ہفتہ، 7 فروری، 2026

منہج بلڈوزر انڈ کمپنی

۔



منہج بلڈوزر انڈ کمپنی

ان کی سلفیت خود ساختہ ہے  

بے پیندے کے لوٹے ہیں  

سنجیدہ جواب بھی دیں گے مخنث بن کر بلاک کر دیں گے  

من چاہی کتب ، سلفیت کے نام پر پیش کریں گے 

جو من چاہی نہیں ہونگے ان کتب سلف کو اپنی جوتی کی نوک پہ رکھیں گے

من چاہی مؤقف کے اثبات کے لۓ متقدمین سلف کے اقوال لے لیں گے متاخرین سلف کے اقوال روندیں گے اور اس کے رد میں من چاہی استدلال لائیں گے

اور کبھی من چاہی مؤقف کے اثبات میں متاخرین سلف کے اقوال پیش کر متقدمین سلف کے اقوال کو روندیں گے اور اس کے رد میں من چاہی استدلال لائیں گے 

کبھی من چاہا تو قرآن و حدیث کو اقوال سلف پر ترجیح دیں ، تو کبھی من چاہا تو قرآن و حدیث پر اقوال سلف کو ترجیح دیں 

یہ سب علمی لبادے اور سلفیت کا رنگ دے کر کیا جا رہا ہے ، خود ساختہ سلفیت کے یہ گل و رنگ ہیں ان کے ۔

ان منہج میں بالغ بردرس کی خود ساختہ سلفیت پر چلیں تو نبی اور صحابہ بھی جو کہ سلفیت  کی اساس ہیں وہ بھی سلفیت سے خارج ہو جاتے ہیں ۔
نعوذ باللہ

صرف منہجی بالغ بردرس انڈ کمپنی ہی سلفیت پر باقی رہ جاتی ہے ۔
لا حول ولا قوة إلا بالله العظيم 

یہ دھیرے دھیرے پوری جماعت کو مونڈ کے رکھ دیں گے 

نہ صرف جماعت بلکہ پوری سلفیت اور صغار کبار سبھی سلفی علماء و اداروں کو بھی مونڈ کے رکھ دیں گے ، ان کا اگر بس چلے ۔



ہ ےےےےےے ہ
ہ ےےےےےے ہ


۔ ہ ﷽ ہ ۔ 


خارجیت زدہ!! 

ہرگز نہ خورد آب زمینے کہ بلند است
كل إناء يترشح بما فيه

تحریر.........🖋️📒 فیصل عادؔل


صحیح بخاری میں دیکھیں 
بَاب: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ /الحجرات: ٩/.فَسَمَّاهُمُ الْمُؤْمِنِينَ
امام بخاری کہتے ہیں کہ دو گروہ جو سخت خون ریزی (قتال) میں ملوث ہیں انھیں مؤمنین ہی کہا گیا ہے۔ یعنی مرتکبِ کبیرہ کافر نہیں ہوجاتا ہے ۔
خوارج گرچہ قرآن پڑھتے تھے مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں جاتا تھا یعنی اس کی تشریح، تفہیم اور تطبیق اور علم میں پختہ نہیں تھے اسی وجہ سے عقدی انحراف کے شکار ہوے۔ يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، ويقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ (رواہ البخاری ٧٥٦٢) 

🔴خوارج اپنی شدت پسندی کے سبب ہر مرتکبِ کبیرہ میں ایمان کی کچھ رمق نہیں دیکھ پاتے تھے اس لیے ارتکابِ کبیرہ کسی سے ہوجائے تو کافر ٹھہرا دیتے تھے اور ان کے قتل کو واجب سمجھتے تھے ۔ ان معصیت کاروں کے ساتھ کافروں جیسا معاملہ کیا جاتا تھا۔ اور دین کے نام پر شدت اور انتہا پسندی ان میں در آئی تھی۔ ان کی نظر میں ایمان کے دعویدار ہیں تو کبیرہ گناہ نہ کریں ۔ کبیرہ گناہ یعنی خدا کے احکامات کی نافرمانی کرکے بھی کیسے کوئی مؤمن رہ سکتا ہے؟ یہ ان کا بنیادی فہم تھا۔ دین داری کے نام پر شدت کرتے ہوئے بظاہر ایمان کے تحفظ کے لئے انھوں نے یہ منہج سلف سے انحراف کر کے غلط عقیدہ بنا لیا تھا۔

🟢ہمیشہ سے سلفی اور اہلِ سنت(مختلف مکاتب ومسالک) کے علماء نے خوارج کے اس تکفیری عقیدے کی تردید کی ہے ۔اور قرآن و سنت کی مخالفت پر مبنی مانا ہے۔ اور کہا کہ صحیح عقیدہ سے انحراف ہے اور انتہا پسندی پر مبنی عقیدہ ہے ۔
🔻یہاں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ سے میرا سوال یہ ہے کہ تمھارے مزاج اور منطق کے مطابق جن علمائے سلف نے خوارج پر رد کیا ہے کیا وہ مرتکبِ کبیرہ (معصیت کاروں) کے سہولت کار ہوے؟ کیا وہ کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے گنجائش نکالنے والے ہوے؟ ان عاصیوں اور خطاکاروں کے ساتھ مداہنت کرنے والے ہوے؟ کیا وہ دلی طور پر چاہتے تھے کہ لوگ خوب معصیت کریں کیونکہ ہم تو خوارج پر رد کر کے گناہ کی سنگینی کا خاتمہ کر ہی دے رہے ہیں؟ 
یا ان علمائے سلف نے خوارج کے انحرافات کو سمجھ کر ان کا آپریشن کرنا ضروری سمجھا۔ خوارج نے دین میں اعتدال کی روش سے ہٹ کر جو انتہا پسندی کی بنیاد پر تکفیر کی روش اختیار کی تھی اس پر علمائے سلف کی جانب سے زبردست چوٹ کی گئی ۔ خوارج نے جو کتاب و سنت سے منحرف ہو کر غلط مفاہیم اخذ کیے اور لوگوں پر شدت سے تھوپنا چاہا اس کو نکارا ۔ مسئلہ عقیدہ کا تھا اس کی خرابی کی سنگینی کو دیکھ کر اس کے خلاف تحذیر تردید اور مناظرہ کیا گیا ۔
کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان علمائے سلف کو گناہوں کی سنگینی کو کمزور کرنا تھا اسی لئے انھوں نے سخت تنقید کی؟
کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ علماء بڑے گناہوں کا خاتمہ نہیں چاہتے تھے۔ یا اطاعت و معصیت میں تمییع کرنے والے تھے ۔ نعوذ باللہ 

