جمعرات، 13 اگست، 2026

نماز میں مٹھی باندھنا مختلف علماء

۔


۔ ﷽ ۔


۔

نماز میں مٹھی باندھنا :  




ہ ےےےےےےہ 



1 ۔
سجدے سے اٹھنے کا درست طریقہ: تحقیق اور دلائل
سوال:
نماز میں سجدے سے اٹھتے وقت جلسہ استراحت یا تشہد کے بعد کیا ہاتھوں پر ٹیک لگا کر اٹھنا چاہیے؟ اور اگر ہاں تو کس انداز میں – ہتھیلیوں کے بل یا مٹھیوں کے بل؟

دلائل اور مختلف آراء
➊ روایتِ حربی کا بیان:
ابو اسحاق الحربی کی روایت کے مطابق:
◈ نمازی کو سجدے کے بعد مٹھی بند کر کے، ان پر ٹیک لگا کر اٹھنا چاہیے۔
◈ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو اپنی کتاب تمام المنہ میں ذکر کیا اور فرمایا:
قال الألبانی: حسن
فی الضعیفہ 2/392

➋ مولانا محب اللہ شاہ راشدی کی تحقیق:
25 نومبر 1994ء کو "الاعتصام” میں شائع شدہ مضمون میں مولانا محب اللہ شاہ راشدی صاحب نے لکھا:

◈ کامل بن طلحہ کی روایت میں الفاظ ہیں:
"اعتمد علی الارض بيديه”

◈ "یدین” کا مطلب ہے: "کفین” یعنی ہتھیلیاں۔
◈ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ زمین پر ہتھیلیاں ٹیک کر اٹھنا مراد ہے، نہ کہ بند مٹھیاں۔

انہوں نے مزید لکھا:
◈ "مٹھی بند کر کے اس پر ٹیک لگا کر اٹھنا دراصل
‘اعتماد علی الانملة’ ہے، نہ کہ
‘علی الیدین’۔
◈ اس لیے ہتھیلیوں کے بل زمین پر ٹیک لگا کر اٹھنا چاہیے۔

➌ روایتِ ہیثم اور اس پر اختلاف:
مولانا راشدی صاحب لکھتے ہیں:
◈ روایتِ ہیثم میں
"یعجن” کا اضافہ موجود ہے،
◈ جب کہ کامل بن طلحہ – جو کہ ہیثم سے زیادہ ثقہ راوی ہیں – نے یہ زیادتی نقل نہیں کی۔
◈ لہٰذا، ہیثم کی روایت "شاذ” قرار دی گئی، کیونکہ اس میں اوثق راوی کی مخالفت ہے۔

➍ مولانا ارشاد الحق اثری (حفظہ اللہ) کی وضاحت:
مولانا اثری فرماتے ہیں:
◈ ہیثم کی روایت شاذ نہیں ہے بلکہ اس میں زیادہ تفصیل ہے۔
◈ ان کے نزدیک اگر مٹھیوں کے بل اٹھنے کو اختیار کیا جائے تو:
❀ دونوں قسم کی احادیث پر عمل ہو جاتا ہے۔

جواب: راویوں کی تحقیق اور درست طریقہ
➊ راوی ہیثم بن عمران الدمشقی کا درجہ:
◈ یہ راوی ابو اسحاق الحربی کی مذکورہ روایت کا اہم راوی ہے۔
◈ اس راوی کو ابن حبان کے سوا کسی نے ثقہ قرار نہیں دیا۔
◈ اس لیے:
❀ "یہ راوی مجہول الحال ہے، اور حدیث کے اصول کے مطابق مجہول الحال کی منفرد روایت ضعیف مانی جاتی ہے۔”

➋ مزید تحقیق کے لیے:
تفصیلی علمی تحقیق کے لیے رجوع کریں:
❀ محمد علی خاضیلحی کی کتاب
"التبین فی مسئلۃ العجین / نماز میں اٹھتے وقت آٹا گوندھنے والے کی طرح اٹھنے کی علمی تحقیق”
(مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ، اہل حدیث چوک کورٹ روڈ کراچی)

