئی بھی ایسی دینی مناسبت نہیں ہے جس میں کبھی رسول یا صحابہ کرام یا خلفاء راشدین نے معمول سے زائد روشنی کی ہو ۔

اسی طرح اس رات کو مساجد میں آوازیں بلند کی جاتی ہیں جو ناقوس نصاریٰ کے مانند ہوتی ہیں اور مساجد میں حلقہ بناکر" لا الہٰ الا اللہ" کے بجائے" لایلاہ یلله" کا ورد کرتے ہیں اور دین کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں ۔ (المنکرات ص:76, الابداع فی مضار الابتداع ص:289)

(4) ہزاری نماز :-
پندرہویں شعبان کی رات میں جو نماز پڑھی جاتی ہے" صلاۃ الفیہ" سے معروف ہے جس کے معنیٰ ہزار رکعت والی نماز ہے ،اس ماہ کی پندرہویں شب کو ہزاروں مرد و عورتیں "صلاۃ الفیہ" پڑھتے ہیں ۔ سو رکعت نماز پڑھتے ہیں جس کی ہر رکعت میں " سورۃ الاخلاص" دس دفعہ پڑھنا ہوتا ہے ،تو اسی طرح سورۃ الاخلاص سو رکعت میں ایک ہزار دفعہ پڑھا جاتا ہے اس لیے اس نماز کو "صلاۃ الفیہ" کہتے ہیں ۔(البدع الحولیۃ،ص: 299, المجموعہ للنووی 56/04)

دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد خلافت راشدہ میں اس کا ثبوت نہیں ملتا ،بلکہ قرون مشھود لھا بالخیر(صحابہ،تابعین،تبع تابعین) کے دور میں بھی اس کا وجود نہیں تھا ۔ اس بدعت کو ابن أبی الحمراء جونابلس فلسطین کا تھا سن 448/ ہجری میں ایجاد کیا ۔
ہزاری نماز کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھی اور نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وہ نماز ادا کی اور نہ بعد کے ادوار میں ائمہ سلف صالحین نے ادا کی ۔ ( فتاویٰ لابن تیمیہ 131/23, و اقتضاء الصراط المستقیم 628/02)

(5) زیارت قبور:-
قبرستان جانا اور مردوں کے لئے مغفرت کی دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ رہی ہے وہ کسی بھی دن کسی وقت قبرستان جایا کرتے اور دعا کرتے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیوں کے لئے بھی قبرستان کی زیارت کرنے کے لیے کہا ، مقصد یہ تھا کہ زیارت قبور موت کو یاد دلاۓ اور دنیا سے بے رغبتی کا جذبہ پروان چڑھاۓ۔

لیکن پندرہویں شعبان کی رات میں قبرستانوں کو سجا سنوار کر رکھنا اور قافلہ کی شکل میں ان کی زیارت کے لئے جانا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ آدمی جب چاہے قبرستان جاۓ اور دعاء مغفرت کرے ۔
ہاں صحیح حدیث میں آخر شب میں جانا نبوی طریقہ ہے اس لیے رات کے آخری حصے میں جانا ہی مسنون ہے، اس کے لیے کوئی خاص رات اور ہر خاص شکل وہییت ثابت نہیں ہے ۔
جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں پندرہویں شعبان کی رات میں مردے اپنے اپنے قبروں میں اپنے رشتے داروں ،اعزہ و اقارب کا انتظار کرتے ہیں ،جن کے رشتے دار وہاں پہونچ جاتے ہیں وہ خوش ہوجاتے ہیں اور جن کا عزیز یا رشتے دار نہیں پہونچتا تو وہ بہت دکھی ہوتے ہیں بلکہ دوسرے مردوں کے سامنے بہت شرمندہ ہوتے ہیں ،اس طرح کا عقیدہ باطل اور لغو ہے،شریعت مطہرہ میں ثابت نہیں ہے ،احادیث صحیحہ کے ذخیرے میں اس کا ادنیٰ ثبوت بھی نہیں ہے ۔(تلبیس ابلیس لابن الجوزی ص:429، احکام الجنائز ص: 358)

اگر پندرہویں شعبان کی رات میں زیارت قبور کی اس قدر اہمیت ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چپکے سے قبرستان نہیں جاتے بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو مطلع کردیتے اور اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ترغیب دلاتے کہ اس رات میں وہ بھی قبرستانوں کی زیارت کیا کریں ،لیکن احادیث میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ملتی ۔

اس رات میں تمام سنن کو چھوڑ کر قبروں کی زیارت کرنا بھی مسنون نہیں ہے ۔صحیح یا ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہے۔

(6)روحوں کی آمد کا یقین :-
اس رات میں مردے کی روحوں کی آمد و حاضری کا عقیدہ رکھنا،ان کے لیے گھروں کو صاف کرنا،دیواروں کو ان کی تکریم کے لئے لیپ کرنا اور ان کی ضرورت کے لئے اس میں چراغاں کرنا یہ تمام امور بدعت وگمراہی میں سے ہیں ۔( مرعاۃ المفاتیح 342/04)

(7) روح ملانے کا ختم:-
بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جو شخص شب برات سے پہلے مرجاتا ہے اس کی روح روحوں میں نہیں ملتی بلکہ آوارہ بھٹکتی رہتی ہے اس لیے روح کو روحوں میں ملانے کے لیے امام مسجد کے ذریعے ختم دلایا جاتا ہے ،عمدہ قسم کے کھانے ،میوے ،پھل فروٹ،قیمتی کپڑے مجلس میں رکھ کر امام مسجد ختم پڑھتے ہیں اور امام صاحب سب کچھ سمیٹ کر گھر لے جاتے ہیں ،میت کے گھر والے شکرانہ ادا کرتے ہیں کہ میت کی روح روحوں میں شامل ہوگئی ،اگر یہ سب نہ ہوتا تو اس کی بددعا سے گھر والوں پر تباہی آتی ۔
اس غلط نظریہ کا کتاب وسنت میں ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا ہے ۔یہ ایک جاہلانہ عقیدہ ہے ۔

(8) شعبان کے میلے کی خرافات:- 
پندرہویں شعبان کے موقع پر میلے اور اس پر اٹھنے والے بے شمار خرافات اور فضول خرچیاں دین کے نام پر انجام دے جاتی ہیں حالانکہ اسلام ان چیزوں سے بری ہے۔(السنن والمبتدعات ص: 17)

یہ اور اس طرح کے بے شمار بدعات وخرافات اور بے حیائی و بےشرمی کی بے شمار داستانیں اس طرح کی راتوں میں رقم کی جاتی ہیں ،جس کی وجہ سے پندرہویں شعبان کی رات قباحتوں ،برائیوں کا باعث بن جاتی ہے ۔
لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان رسومات بد سے توبہ کرکے توحید وسنت کے گلستان میں واپس آئیں تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے حوض کوثر کا جام اور آپ کی شفاعت نصیب ہوسکے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب بے اصل اور غیر شرعی دینی امور سے کلی طور پر اجتناب کی توفیق دے اور مکمل طور پر ہمیں کتاب وسنت کا پابند بناۓ آمین تقبل یا رب العالمین

#AfrozGulri 
https://wa.me/+917379499848
01/02/2026

۔