ہفتہ، 14 فروری، 2026

عنایت مدنی کی بے اعتدال سلفیت اور جامعہ عمرآباد کا راہ اعتدال

۔



۔

عنایت مدنی کی بے اعتدال سلفیت اور جامعہ عمرآباد کا راہ اعتدال  

عنایت مدنی کے جھوٹ

 
🖕
اسے کہتے ہیں بھیانک سانپ
🖕
یعنی بول رہا ہے غلط ، صحیح کے انداز میں
🖕


ہ ےےےےےے ہ 


سلفیت کے برقعے میں خارجیت

یہ عنایت اور محمد رحمانی انڈ کمپنی کی حقیقت یہ ہے کہ منہج منہج ، رد اخوانیت ، رد خارجیت ہی کے لیبل  میں خارجیت ہی کا احیاء کرنا ان کا کام ہوتا ہے ۔
بدعتیوں اور دشمنان اسلام کی سہولت کاری کرتے ہیں ۔
سلفی کبار صغار علماء ، دعاة ، برادرس ، سسٹرس ، اداروں ، مجلات ، ٹی وی ، وغیرہ پر ملاحظات کے پردے میں اخوانیت ، غیر منہجی ، غیر سلفی وغیرہ جیسے ہونے کے اتہامات لگاتے ہیں ۔

عنایت مدنی وغیرہ انڈ کمپنی کے خود ساختہ سلفیت و منہج کے حساب سے سارے سلفی مجلات و پبلشرس غیر سلفی غیر منہجی بن جاتے ہیں صرف یہ اور ان کی کمپنی ہی " نحن أبناء الله و أحباؤه " کے مصداق سلفی رہ جاتے ہیں ۔


ہ ےےےےےے ہ 


جو باتیں اس مجلہ پر کہہ کر اسے منہج بدر کیا گیا ہے اس کی رو سے تقریبا تمام تر اہل حدیث مجلات کا منہج مشکوک ہو جائے گا، جریدہ ترجمان، محدث، صوت الامہ، البلاغ، نوائے اسلام، اہل حدیث ، اہل حدیث گزٹ، التوعیہ، التبیان، الفرقان، اور فلاں اور فلاں، سب مجلات کی پرانی فائلیں اٹھا کر دیکھ لیجۓ، دور کیوں جاییے، اپنے گھر کے مجلہ التوعیہ اور التبیان کی فائل اٹھا کر دیکھ لیجیے، مگر نزلہ گرے گا تو بیچارے عمرآباد ہی پر ۔ 
جمیل اختر فیضی

 

ہ ےےےےےے ہ 
ہ ےےےےےے ہ


۔ ہ ﷽ ہ ۔ 

تجھے عزیز شبِ فہم ، ردّ و کد کے سبب
ترا چراغِ نظر گل ہوا حسد کے سبب (فکرِ عادؔل) 



راہِ اعتدال کے سلسلے میں صریح جھوٹ اور الزام تراشی، پروپیگنڈے کا جائزہ 

تحریر ...... 🖋️📒فیصل عادؔل 


ہ ےےےےےے ہ 


وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَـٰذَا حَلَـٰلࣱ وَهَـٰذَا حَرَامࣱ لِّتَفۡتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِینَ یَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا یُفۡلِحُونَ ۝١١٦ مَتَـٰعࣱ قَلِیلࣱ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِیمࣱ ۝١١٧﴾ 
[النحل] 

قال ابن كثير رحمه الله 👇
وَيَدْخُلُ فِي هَذَا كُلُّ مَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَيْسَ [لَهُ] فِيهَا مُسْتَنَدٌ شَرْعِيٌّ، أَوْ حَلَّلَ شَيْئًا مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ، أَوْ حَرَّمَ شَيْئًا مِمَّا أَبَاحَ اللَّهُ، بِمُجَرَّدِ رَأْيِهِ وتشهِّيه. 

بقولِ ابن کثیر رحمہ اللہ اس میں ہر وہ بدعتی داخل ہوجاتا ہے جو دین میں کوئی نئی بات پیش کرتا ہے جس کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی ہے یا پھر اپنی خواہشات یا خالص فکری بنیاد پر اللہ کی حرام کردہ کو حلال قرار دیتا ہے۔ یا حلال شۓ کو حرام ٹھہراتا ہے۔

ایک مولانا صاحب کو جب متاعِ قلیل مل جاتا ہے تو مسجد میں عورتوں کے پروگرام کو جائز قرار دیتے ہیں اور جب مسجد کے متولیان جیب گرم نہ کریں انھیں نہ بلائیں تو وہی مولانا فتوی صادر کرتے ہوئے جسے حلال سمجھتے تھے اسے حرام قرار دے دیتے ہیں ۔ 
گویا فتوے کے درخت پر ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی کی طرف کودنا کوئی ان سے سیکھے۔