⏪اب فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کا حال دیکھیں ۔ یہ لوگ بھی اسی انتہا پسندی کے مزاج سے شدت پسندانہ روش اپناتے ہوئے خارجیت زدہ نظر آتے ہیں اسی لیے بدعتِ غیر مکفرہ سے ہی خارجِ ملت جیسا معاملہ کے قائل نظر آتے ہیں ۔ گویا جوں ہی بدعت کا ارتکاب ہوا اس بدعت(غیر مکفرہ) کے نتیجے میں سب کارِ خیر جو دینی خدمات، عملی احکامات ارکانِ ایمان واسلام سے متعلق ان سے انجام پا رہے ہیں سب ساقط الاعتبار ہوگیا سب کی کوئی اہمیت نہیں ۔ان میں ایمان کی رمق نہیں رہی اور اسلام ان سے ایسے غائب ہو گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اب جب ان میں کوئی خیر نہیں تو وہ شرِّ محض بن کر رہ گئے ۔ اب اس شر سے کسی قسم کا تعرّض نہ کیا جائے نہ دعا نہ سلام نہ تنبیہ نہ تذکیر نہ مدارات۔ صرف واحد حل ہے بات چیت بند کر کے کلیّ مقاطعہ کر کے ان سے سیکڑوں کلومیٹر دور ہوجانا ۔اور یوں 
تقرب الی اللہ حاصل کیا جائے گا۔
فرقہ پرستی کی انتہا دیکھیں کہ اپنے مخصوص چند افراد کے علاوہ ان کی نظر میں کوئی معتمد و معتبر نہیں! ان کی رائے کا مخالف خواہ علم وفضل میں کتنوں بڑا اور درجہء کمال رکھتا ہو ان کے علمی کمالات کا اعتراف تو کجا ان کی سارے حسنات کو یک قلم رائیگاں، ساقط الاعتبار اور مردود ٹھہرا دیتے ہیں ۔ اپنے فرقے کو لے کر ان میں اتنا تعصب ہے کہ اپنے فرقہء خاص کے علاوہ دوسرے کسی شخص کا ذکر نہیں کرتے اگرچہ وہ کتنا بڑا عالم و مصنف و معلم و مقرر ہو۔ ان کے نزدیک وہی بڑا عالم اور بڑا مسلمان ہے جو ان کے فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ سے منسلک ہے۔دوسرے کی کوئی قدر وقیمت نہیں۔ ؏
کجا دانند قدرِ ما سبکسارانِ ساحلہا

🟢اور اگر کوئی کتاب و سنت اور منہجِ سلف عقیدہء صحیحہ کی روشنی میں ان کے اندر بدعات کے سبب بغض و براءت کے پہلو کے ساتھ ساتھ ایمان کی رمق دیکھ کر یہ کہے کہ اس ایمان کے حقوق اور تقاضے کے حساب سے وہ شخص دعا سلام، نصیحت وتذکیر، اور دنیوی تعامل اور شعبہ ءِایمان کی وجہ سے موالات کا استحقاق رکھتا ہے تو فوراً فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ اس لقب سے نواز دیتا ہے کہ یہ لوگ اہلِ بدعت کے سہولت کار ہیں ۔ یہ سب کا ساتھ سب کا وکاس چاہ رہے ہیں ۔صلحِ کلی والے ہیں ۔ یہ ممیّع ہیں ۔ یہ بدعت کا خاتمہ نہیں چاہتے ۔

💠گویا خوارج جس طرح کبیرہ گناہ کے صدور کے بعد اس گناہگار کے اندر ایمان کے بقا کے باوجود اس ایمان کی روشنی کو دیکھ نہیں پاتے ہیں بالکل اسی طرح فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ اپنی فرقہ واریت اور تعصب کی وجہ سے بدعت (مفسقہ) کے ارتکاب سے اس گناہ گار کے اندر موجود ایمان اور کسی بھی خیر کی روشنی نہیں دیکھ پاتے ہیں ۔

🔷خوارج نے دین پر چلنے کے لیے شدت مزاجی کے سبب انتہا پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے تکفیر کی روش اپنائی۔ 
وہیں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ  جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھائے گئے تسامح و تعایش اور اعتدال سے دوری بنا کر اپنی شدت پسندانہ مزاج کے سبب متطرف( انتہا پسند) ہو کر مفسقہ بدعت سے ہی خارجِ ملت جیسا معاملہ اپناتا ہے۔ سعودی حکومت نے ریال دے کر جو تسامح و تعایش کا پاٹھ پڑھایا اس کو یک قلم در کنار کر دینا یہ مملکت کی مالی اعانت کے ساتھ نمک حلالی ہے یا کچھ اور؟ 