➌ البانیؒ کا قاعدہ اور اس پر تنقید:
◈ شیخ البانیؒ نے ہیثم بن عمران کی توثیق کے لیے ایک قاعدہ پیش کیا، لیکن یہ قاعدہ کئی وجوہ سے مردود ہے۔

مثال:
◈ سنن ابی داؤد
(3489) کی ایک روایت ہے:
"من باع الخمر فليشقص الخنازير”
◈ اس کا ایک راوی عمر بن بیان ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ کہا ہے، اور ابو حاتم الرازی نے "معروف” کہا ہے۔
◈ مگر شیخ البانی نے عمر بن بیان کو مجہول الحال کہہ کر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
حوالہ: الضعیفہ (10/70-71، حدیث 4566)


خلاصۂ تحقیق:

"آٹا گوندھنے کی طرح اٹھنے والی روایت ضعیف ہے”
اس لیے زمین پر ہاتھ ٹیک کر اٹھنا چاہیے، جیسے سجدے میں جاتے وقت ہاتھ زمین پر رکھے جاتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

(الحدیث: 42، 8 اگست 2007ء)



ہ ےےےےےے ہ 



2 ۔ 
علامہ البانی کی تحقیق :


" رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجن في الصلاة. يعني: يعتمد".

ازرق بن قیس کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز میں کھڑے ہونے کے لیے ہاتھوں پر سہارا لیتے۔ میں نے کہا: 
ابوعبدالرحمٰن! یہ انداز کیسا؟ انہوں نے کہا: 
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ بھی نماز میں (کھڑے ہونے کے لیے) ہاتھوں کا سہارا لیتے تھے۔ 

[ سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 750 ]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2674 

قال الشيخ الألباني:

- " رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجن في الصلاة. يعني: يعتمد ".

‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏

‏‏‏‏أخرجه الطبراني في " المعجم الأوسط " (1 / 239 / 1 - مصورة الجامعة الإسلامية
‏‏‏‏رقم 419 - ط) : حدثنا علي بن سعيد الرازي قال: أخبرنا عبد الله بن عمر بن
‏‏‏‏أبان قال: أخبرنا يونس بن بكير قال: أخبرنا الهيثم بن علقمة بن قيس بن ثعلبة
‏‏‏‏عن الأزرق بن قيس قال: رأيت عبد الله بن عمر وهو يعجن في الصلاة، يعتمد
‏‏‏‏على يديه إذا قام، فقلت: ما هذا يا أبا عبد الرحمن؟ قال: فذكره، وقال: "
‏‏‏‏لم يرو هذا الحديث عن الأزرق إلا الهيثم، تفرد به يونس بن بكير ".

‏‏‏‏__________جزء : 6 /صفحہ : 380__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏قلت: وهو
‏‏‏‏صدوق حسن الحديث من رجال مسلم، وفيه كلام لا ينزل حديثه عن مرتبة الحسن إن
‏‏‏‏شاء الله تعالى. لكن شيخه الهيثم بن علقمة بن قيس بن ثعلبة لم أعرفه، ولم أر
‏‏‏‏أحدا ذكره، فأخشى أن يكون وقع في الرواية شيء من التحريف، فقد أخرج الحديث
‏‏‏‏أبو إسحاق الحربي في " غريب الحديث " هكذا: حدثنا عبد الله بن عمر حدثنا يونس
‏‏‏‏بن بكير عن الهيثم عن عطية بن قيس عن الأزرق بن قيس به. والحربي ثقة إمام
‏‏‏‏حافظ، فروايته مقدمة على رواية علي بن سعيد الرازي، فإن هذا وإن وثقه مسلمة
‏‏‏‏بن قاسم فقد قال الدارقطني: " ليس بذاك "، فقوله في الإسناد: " الهيثم بن
‏‏‏‏علقمة بن قيس بن ثعلبة " يكون من أوهامه إن كان محفوظا عنه، والصواب قول
‏‏‏‏الحربي: " الهيثم عن عطية بن قيس ". والهيثم هذا هو ابن عمران الدمشقي،
‏‏‏‏وثقه ابن حبان، وقد روى عنه جمع من الثقات كما كنت حققته في " الكتاب الآخر "
‏‏‏‏تحت الحديث (967) مفصلا القول هناك في مشروعية الاعتماد على اليدين عند
‏‏‏‏القيام من السجدة الثانية أو التشهد الأول، وذكرت هناك متابعا قويا لعطية بن
‏‏‏‏قيس فراجعه. ومن العجيب أن يخفى هذا الحديث على كل من صنف في " التخريج " كما
‏‏‏‏ذكرت هناك، وأعجب منه أن لا يورده الهيثمي في " مجمع البحرين في زوائد
‏‏‏‏المعجمين "، بل ولا في " مجمع الزوائد "، مع أنه أورد فيه ما يخالفه، فقال
‏‏‏‏(2 / 136) : " وعن عبد الرحمن بن يزيد قال: رمقت عبد الله بن مسعود في
‏‏‏‏الصلاة فرأيته ينهض ولا يجلس، قال: ينهض على صدور قدميه في الركعة الأولى
‏‏‏‏والثالثة. رواه الطبراني في " الكبير "، ورجاله رجال الصحيح ".