یہی صاحب اپنی بات قضیہ کو جب ٹھوس دلائل سے پیش کرنے سے عاجز آتے ہیں تو بظاہر سستی شہرت کے حصول اور قلبی منافرت، حسد کے جذبات کی شفاے صدر کے لیے موقع بہ موقع منہجِ سلف کو بطورِ ڈھال استحصال کرتے ہوئے جامعہ دار السلام عمرآباد ، وہاں کے اساتذہ اور وہاں کے مجلہ راہِ اعتدال پر لب کشائی کرتے ہوئے جھوٹی باتیں کہتے ہیں جیسا کہ ملحقہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ 

ہمارا بس یہ کہنا ہے کہ 

ولا تقف ماليس لك به علم إن السمع والبصر والفؤاد كل أولئك كان عنه مسؤولا

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسير میں عطیہ بن سعد العوفی کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا قول نقل کیا ہے👈

قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَقُولُ: لَا تَقُلْ. قَالَ الْعَوْفِيُّ عَنْهُ: لَا تَرْم أَحَدًا بِمَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۔

لا تقف مطلب لا تقل (مت کہو) ۔ اور آگے کہا لَا تَرْم أَحَدًا بِمَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ. کسی پر ایسی بات کا الزام نہ لگاؤ جس کا تمھیں علم نہیں۔

اس ویڈیو (ملحقہ) میں انھوں نے کہا کہ اس مجلہ راہِ اعتدال میں عقیدے کے باب میں سنت کے باب میں سلفیت کے باب میں ہر طرح کے مضامین ان کے عقائد کے انحراف، سنت کے انحراف کو پورے طور سے نظر انداز کرتے ہوئے سارے لوگوں کے مضامین شائع کیے جاتے ہیں مودودی، حسن بنا، سید قطب، وحید الدین اور قرضاوی جیسے گمراہوں اور منحرفين کے مضامین شائع ہوتے ہیں ۔ اور جھوٹ باندھتے ہوۓ کہتے ہیں کہ راہِ اعتدال میں ان لوگوں کے چھوٹے بڑے مضامین ملیں گے اور مسلسل ملیں گے ۔ 

یہ ویڈیو 5 جنوری 2025 کی ہے ۔ 
اس پر ایک سال ہو چکا ہے مگر اس ویڈیو کو ان دنوں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے مقلدین بہت وائرل کر رہے ہیں اس لیے اس پھیلتے جھوٹ اور پروپیگنڈے کے وائرس کا ویکسینیشن ڈوز دینا ضروری سمجھا گیا ہے تاکہ جھوٹ اور الزام تراشی کے اسہال سے افاقے کا تیر بہدف نسخہ دیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ہم ان سے پہلے بھی چیلنج کر چکے تھے کہ آپ اپنی باتوں کی دلیل کے طور پر کوئی ایک جملہ جو غلط عقیدے و سنت کے انحرافات پر مبنی ہو راہِ اعتدال میں چھپا ہو آپ دکھا دیں ۔ صرف ہوا ہوائی باتوں اور بے پرکی اڑانے سے کچھ نہیں ہوتا ۔

میرا وہ مفصل مضمون اس لنک سے دیکھیں : 

فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے نزدیک بدعتِ مفسقہ کے ارتکاب سے وہ فرد ساقط الاعتبار ہوجاتا ہے اب اس کے اندر خیر کا کوئی عنصر باقی نہیں ۔ وہ شرِ محض ہوگیا ۔ اس کی کتاب اور خدمات پر پانی پھیر دیا جائے ۔ 

قارئین! یہ بتائیں 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ اخوانی سید سابق کی فقہ السنۃ کی احادیث کی تخریج امام البانی رحمہ اللہ نے کی تھی؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن بنا کی کتاب مجاہد کی اذان کے اردو ترجمے والی کتاب کی اشاعت پر  شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ نے تعریف و توصیف کے پل باندھے تھے؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ یوسف قرضاوی کی کتاب الحلال و الحرام کی احادیث کی تخریج امام البانی نے کی تھی؟

💠 کیا یہ صحیح نہیں کہ یوسف قرضاوی کی کتاب الحلال والحرام کا اردو ترجمہ 
 سب سے پہلے مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ نے دار السلفية سے چھپوا کر سارے ہندوستان میں مفت تقسیم کی؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ ایک اخوانی (عبد العزيز کامل) کی کتاب سے متاثر ہو کر اخوانیت کو پروموٹ کرنے کے لیے ترجمہ کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تھے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہجومِ اشغال کی وجہ سے وہ یہ کام نہ کر سکے ۔ پھر مولانا عبد المجید اصلاحی صاحب نے ترجمہ کیا تو جمعیت اہل حدیث نے شائع کیا؟