👈خوارج تکفیری ہو کر انتہا پسندی کی بنیاد پر مرتکبِ کبیرہ کے کفر کا فیصلہ صادر فرما کر یہ چاہتے ہیں کہ اگر وہ مرتکبِ کبیرہ، حاکم بنا ہوا ہے تو اسے معزول کر دیا جائے اور اس کو ختم کر دیا جائے یہی ایک واحد حل ہے ۔اسی طرح فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ بدعتِ مفسقہ کے مرتکب کے متعلق یہ کہتا ہے کہ اس کو موضوعِ سخن بھی نہ بنایا جائے چہ جائیکہ اسکی تعریف کی جائے اور خدمات کا اعتراف کیا جائے ۔
گویا ان کے بقول دشمن اور کفار سے ہمیشہ برسرِ پیکار (جنگ میں ملوث) ہی رہا جائے، جبکہ شریعت میں مصالح ومفاسد کے اعتبار سے کبھی جزیہ لینے، کبھی صلح کرنے اور کبھی لڑائی کی بات آتی ہے ۔ یہ لوگ اپنی شدت پسندی کے سبب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ کہا جائے کہ مشرکین و کفار سے قتال کا حکم ہے ہمیشہ یہی بتایا جائے، صلح اور جزیہ لے کر امن و امان کے قیام کی بات نہ ہو۔

🔴 اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ انتہا پسندی کی وجہ سے جو دہائیوں سے خالص کتاب و سنت اور منہجی بنیادوں پر دعوت و اصلاح کا کام کر رہا ہے اور جس کی بڑی خدمات ہیں وہ اگر انصاف پسندی کے تحت شرعی جواز کی بنیاد پر بدعتی میں موجود اور قائم ایمان اور فضل وکمال کا اعتراف کردے اور منحرف کے انحرافات کو بھی کھول کھول کر بتا دے اس  سلفی شخص کو بھی منہجِ سلف کے تئیں لاپرواہ بتا دیتے ہیں ۔
بلکہ ساقط الاعتبار جانتے ہوے عوام کو ان سے بد ظن کرتے ہوئے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ لوگ خالص منہجی نہیں ہیں ۔ 

دیکھیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کیا کہا ہے👇
وَإِذَا اجْتَمَعَ فِي الرَّجُلِ الْوَاحِدِ خَيْرٌ وَشَرٌّ وَفُجُورٌ وَطَاعَةٌ وَمَعْصِيَةٌ وَسُنَّةٌ وَبِدْعَةٌ: اسْتَحَقَّ مِنْ الْمُوَالَاةِ وَالثَّوَابِ بِقَدْرِ مَا فِيهِ مِنْ الْخَيْرِ وَاسْتَحَقَّ مِنْ الْمُعَادَاتِ وَالْعِقَابِ بِحَسَبِ مَا فِيهِ مِنْ الشَّرِّ فَيَجْتَمِعُ فِي الشَّخْصِ الْوَاحِدِ مُوجِبَاتُ الْإِكْرَامِ وَالْإِهَانَةِ فَيَجْتَمِعُ لَهُ مِنْ هَذَا وَهَذَا  (مجموع الفتاوى ٢٠٩/٢٨)
جب کسی شخص میں خیر اور شر، نیکی اور گناہ، اور سنت اور بدعت جمع ہو جائیں، تو وہ اپنی خیر کے بقدر موالات (محبت) اور ثواب کا مستحق ہے، اور اپنے شر کے بقدر دشمنی اور سزا کا مستحق ہے۔ یوں ایک ہی فرد میں تکریم اور توہین کے اسباب جمع ہوجاتے ہیں ۔
یہ انصاف پسندی اور حق گوئی میانہ روی اور اعتدال فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کو نہیں پسند ہے۔ وہ ہمیشہ ایک انتہا پر کھڑے نظر آتے ہیں اور وہ انتہا یہ ہے کہ بدعتی کے اندر ایمان نہیں ہو سکتا ہے! 
اب جب ایمان نہیں تو اسکے نتیجے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جو استحقاق کی بات کہی ہے حقوقِ ایمان میں موالات کی بات کہی ہے وہ سلب کر لیا جاتا ہے اور تمام حالات میں مفسدت و مصلحت سے چشم پوشی کرتے ہوئے کلی مقاطعہ اور بائیکاٹ ہی واحد حل نظر آتا ہے اور یوں وہ لوگوں سے کٹ کر تقرب الی اللہ حاصل کرنے کے قائل ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ لوگ خود اہلِ بدعت سے تعامل روا رکھتے ہیں ۔ لیکن خود کریں تو صحیح اور جامعہ دار السلام عمرآباد اور وہاں کے اساتذہ پر فیصلہ دیتے ہوئے انصاف اور عدل کا دامن چھوڑ دیتے ہیں ۔ پھر بھی دعوی اور غرور بھرپور ہوتا ہے کہ منہجی تو ہم ہی ہیں ۔ باقی سب زہر کو شہد میں گھول رہے ہیں ۔سبحان اللہ سبحان اللہ 
یہ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ جو عقیدہ اہلِ سنت کے اعتدالی مزاج میں اپنا تطرف اور انتہا پسندانہ مزاج کو گھسیڑ کر جو صاف فرش کو مزید رگڑ کر کھردرا اور بدنما بھدا بنا رہے ہیں اس پر کوئی نہ بولے؟ کیا زبردستی کروانا خود کو منہج قرار دے کر اپنی بات کو ہی حق سمجھنا تعصب و انکار نہیں کہ جس کے نتیجے میں مخالفین کے فضل و کمال کا اعتراف بھی نہ کرتے ہوئے ان کے اصولِ دین کو منہدم قرار دیتے ہیں ۔ 
جبکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے (مجموع الفتاوی١٨٠/١٢)
فَ «التَّكْفِيرُ» يَخْتَلِفُ بِحَسَبِ اخْتِلَافِ حَالِ الشَّخْصِ فَلَيْسَ كُلُّ مُخْطِئٍ وَلَا مُبْتَدَعٍ وَلَا جَاهِلٍ وَلَا ضَالٍّ يَكُونُ كَافِرًا 
تکفیر کا عمل ہر فرد کی حالت کے حساب سے بدلتا ہے 
ہر خطاکار، بدعتی، جاہل، اور گمراہ کافر نہیں ہو جاتا ہے ۔
کیا ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان سب لوگوں کے لیے سہولت کاری کا مظاہرہ فرمایا ہے؟ کیا وہ صلح کلی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کرنا چاہ رہے ہیں؟ کیا وہ منہجِ سلف کی مضبوط دیوار میں روزن بنا رہے ہیں تاکہ بدعتی کی مسموم ہوائیں اندر کی فضا خراب کردے۔ 