‏‏‏‏__________جزء : 6 /صفحہ : 381__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏ونحوه ما
‏‏‏‏صنعه الحافظ في " التلخيص الحبير "، فإنه بعد أن ذكر حديث ابن عباس بمعنى حديث
‏‏‏‏الترجمة، ونقل أقوال مخرجيه في تضعيف حديث ابن عباس وإبطاله، قال (1 / 260
‏‏‏‏) : " وفي " الطبراني الأوسط " عن الأزرق بن قيس: رأيت عبد الله بن عمر وهو
‏‏‏‏يعجن في الصلاة، يعتمد على يديه إذا قام كما يفعل الذي يعجن "! فذكر الموقوف
‏‏‏‏دون المرفوع منه، فأوهم القارىء خلاف الواقع، ولذلك كنت سميته في الكتاب
‏‏‏‏السابق الذكر أثرا اعتمادا عليه، فلما وقفت على لفظه في " المعجم الأوسط "
‏‏‏‏بادرت إلى إخراجه هنا وسقته كما رأيته فيه وتكلمت على إسناده نصحا للأمة،
‏‏‏‏وتأكيدا لما كنت ذكرته هناك من ثبوت الحديث. والحمد لله الذي بنعمته تتم
‏‏‏‏الصالحات. ولابد من التنبيه هنا على خطأ وقع لي ثمة، وذلك أنني رجحت أن عبد
‏‏‏‏الله بن عمر - شيخ الحربي - الصواب فيه عبيد الله (مصغرا) ، فلما وقفت على
‏‏‏‏رواية الطبراني ومطابقتها لرواية الحربي، بل زاد فسمى جده (أبان) تبين لي
‏‏‏‏الخطأ، وأن الصواب كما وقع في الروايتين: (عبد الله بن عمر) وهو ابن محمد
‏‏‏‏بن أبان الأموي مولاهم الكوفي، وهو ثقة أيضا من رجال مسلم. ثم رأيت ليونس بن
‏‏‏‏بكير متابعا، أخرجه الطبراني في " الأوسط " أيضا (1 / 190 / 2 رقم 3371 - ط)
‏‏‏‏من طريق عبد الحميد الحماني قال: أخبرنا الهيثم بن عطية البصري عن الأزرق بن
‏‏‏‏قيس قال: " رأيت ابن عمر في الصلاة يعتمد إذا قام، فقلت: ما هذا؟ قال:
‏‏‏‏رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله ". وقال: " لم يروه عن الأزرق إلا
‏‏‏‏الهيثم، تفرد به الحماني ".

‏‏‏‏__________جزء : 6 /صفحہ : 382__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏قلت: وفيه ضعف، والهيثم بن عطية هذا لم أعرفه
‏‏‏‏أيضا، ولعله ".. عن عطية " كما تقدم في رواية أبي إسحاق الحربي. والله
‏‏‏‏أعلم. (تنبيه) : ألف بعض الفضلاء جزءا في كيفية النهوض في الصلاة، نشره سنة
‏‏‏‏(1406) ، تأول فيه بعض الأحاديث الصحيحة على خلاف تفسير العلماء، وحشر
‏‏‏‏أحاديث ضعيفة مقويا تأويله بها، وضعف حديثنا هذا الصحيح بأمور وعلل دلت على
‏‏‏‏أنه كان الأولى به أن لا يدخل نفسه فيما لا يحسنه، فرددت عليه ردا مسهبا مبينا
‏‏‏‏أخطاءه الحديثية والفقهية في كتابي " تمام المنة " (ص 196 - 207) ، فمن شاء
‏‏‏‏التوسع رجع إليه.
‏‏‏‏

https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=10&hadith_number=750



ہ ےےےےےے ہ 



3 ۔ 
سوال : 