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ صوفی سرغنہ وحدت الوجود بدعتی خواجہ حسن نظامی کے مضامین شوق سے پڑھتے تھے اور ادارتی نوٹ کے ساتھ شائع کرتے تھے اور ان کے اسلوب کے بانکپن کے قتیل تھے؟ 

💠  کیا یہ سچ نہیں کہ استخفاف حدیث کرنے والے الطاف اعظمی کی کتاب توحید کا قرآنی تصور کی ترویج و اشاعت اور فروخت کا کام جامعہ سنابل کی طرف سے انجام پایا تھا؟ 

💠 کیا رشید رضا مصری اپنے انحرافات کے باوجود مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ نے ان کی تعریفوں کے پل نہیں باندھے تھے؟ جن کے نیچے سے منہجی غیرت کا آبِ زر بہہ گیا تھا؟ 

اگر ان منحرفين کی تحریروں میں سے جو کتاب و سنت کی روشنی میں درست بات ان کی کتاب میں ایک بھی نہیں ہوتی تو ان علماء نے ان کی کتابوں کی تخریج و ترجمہ وغیرہ پر وقت صرف کرنا کیوں گوارا کیا؟  

💠 کیا جامعہ سنابل میں غبار ِ خاطر جیسی کتاب موجود ہے کہ نہیں؟ جس میں موسیقی کو خوشنما بنا کر مفصل مکتوب مولانا آزاد رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نہیں ؟ جنھیں پڑھ کر ایک صاحب نے موسیقی کو روح کی غذا تک لکھ ڈالا ۔

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ جامعہ سنابل کے تحت تفہیم القرآن کے نسخے فروخت کیے گئے؟ 

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن سلفی علماء نے ان منحرفين کی کتابوں سے تقارب و تواجہ کیا اور نشر و ترجمہ و تخریج وغیرہ میں گراں قدر وقت صرف کیا وہ منہج بدر ہوۓ کہ نہیں؟ 

کیا منہجی لاپرواہی ان میں بدرجہءِ اتم موجود تھی کہ نہیں ؟
وہ صلحِ کلّی والے ہوۓ کہ نہیں 
وہ ممیّع ہوۓ کہ نہیں؟ 
وہ سب کا ساتھ سب کا وکاس چاہنے والے اور اہلِ بدعت کے سہولت کار ہوۓ کہ نہیں؟ 

اگر منحرفين کی کتاب میں کوئی بات اچھی نہیں ان کی کتاب سے درست اقتباس تک نقل کرنا جائز نہیں تو اس نام نہاد چھلنی اور معیار پہ تو مملکت سعودی عرب کے سب سے بڑے مفتی شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ بھی نہیں اترتے ہیں ، 
انھوں نے بھی اپنی ایک کتاب میں اپنے قول کی تائید میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن کے کئی اقتباسات نقل کیے ہیں۔ 

وقلیل منک یکفیني ولكن 
قليلك لا يقال له قليل 
کے مصداق 

کیا وہ کتاب لکھتے وقت غیر منحرف علماء کی کتابوں سے استفادے کرتے تھے؟ 
اور کیا وہ سید قطب کی تفسیر سے مستغنی نہیں ہو سکتے تھے؟ 
آخر ایسی کیا ضرورت آ پڑی تھی کہ اس سے کئی جگہ پر اقتباسات نقل کرتے ہیں؟ 

ان منحرفين کی کتابوں کے پڑھنے، اقتباسات اٹھانے، ترجمہ کرنے اور ان کی نشر و اشاعت کے باب میں ان کے سامنے کیا اصول موجود تھا؟ 

کیا وہ خذ ما صفا ودع ما کدر کا اصول تھا؟ 
یہ تو فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے نزدیک باطل اصول ہے 

پھر شیخ فوزان حفظہ اللہ نے اقتباس نقل کیا تو وہ صحیح، مگر راہِ اعتدال میں کسی غیر سلفی کی قرآن و حدیث کی روشنی میں لکھی گئی درست اور منہجی بات کیوں درست نہیں؟ 

یہ دوہرے معیار اور دو پیمانے کیوں ہیں؟ 

واضح رہے کہ ہم ان منحرفين کی ہر بات درست نہیں مانتے ہیں بلکہ ہمارے سامنے بھی ملاحظات ہیں ۔ 

بس آئینہ دکھا دے رہے ہیں تاکہ دوہرے معیار والے اس میں اپنا سراپا دیکھ لیں۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کچھ بات تو ضرور ہے ورنہ بار بار اسی جامعہ دار السلام عمرآباد پر کیوں سوال اٹھایا جاتا ہے؟ 

اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت کسی بات پر سوال اٹھائے تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان کا قضیہ اور قول درست ہی ہو! 