🔴کیا عقائد کے بجائے بعض عملی احکامات میں مختلف رائے والوں کو ایمان سے خارج مان لیا جائے؟ 
فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو ان کی رائے سے متفق نہیں اس کو ساقط الاعتبار ٹھہرا دیتے ہیں ۔ عملی احکامات میں اگرچہ ان کے مخالفین کی رائے کی شرعی گنجائش موجود ہوتی ہے لیکن انھیں یہ اصرار ہوتا ہے کہ ہماری ہی بات حق ہے باقی دیگر لوگوں کی بات باطل ہے۔ اور بسا اوقات وہ مخالفین کو عملی احکامات میں دوسرا موقف اپنانے پر بدعتی کہہ کر ہجرِ مبتدع کے اصول کا سب سے آخری مرحلہ بائیکاٹ کو نافذ کردینے کے قائل ہیں اور ان سے تحذیر و تردید کرتے ہیں ۔ 
جبکہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعين میں لکھا ہے 👇
مِنْهَا أَنَّ أَهْلَ الْإِيمَانِ قَدْ يَتَنَازَعُونَ فِي بَعْضِ الْأَحْكَامِ وَلَا يَخْرُجُونَ بِذَلِكَ عَنْ الْإِيمَانِ، وَقَدْ تَنَازَعَ الصَّحَابَةُ فِي كَثِيرٍ مِنْ مَسَائِلِ الْأَحْكَامِ، وَهُمْ سَادَاتُ الْمُؤْمِنِينَ وَأَكْمَلُ الْأُمَّةِ إيمَانًا، وَلَكِنْ بِحَمْدِ اللَّه لَمْ يَتَنَازَعُوا فِي مَسْأَلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ مَسَائِلِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ وَالْأَفْعَالِ، بَلْ كُلُّهُمْ عَلَى إثْبَاتِ مَا نَطَقَ بِهِ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ كَلِمَةً وَاحِدَةً (إعلام الموقعين ٣٩/١)

ترجمہ👈ان (فوائد) میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اہلِ ایمان کے درمیان بعض احکامات (مسائل) میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس سے وہ دائرہء ایمان سے خارج نہیں ہو جاتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی فقہی احکامات کے بہت سے مسائل میں آپس میں اختلاف کیا، حالانکہ وہ مومنوں کے سردار اور پوری امت میں ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل تھے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء، صفات اور اس کے افعال کے بارے میں ایک بھی مسئلے میں اختلاف نہیں کیا، بلکہ وہ سب کے سب قرآن و سنت میں بیان کردہ حقائق کو تسلیم کرنے پر متفق اور ایک زبان تھے۔ 
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیدے میں صحابہ کا اختلاف نہیں تھا جہاں تک عملی احکامات کا تعلق ہے اس میں دلیل شرعی کی بنیاد پر محدثین کے منہج کے مطابق راجح قول پر عمل کرنا چاہیے ۔ صحیح حدیث کے سامنے اپنے مسلکی تقلید کی بنیاد پر امام کے قول کو برتر رکھ کر حدیثِ رسول کی تاویل یا اس کا انکار کرنا درست نہیں ۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے تفہیماتِ الہیہ جلد ایک صفحہ 211 میں لکھتے ہیں 
و أشهد لله بالله أنه كفر بالله ان يعتقد في رجل من الامة ممن يخطئ ويصيب أن الله كتب على اتباعه حتما وأن الواجب علي هو الذي يوجب هذا الرجل علي ولكن الشريعة الحقة قد ثبت قبل هذا الرجل بزمان قد وعاها العلماء و أداها الرواة وحكم بها الفقهاء  

 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کہتے ہیں 
میں اللہ کی جناب میں اس کی قسم کھا کر اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے کے مترادف ہے کہ امت کے کسی ایسے شخص کے بارے میں جس سے غلطی بھی ہو سکتی ہے اور جو صحیح بات بھی کہہ سکتا ہے یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ نے اس کی پیروی کرنا فرض کر دیا ہے، یا یہ سمجھا جائے کہ مجھ پر صرف وہی کام واجب ہے جسے یہ شخص واجب قرار دے۔ حالانکہ شریعتِ حقہ تو اس شخص کے پیدا ہونے سے بہت پہلے ثابت و مستحکم ہو چکی تھی، جسے علماء نے محفوظ کیا، راویوں نے آگے پہنچایا اور فقہاء نے اس کی روشنی میں فیصلے دیے۔ انتہی قول الدہلوی۔