دوسری رکعت کے لئے ہاتھوں کے سہارے اٹھناچاہیے یا مٹھی بند کر کے ۔ کتاب و سنت کے حوالے سے اٹھنے کی کیفیت کو وضاحت سے بیان کریں؟



جواب : 

دوسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت کچھ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگا کر اٹھنے کے بجائے سیدھے تیر کی طرح اٹھتے ہیں اوربطوراستدلال یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول  اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے دونوں ہاتھوں پرٹیک لگائے بغیر تیر کی مانند اٹھتے تھے لیکن یہ حدیث من گھڑت اورموضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں خصیب بن حجدرنامی ایک راوی کذاب ہے۔

[مجمع الزوائد: ۲/۱۳۵]                

نیز یہ روایت صحیح بخاری کی اس حدیث کے بھی خلاف ہے ،جس میں صراحت کیساتھ یہ بیان ہے کہ رسول  اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم   جب دوسرے سجدے سے اپنا سرمبارک اٹھاتے توبیٹھتے، زمین پر ٹیک لگاتے، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے ،

اب سوال یہ ہے کہ زمین پرٹیک لگاکر اٹھتے وقت ہاتھوں کی کیفیت 

کیا ہوگی،کیا کھلے ہاتھوں اٹھنا چاہیے یا مٹھی بند کرکے کھڑے ہوناچاہیے ،

اس کے متعلق ازرق بن قیس  رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کودیکھا کہ وہ نماز میں جب (دوسری رکعت کے لئے ) کھڑے ہوتے تو آٹا گوندھنے والے کی طرح مٹھی بند کرکے زمین پرٹیک لگاکرکھڑے ہوتے ،میں نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا توآپ ؓ نے فرمایا میں نے رسول  اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایسا کرتے دیکھا ہے ۔     

[غریب الحدیث لابی اسحاق الحربی :۲/۵۲۵]

اگرچہ اس روایت پر ہیثم بن عمران کی وجہ سے اعتراض کیا گیا ہے لیکن امام ابن حبان رحمہ اللہ  نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے۔ (۷/۵۷۷) 

محدث العصر علامہ البانی مرحوم نے اسے حسن قرار دیا ہے۔     

[سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: ۲/۳۹۲]

بعض اہل علم نے اس کی یہ توجیہہ بھی کی ہے کہ آٹا گوندھتے وقت کبھی کھلے ہاتھ استعمال ہوتے ہیں، لہٰذا کھلے ہاتھوں سے ٹیک لگا کر اٹھنے کی گنجائش ہے ، 

لیکن یہ توجیہہ امر واقعہ کے خلاف ہے کیونکہ کھلے ہاتھوں سے آٹا نہیں گوندھا جاتا ہے بلکہ مٹھی بند کر کے اسے گوندھا جاتا ہے۔ 

لہٰذا ہماری تحقیق یہی ہے ،کہ دوسری رکعت سے کھڑے ہوتے وقت مٹھی بند کرکے زمین پرٹیک لگاکھڑے ہوناچاہیے

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث ، جلد : 2 ،  صفحہ : 151 



ہ ےےےےےے ہ 



4 ۔

عَنْ أَبِي قِلَابَةَ،قَالَ:" جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا،فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ،وَلَكِنْ أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي،قَالَ أَيُّوبُ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: وَكَيْفَ كَانَتْ صَلَاتُهُ؟ قَالَ: مِثْلَ صَلَاةِ شَيْخِنَا هَذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ،قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ ذَلِكَ الشَّيْخُ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ،وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ عَنِ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَامَ".