کیا ہم نہیں دیکھتے کہ مسلمانوں کے دین، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی، اسلام، قرآن، جہاد پر لوگ بار بار سوال اٹھاتے ہیں؟ 

اس سے کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اسلام میں کچھ تو گڑبڑ ہے دال میں کالا ہے نعوذ باللہ؟ 

کیا ہندوستان میں مسلمانوں کو حب الوطنی کے ثبوت بار بار نہیں مانگے جاتے ؟

کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہوگا کہ کچھ تو خرابی ہے مسلمانوں کی حب الوطنی میں؟ 

کیا آئے دن اہلِ اسلام پر دہشت گردی کے الزامات نہیں لگائے جاتے ہیں؟ 

معترض کی منطق کے حساب سے کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ کچھ تو گڑ بڑ ہے نعوذ باللہ؟ 

کیا کسی بے خبر، لاعلم اور دشمنی میں مبتلا شخص کی دشمنی پر مبنی رائے اور جھوٹ کی بنیاد پر کسی ادارے کے تعلق سے بدظن ہو جانا اور منہج بدری کا ٹھپہ لگانا اور اخوانیت و مودودیت کا مدرسہ ٹھہرانا مناسب ہوگا؟ 

کیا یہ بلاثبوت مانگے ٹھوس دلیل کے بغیر ہی بات مان لینا تقلید نہیں؟  

کیا سلفیوں میں یہ تقلیدِ اعمی کی بدعت سرایت کر چکی ہے اسے تسلیم شدہ حقیقت مان لیا جائے؟ 

کیا اکثریت کی رائے ہمیشہ سچ ہوتی ہے؟ 

قرآن دیکھیے کیا کہتا ہے : 
وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِی ٱلۡأَرۡضِ یُضِلُّوكَ عَن سَبِیلِ ٱللَّهِۚ إِن یَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا یَخۡرُصُونَ ۝١١٦ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ مَن یَضِلُّ عَن سَبِیلِهِۦۖ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِینَ ۝١١٧﴾ 
[الأنعام ١١٦-١١٧] 

یہاں کثرت کی بنیاد پر حق ماننے والوں کے متعلق ہے کہ اگر ان کی بات مانیں گے تو وہ تمھیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے 

دوسری آیت میں بتایا گیا ہے 

وَمَا یُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ ۝١٠٦

لوگوں کی اکثریت اللہ کے ساتھ شرک میں مبتلا ہیں ۔

سورہ یوسف میں کہا گیا ہے :

وَمَاۤ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِینَ 

ایک جگہ کہا گیا ہے :

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحࣰا وَإِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ وَجَعَلۡنَا فِی ذُرِّیَّتِهِمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَـٰبَۖ فَمِنۡهُم مُّهۡتَدࣲۖ وَكَثِیرࣱ مِّنۡهُمۡ فَـٰسِقُونَ ۝٢٦ 

آخر میں دیکھیں 
ہدایت یافتہ کچھ ہی لوگ ہیں اور بیشتر فاسق ہیں بتایا گیا ہے ۔

ایک جگہ بتایا گیا 
 ٱعۡمَلُوۤا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرࣰاۚ وَقَلِیلࣱ مِّنۡ عِبَادِیَ ٱلشَّكُورُ ۝١٣﴾ 

شکر اور اطاعت کے جذبے سے سرشار ہو کر عمل کرتے جاؤ ۔ بہت کم بندے شکر گزار ہیں ۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں کہا گیا ہے :

حَتَّىٰۤ إِذَا جَاۤءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلۡنَا ٱحۡمِلۡ فِیهَا مِن كُلࣲّ زَوۡجَیۡنِ ٱثۡنَیۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَیۡهِ ٱلۡقَوۡلُ وَمَنۡ ءَامَنَۚ وَمَاۤ ءَامَنَ مَعَهُۥۤ إِلَّا قَلِیلࣱ﴾ 
[هود ٤٠]

آیت کے آخری ٹکڑے پر نظر ڈالیں کہا گیا ہے کہ ساڑھے نو سو سال سے زائد دعوت کے باوجود بڑی قلیل تعداد میں لوگوں نے ایمان قبول کیا تھا۔

ایک جگہ کہا گیا ہے :

قُل لَّا یَسۡتَوِی ٱلۡخَبِیثُ وَٱلطَّیِّبُ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِیثِۚ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ یَـٰۤأُو۟لِی ٱلۡأَلۡبَـٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ۝١٠٠ 

خبیث چیزوں کی کثرت تمھیں حیرانی (تعجب) میں ڈال سکتی ہے مگر طیب کے مقابلے میں اسکی کوئی وقعت نہیں ۔ اور یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔

مضمون کے اختتام پر ایک شعر پیش ہے

تمنا سربلندی کی ہمیں بھی تنگ کرتی ہے
مگر ہم دوسروں کو روند کر اونچا نہیں ہوتے

بشکریہ : 

۔