اب اگر کوئی ہلدی کو ہی ادرک سمجھ کر کھاتا رہے گا تو یہی کہا جائے گا کہ اصل حقیقت کا ادراک نہیں ہے ۔

ایک ویڈیو میں شیخ امان جامی رحمہ اللہ کہتے ہیں :

البِدَعُ أَنْواعٌ: بِدْعَةٌ مُكَفِّرَةٌ، مَنْ عَلِمْتَ بِأَنَّهُ مُبْتَدِعٌ بِدْعَةً مُكَفِّرَةً لَا تُسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَمَنْ دُونَ ذٰلِكَ فَهُوَ مِنْ عُصاةِ الْمُوَحِّدِينَ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ.
وَمَسْأَلَةُ الْهُجْرانِ: هٰذِهِ مَسْأَلَةٌ تَأْتِي فِي النِّهايَةِ بَعْدَ الْعِلاجِ كَالْكَيِّ، لِلْعِلاجِ، آخِرُ الْعِلاجِ الْكَيُّ، كَذٰلِكَ آخِرُ الْعِلاجِ وَآخِرُ الْأَحْوالِ هُنا مَعَ الْمُبْتَدِعَةِ وَالْعُصاةِ الْهُجْرانُ آخِرُ شَيْءٍ.
تَبْدَأُ بِأَنْ تُقَرِّبَ الْعاصِيَ وَالْمُبْتَدِعَ وَتُدارِيَهُ وَتُجامِلَهُ وَتَنْصَحَهُ وَتُحاوِلَ إِصْلاحَهُ إِذا كانَ قَصْدُكَ الْإِصْلَاحَ

اس ویڈیو میں شیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ بدعت کی اقسام اور ان سے نمٹنے کے طریقے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہجر (تعلق ختم کرنا) آخری حربہ ہونا چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسے علاج میں داغنا آخری آپشن ہوتا ہے۔ اس سے پہلے نصیحت اور اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ مختصر ویڈیو کا لنک ہے👇

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شیخ امان جامی نے بھی بدعتِ مفسقہ کے مرتکب کے سلسلے میں کہا کہ مدارات، مجاملت، نصیحت کے ساتھ اصلاح کی کوشش کی جائے گی ۔ کیا وہ ہجر کی بات نہ کرتے ہوئے اہلِ بدعت کے سہولت کار قرار پاتے ہیں؟ 
کیا وہ ممیع ہیں؟ 

شیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید رحمہ اللہ نے اپنی کتاب حلية طالب العلم میں لکھا ہے 

فكن طالب علم على الجادة؛ تقفو الأثر، وتتبع السنن، تدعو إلى الله على بصيرة، عارفًا لأهل الفضل فضلهم وسابقتهم.(ص٢٠٣) 

ترجمہ 👈پس تم ایک ایسے طالبِ علم بنو جو شاہراہ (اصل راستے) پر ہو؛ جو نقشِ قدم (آثارِ سلف) کی پیروی کرے، سنتوں کی اتباع کرے، اللہ کی طرف بصیرت (علم و یقین) کے ساتھ دعوت دے، اور اہل ِفضل (اہلِ علم و کمال) کے فضل اور ان کی دین کے لیے سابقہ خدمات کو پہچاننے والا ہو۔

ایک سچے طالبِ علم کی نشانی یہ ہے کہ وہ متکبر نہیں ہوتا۔ وہ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے علما، اساتذہ اور دین کے لیے قربانیاں دینے والوں کے مقام و مرتبے کو پہچانتا ہے اور ان کا احترام کرتا ہے۔ ان کی "سابقت" (پہل کاری/خدمات) کا اعتراف کرنا اس کے اخلاق کا حصہ ہے۔
یہ نصیحت ہمیں ایک متوازن شخصیت بننے کی ترغیب دیتی ہے
 👈 علم میں پختہ (سنت اور اسلاف کے نقشِ قدم پر)۔
 👈 عمل میں مخلص (اللہ کی طرف بلانے والا)۔
 👈 اخلاق میں بلند (بڑوں اور علما کا احترام کرنے والا)۔
کیا ہم منہجِ سلف کے ان پہلوؤں پر کھرے اترتے ہیں یا حق کی دعوت دے کر سلفیت کے دائرے میں شامل کرنے کے بجائے صرف منہج بدری میں مصروف ہیں؟ اس پر ٹھنڈے دماغ سے غور و تامل کی ضرورت ہے! 

ضروری وضاحت 👈👈🔴فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے :👇

جس منہجِ سلف صالحین پر چلنے کا حکم اللہ رب العالمین نے اور نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے دیا ہے اسے ہندوستانی ماحول کے لئے مناسب نہ جاننا انسان کے اسلام و ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے 
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں "...... من اعتقد أن نظام الإسلام لا يصح في القرن العشرين...  (فهو كافر). (نواقض الإسلام ص 2)
انتہی کلام إمام الفرفة اليوسفية الشاطبة من المنهج۔