ہم سےمعلی بن اسد نےبیان کیا،انہوں نےکہاکہ ہم سےوہیب نےبیان کیا،انہوں نےایوب سختیانی سے،انہوں نےابوقلابہ سے،انہوں نےبیان کیاکہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارےیہاں تشریف لاۓاورآپ نےہماری اس مسجد میں نماز پڑھائی۔ آپ نےفرمایاکہ میں نماز پڑھا رہاہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی نہیں ہےبلکہ میں صرف تم کو یہ دکھاناچاہتاہوں کہ نبی کریم کس طرح نماز پڑھا کرتےتھے۔ ایوب سختیانی نےبیان کیاکہ میں نےابوقلابہ سےپوچھا کہ مالک رضی اللہ عنہ کس طرح نماز پڑھتےتھے؟ توانہوں نےفرمایاکہ ہمارےشیخ عمرو بن سلمہ کی طرح۔ ایوب نےبیان کیاکہ شیخ تمام تکبیرات کہتےتھےاورجب دوسرےسجدہ سےسر اٹھاتےتوتھوڑی دیر بیٹھتےاورزمین کاسہارا لےکرپھر اٹھتے۔ 
[ صحيح البخاري،كتاب الأذان ( صفة الصلوة ) 824 ]


حدیث حاشیہ : 

(1)۔
اس حدیث میں ابو قلابہ کےشیخ عمرو بن سلمہ کی نماز کو رسول اللہ ﷺ کی نماز کی مانند قرار دیاگیاہے۔

ان کی نماز میں دو چیزیں بطورخاص ذکرہوئی ہیں : 

٭ اتمام تکبیر 
٭ اعتماد علی الارض۔


اتمام تکبیر کےدو معنی ہیں : 

٭ نماز کی تمام تکبیرات کاعدد پورا کیاجاۓجو چار رکعات میں بائیس تک ہے۔

٭ اللہ أکبر کو لمبا کیاجاۓجو پوری حرکت انتقال پرمحیط ہو۔


اعتماد علی الارض کےبھی دو معنی ہیں : 

٭ دوران سجدہ میں کہنیوں کو گھٹنوں یارانوں پررکھناجیسا کہ امام ترمذی ؒ نےباب الاعتماد في السجود میں مراد لیاہے۔ 

٭ دوسرےسجدےسےفراغت کےبعد اٹھتےوقت دونوں ہاتھوں کو زمین پرٹیک دینا۔ 

اس مقام پراعتماد علی الأرض کےدوسرےمعنی مراد ہیں،چنانچہ شاہ ولی اللہ ؒ نےلکھا ہےکہ سجدےسےفراغت کےبعد زمین پرہاتھوں سےٹیک لگاکراٹھناامام شافعی ؒ کےنزدیک سنت ہےاوراحناف نےاس کی سنیت سےانکار کیاہے۔

سجدےسےفراغت کےبعد اٹھتےوقت وہ اپنےدونوں ہاتھوں پرٹیک لگاکراٹھنےکےبجاۓسیدھےتیر کی طرح اٹھتےہیں اوربطوراستدلال یہ حدیث پیش کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےدونوں ہاتھوں پرٹیک لگاۓبغیر تیر کی مانند اٹھتےتھے،لیکن یہ حدیث من گھڑت اورموضوع ہےکیونکہ اس کی سند میں خصیب بن جحدر نامی ایک راوی کذاب ہے۔ 

( مجمع الزوائد 135 / 2،2806 )

نیز یہ روایت صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث کےبھی خلاف ہےجس میں دوسرےسجدےسےفراغت کےبعد اٹھتےوقت دونوں ہاتھوں کو زمین پرٹیک دینےکی صراحت ہے۔


(2)۔ 
سوال یہ ہےکہ زمین پرٹیک لگاکراٹھتےوقت ہاتھوں کی کیفیت کیاہو؟ 
کیاکھلےہاتھوں اٹھناچاہۓیامٹھی بند کرکےکھڑےہوناچاہۓ؟ 

اس کےمتعلق ازرق بن قیس کابیان ہےکہ میں نےحضرت ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ نماز میں جب دوسری رکعت کےلۓکھڑےہوتےتوآٹا گوندھنےوالےکی طرح مٹھی بند کرکےزمین پرٹیک لگاکرکھڑےہوتےتھے۔