👈یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ایک عملی فرعی امر میں ان کی رائے کے خلاف جانے والے سلفی علماء کے تئیں ان کے اندر تکفیری جراثیم پنپ رہے ہیں ۔ اب یہ تبدیع سے آگے بڑھ کر تکفیر کے دائرے میں لانے کی بات کر رہے ہیں ۔ اور اس کے لیے وہ بات پیش کر دے رہے ہیں جس کا عملی فرعی حکم سے تعلق نہیں ہے  گویا دکتور صاحب وضع الشيء في غير محله کا مظاہرہ فرما رہے ہیں ۔ اور اسے نواقضِ اسلام سے جوڑنے کی سعی فرما رہے ہیں ۔عملی فرعی امور سے متعلق اپنی ہر رائے اور فیصلے کو عقائد اور توحید کے ہم پلہ قرار دے رہے ہیں اور اس رائے کے مخالفین کو کافر قرار دینے کے درپے ہیں۔ کیوں کہ کسی عالم کا قول کہیں سے بھی غث وسمین مل جائے اگر وہ مقصود سے غیر متعلق ہو تب بھی ملمع کاری کر کے پیش کردیتے ہیں اور ان کے اندھ بھکت معیارِ حق کو نہیں دیکھ پاتے ہیں یعنی امرِ مقصود کے لیے فی نفسہ وہ دلیل یا عالم کا قول حجت بن سکتا ہے کہ نہیں اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے واہ واہی کرتے ہیں کیونکہ ان میں شخصیت اور علمی ڈگری کا رعب أشربوا في قلوبهم العجل کی طرح رگ و ریشے میں پیوست کردیا گیا ہوتا ہے اور ان میں شکست خوردہ ذہنیت کے سبب اعتماد کی کمی کی وجہ سے لگتا ہے کہ ہمارے فرقہ کے امام نے جو لکھا ہے وہ تو درست ہی ہوگا۔
جبکہ جو قضیہ ہوتا ہے اس کے لیے وہ دلیل کارگر نہیں ہوتی ہے جیسے کہ اسی مسئلے کو دیکھ لیں 👇
جب ہم کسی عملی فرعی معاملے کی تطبیق میں دینی مصالح کے تحت شرعی گنجائش کی روشنی میں کوئی بات مسلم اقلیت کے تناظر میں کہتے ہیں تو اس کو نظامِ اسلام یا عقیدہ و منہج سے جوڑ کر بتانا محلِ نظر ہے۔ کیا ہم نے یہ کہا کہ منہجِ سلف کے مطابق اللہ ایک ہے کے بجائے ہم گائے کو بھی ماتا ماننے کے جواز کے قائل ہیں؟ کیا ہم بھارت کو ماتا کہہ کر اسکی پرستش کا جواز فراہم کر رہے ہیں کیا ہم عقیدے کے کسی جزئیے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ کیا ہم نے نظامِ الہی یا شرعی قواعد میں سے کسی کو ماننے سے انکار کر دیا ہے؟ 
اگر عملی فرعی معاملے (ہجر مبتدع) کے سلسلے میں فقہ الأقليات کی روشنی میں ہم نے یہ کہا کہ دینی مصالح و مفاسد کے پیش نظر ہجر یا تالیف میں سے حسبِ اقتضائے حال جو مناسب ہے وہ کیا جائے گا۔ تو کیا ہم نے کسی مسلّم عقیدہ کا انکار کر دیا؟ ہم نے یہ کب کہا کہ ہجر کبھی نہیں ہوگا یہ غیر شرعی طریقہ ہے؟
 ۔ ہم نے منہجِ سلف کے مطابق اس کو مانا ہے۔
ہم تو منہجِ سلف کے مطابق رائے رکھتے ہیں اور ہجر کے سلسلے میں وہی کہتے ہیں جو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاوی میں لکھا ہے اسی کی عملی تطبیق کی صورت ہندوستان میں پیش کر رہے ہیں جو آپ لوگوں کی زود قضائی تبدیعی، تکفیری طبیعت کو ہضم نہیں ہو پا رہی ہے 👇

وَهَذَا الْهَجْرُ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْهَاجِرِينَ فِي قُوَّتِهِمْ وَضَعْفِهِمْ وَقِلَّتِهِمْ وَكَثْرَتِهِمْ فَإِنَّ الْمَقْصُودَ بِهِ زَجْرُ الْمَهْجُورِ وَتَأْدِيبُهُ وَرُجُوعُ الْعَامَّةِ عَنْ مِثْلِ حَالِهِ. (مجموع الفتاوى ٢٠٦/٢٨)

قارئین یہ دیکھیں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے قوت و ضعف، کثرت و قلت دیکھنے اور ہجر کرنے کے مقصود پر زور دے رہے ہیں ۔ اسی کی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ جہاں ضعف ہے قلت ہے وہاں اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

اسی طرح یہ دیکھیں 👈ابن قیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعين میں لکھا ہے :

وَكَلَامُ الْأَئِمَّةِ وَالْفُقَهَاءِ هُوَ مُطْلَقٌ كَمَا يَتَكَلَّمُونَ فِي نَظَائِرِهِ، وَلَمْ يَتَعَرَّضُوا لِمِثْلِ هَذِهِ الصُّوَرِ الَّتِي عَمَّتْ بِهَا الْبَلْوَى، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِي زَمَنِ الْأَئِمَّةِ، بَلْ قَدْ ذَكَرُوا أَنَّ الْمُكْرِيَ يَلْزَمُهُ الْمُقَامُ وَالِاحْتِبَاسُ عَلَيْهَا لِتَطْهُرَ ثُمَّ تَطُوفُ، فَإِنَّهُ كَانَ مُمْكِنًا بَلْ وَاقِعًا فِي زَمَنِهِمْ، فَأَفْتَوْا، بِأَنَّهَا لَا تَطُوفُ حَتَّى تَطْهُرَ لِتَمَكُّنِهَا مِنْ ذَلِكَ، وَهَذَا لَا نِزَاعَ فِيهِ وَلَا إشْكَالَ، فَأَمَّا فِي هَذِهِ الْأَزْمَانِ فَغَيْرُ مُمْكِنٍ. 
(إعلام الموقعين ٤٥١/٣)

یہاں وجہ استشہاد آخری لائن میں کہی گئی بات ہے ۔
فَأَمَّا فِي هَذِهِ الْأَزْمَانِ فَغَيْرُ مُمْكِنٍ. 
انھوں نے عورتوں کے احوال یعنی قدرت اور مجبوری کے ساتھ ساتھ زمانے کے پیچیدہ حالات اور ظروف کا اعتبار کرتے ہوئے حیض والی عورت کے لیے حج کے طوافِ زیارت (افاضہ) کے جواز کی بات کہی ہے اور قدیم ائمہ و فقہاء کے فتووں کو موجودہ (ان کے) زمانے میں ناممکن العمل قرار دیا ہے جوکہ آج تک موافق الحال ہے۔

🟢اگر ابن باز رحمه الله کی بات کو اس عملی فرعی معاملے پر آپ چسپاں کرتے ہیں تو پھر اس پیمانے کے مطابق ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم رحمهما الله دونوں ہی کافر قرار پاتے ہیں اور ان دونوں کے اسلام و ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے ۔جیسا کہ آپ نے ابن باز رحمه الله کی بات پیش کی ہے "...... من اعتقد أن نظام الإسلام لا يصح في القرن العشرين...  (فهو كافر). (نواقض الإسلام ص 2)

ابن باز رحمہ اللہ کے اس قول کا محل دوسرا ہے اور وہ بات سید قطب جیسے لوگوں پر منطبق ہوتی ہے جو اسلامی نظام کی جامعیت کے مقابلے میں غیر اسلامی نظام کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور مغرب کی چکاچوند میں کھوجاتے ہیں اور انھیں اسلامیانے کی سعی کرتے ہیں ۔ اور غیر اسلامی نظام کو اتنا قوت فراہم کرتے ہیں کہ ان کی نظر میں وہ غیر اسلامی نظام، اسلامی تشریعی احکامات (غلامی، رجم، قطعِ ید وغیرہ) کو منسوخ کر سکتے ہیں ۔۔لا حول ولا قوة الا بالله
جبکہ اللہ نے قرآن مجید میں کہہ دیا ہے👇 
ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِینࣰاۚ(المائدة ٣)
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ (التوبة٣٣) 
معلوم ہوا کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے اس قول کا تعلق اصولی عقیدے سے ہے، نہ کہ عملی فرعی مسائل (فقہی اختلافات) سے۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے
شیخ کی یہ بات ان لوگوں کے بارے میں ہے جو سرے سے اسلامی نظام کی صلاحیت کا انکار کرتے ہیں اور اسے "فرسودہ" یا "پرانا" قرار دیتے ہیں۔ یہ کفریہ عقیدہ ہے۔ اس کے برعکس، "عملی فرعی امور" (جیسے نماز، زکوٰۃ یا دیگر معاملات کے جزئیات) میں علما کی مختلف آراء ہونا اس سے الگ معاملہ ہے ۔ جہاں دلائل کی بنیاد پر کسی حکم میں مختلف اقوال سامنے آتے ہیں ۔
احکامات کے عملی نفاذ کی حکمتِ عملی کی بنیاد پر 
کبھی کبھار لوگ کسی شرعی حکم کے نفاذ کی ترتیب یا حکمتِ عملی میں اختلاف کرتے ہیں (مثلاً کہ پہلے کون سا قانون نافذ ہو یا موجودہ حالات میں اس کی کیا صورت ہو)۔ اگر نیت اسلام کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ اسے بہتر طور پر نافذ کرنا ہو، تو یہ اس کفر کے زمرے میں نہیں آتا جس کا ذکر شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے کیا ہے۔ لا تقطع الأيدي في الغزو ایک حدیث میں بتایا گیا ہے 
الراوي: بسر بن أبي أرطأة • الألباني، صحيح الترمذي (١٤٥٠) • صحيح • أخرجه أبو داود (٤٤٠٨)، والنسائي (٤٩٧٩) بنحوه، والترمذي (١٤٥٠) واللفظ له، وأحمد (١٧٦٢٦) 

یہاں جنگ کے دوران دار الحرب میں ہاتھ کاٹنے کی ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی ہے ۔
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ لا قطع في عام المجاعة۔یعنی قحط سالی میں چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ۔
(دیکھیے تفصیلات إعلام الموقعين ١٧/٣) وغیرہ احکامات اس قبیل سے ہیں ۔فافہم وتدبر۔ 

 یہاں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب سے یہ سوال ہے کہ آپ کی منطق کے حساب سے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر بھی سوال قائم ہوگا؟ کہ اليوم أكملت لكم دينكم
اور والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما
جیسے نصِ صریح قطعی الدلالۃ کے ہوتے ہوئے انھوں نے جب لا قطع في عام المجاعة کہا تو کیا یہ سمجھا جائے گا نعوذ باللہ کہ انھوں نے کسی زمانے کے لیے اسلامی حدود میں قطع کو ناقابلِ عمل سمجھا اور درست نہیں قرار دیا؟ یا انھوں نے مزاجِ شریعت کو سمجھ کر حکم نافذ کیا؟ 