میں نےان سےاس کےمتعلق دریافت کیاتوانہوں نےفرمایا:

میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتےدیکھا ہے۔

( غریب الحدیث لأبي إسحاق الحربي،باب عجن،2 ؍ 525 )

اگرچہ اس روایت پرہیثم بن عمران کی وجہ سےاعتراض کیاگیاہےلیکن امام ابن حبان نےاسےکتاب الثقات میں ذکرکیاہے۔

محدث العصر علامہ البانی رحمہ اللہ نےاس روایت کو حسن قرار دیاہے۔ 

( سلسلة الأحادیث الضعیفة 392 / 2 ) 

بعض معاصر اہل علم نےاس کی یہ توجیہ بھی کی ہےکہ آٹا گوندھتےوقت کبھی کھلےہاتھ بھی استعمال ہوتےہیں،لہذا کھلےہاتھوں سےٹیک لگاکراٹھنےکی بھی گنجائش ہے،

لیکن یہ توجیہ امر واقعہ کےخلاف ہےکیونکہ کھلےہاتھوں سےآٹا نہیں گوندھا جاتابلکہ مٹھی بند کرکےاسےگوندھا جاتاہے۔

اس بناپرہماری تحقیق یہی ہےکہ ہر رکعت سےکھڑےہوتےوقت مٹھی بند کرکےزمین پرٹیک لگاکرکھڑےہوناچاہۓ۔

ہاں اگرکوئی عذر یااس میں دقت ہوتوکھلےہاتھوں اٹھنےکی گنجائش ہے۔

و اللہ أعلم ۔

علامہ عینی ؒ نےفقہاء کےحوالےسےاس کیفیت کو بیان کیاہے۔

( عمدة القاري : 568 / 4 ) 


(3)۔ 
اختصار کےساتھ کیفیت سجدہ حسب ذیل ہے: 

٭ سجدےکےلۓجھکتےوقت پہلےدونوں ہاتھوں کو زمین پررکھا جاۓ۔

(مسند أحمد 2 / 381 )


٭ سجدہ کرتےوقت درج ذیل سات اعضاء زمین پرلگنےچاہئیں : 

(1)۔
پیشانی اورناک 
(2)۔ 
(3)۔ 
دونوں ہاتھ 
(4)۔ 
(5)۔
دونوں پاؤں 
(6)۔
(7)۔
دونوں گھٹنے۔

(صحیح مسلم،الصلاة،1100،491 )

٭ دوران سجدہ میں ہاتھ زمین پرجبکہ کہنیاں زمین سےاٹھی ہوئی ہوں۔

( صحیح مسلم،الصلاة،1104،494 ) 

٭ دوران سجدہ میں قدموں کی ایڑیاں ملی ہوئی ہوں ۔ 

( المستدرک للحاکم 1 / 228 ) 

٭ سجدےمیں پاؤں کی انگلیوں کارخ قبلہ کی طرف اورقدم کھڑےہونےچاہئیں ۔ 

( صحیح البخاري،الأذان،828 )

٭ سجدےمیں دونوں بازو کشادہ،ہاتھ پہلوؤں سےدور،سینہ،پیٹ اوررانیں زمین سےاونچی،پیٹ کو رانوں سےاوررانوں کو پنڈلیوں سےجدا رکھیں ۔

( سنن أبي داود،الصلاة،963،730 )

٭ بحالت سجدہ ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی ہوں ۔

( المستدرك للحاکم 244 / 1 )

نیز بوقت ضرورت کسی کپڑےپرسجدہ کرناجائز ہے۔

( صحیح البخاري،الصلاة،385 ) 

واضح رہےکہ مرد اورعورت کےلۓسجدےکایہی طریقہ ہےجو اوپربیان ہوا ہے،اس کےعلاوہ کوئی خاص طریقہ عورت کےلۓکسی حدیث سےثابت نہیں ہے۔ 

[ هداية القاري شرح صحيح بخاري اردو،824،از عبد الستار حماد ]



ہ ےےےےےے ہ 



5 ۔ 
فتاوی ثناء اللہ خان مدنی رحمہ اللہ
ص 564



ہ ےےےےےے ہ 


جوائین ان : 



۔

۔