مصالحِ عباد سے متعلق امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں 
الْعِلْم بِصَحِيحِ الْقِيَاسِ وَفَاسِدِهِ مِنْ أَجَلِّ الْعُلُومِ وَإِنَّمَا يَعْرِفُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ خَبِيرًا بِأَسْرَارِ الشَّرْعِ وَمَقَاصِدِهِ؛ وَمَا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ شَرِيعَةُ الْإِسْلَامِ مِنْ الْمَحَاسِنِ الَّتِي تَفُوقُ التَّعْدَادَ؛ وَمَا تَضَمَّنَتْهُ مِنْ مَصَالِحِ الْعِبَادِ فِي الْمَعَاشِ وَالْمَعَادِ ۔
(مجموع الفتاوی ٢٠/٥٨٣)

ترجمہ◀️"درست اور فاسد قیاس (یعنی صحیح اور غلط استدلال) کی پہچان بلند ترین علوم میں سے ہے۔ اور اسے وہی شخص جان سکتا ہے جو شریعت کے اسرار و رموز اور اس کے مقاصد سے گہری واقفیت رکھتا ہو۔ نیز وہ ان خوبیوں سے آگاہ ہو جو شریعتِ اسلامیہ میں اس قدر موجود ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں، اور ان مصلحتوں کو جانتا ہو جو بندوں کی دنیاوی زندگی (معاش) اور اخروی زندگی (معاد) کے لیے اس شریعت میں پوشیدہ ہیں۔"

قرآن میں سورہ توبہ آیت 73 اور سورہ تحریم آیت 9 میں صریح نص وارد ہوا جہاں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کا حکم ہوا اور کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ شدت کا معاملہ ہو۔
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ جَـٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَـٰفِقِینَ وَٱغۡلُظۡ عَلَیۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِیرُ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کفار کے خلاف جہاد کیا ۔ جہاد بالسیف والسنان ہوا۔ کیا منافقین کے ساتھ جہاد بالسنان کیا؟ کیا ان کے سر قلم کیے گئے؟ پھر ان کے ساتھ کس نوع کا جہاد کیا گیا تھا؟ کبھی اس پر غور کیجیے! 
کیا جہاد کا حکم دونوں کے لیے نہیں تھا؟ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے منافقین کے ساتھ جہاد باللسان پر اکتفا کیا اور اللہ کے حکم سے بعد کے مرحلے میں ان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھا کر سختی کی ۔ اسکے پیچھے کیا حکمت تھی وہ ایک حدیث میں بتائی گئی ہے 👇
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا حال یہ تھا کہ جو قتل کا مستحق ہے منافق اسے مصلحت اندیشی کے سبب قتل کرنے سے رک گئے
تاکہ دشمنان اسلام یہ نہ کہنے لگیں کہ دیکھو یہ شخص تو اپنوں کو ہی قتل کر رہا ہے

صحیح بخاری  کی اس حدیث کے آخری جملہ پر غور کیجئے 
حدیث نمبر: 3518
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ثَابَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ حَتَّى كَثُرُوا وَكَانَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلٌ لَعَّابٌ فَكَسَعَ أَنْصَارِيًّا فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى تَدَاعَوْا، وَقَالَ: الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ: الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ، قَالَ: مَا شَأْنُهُمْ فَأُخْبِرَ بِكَسْعَةِ الْمُهَاجِرِيِّ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهَا فَإِنَّهَا خَبِيثَةٌ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَقَدْ تَدَاعَوْا عَلَيْنَا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَا نَقْتُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْخَبِيثَ لِعَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّهُ كَانَ يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ

کیا یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سب صحیح مان لیا کفر بھی صحیح اور نفاق بھی صحیح نعوذ باللہ! 

بطورِ خلاصہ👇
ابن باز رحمه الله کا یہ قول "...... من اعتقد أن نظام الإسلام لا يصح في القرن العشرين...  (فهو كافر). 
 ذہن نشین کر لیں کہ یہ قول ان لوگوں کے لیے ہے جو نظریاتی طور پر اسلام کو جدید دور کے لیے ناکام سمجھتے ہیں۔ جو لوگ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں لیکن کسی جزوی یا فرعی مسئلے کی تشریح میں اختلاف کرتے ہیں، ان پر اس سخت حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسلامی شریعت میں "اجتہادی مسائل" میں اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ صحیح حدیث پر عمل کی کوشش ہونی چاہیے ۔جیسا کہ اوپر آپ نے دیکھا کہ صحابہ کرام میں بھی بعض عملی احکامات ومسائل میں اختلاف تھا۔
اب اگر کوئی اصولی عقائد کے سلسلے میں میں کہی گئی بات کو مزاجی شدت پسندی کی بنیاد پر دوسری جگہ منطبق کردے تو اس کے فکر وفہم پر بجز ماتم کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ کیا کیا گل کھلائے جاتے ہیں اور کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے ۔ اسی لیے میں نے بہت پہلے لکھا تھا کہ کسی بھی عالم کے نام کے سابقے لاحقے سے مرعوب نہ ہوں۔ بالخصوص فضیلۃ الدكتور سے ۔ امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول یاد رکھیں 👇

كلٌّ يؤخذ من قوله ويُردُّ إلاَّ رسول الله ﷺ ۔
(ص ٣٦ الحث على اتباع السنة والتحذير من البدع للشيخ عبد المحسن العباد) 

اس مضمون کے آخر میں افتخار عارف کا ایک شعر پیش ہے👇

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا 
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں


۔
۔
۔
۔
۔
۔
بشکریہ 👇 

۔