ہفتہ، 21 فروری، 2026

روزہ دار ریاکار نہیں ہوتا ؟

۔



۔ ہ ﷽ ہ ۔


روزہ دار ریاکار نہیں ہوتا ؟


ہ ےےےےےے ہ


سوال : 

کیا روزہ ریاکاری سے پاک ہوتا ہے ؟ 
روزہ دار میں ریاکاری نہیں ہو سکتی ؟
جیسا کہ حدیث قدوسی 
" روزہ میرے لۓ ہے میں ہی اسکا اجر و بدلہ دوں گا" 
کا مفہوم یہی بیان کیا جاتا ہے ؟ 
وضاحت مطلوب ہے ۔



جواب : 

اس سلسلے کی حدیث کہ :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: 

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ رَبَّكُمْ يَقُولُ: 

" كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَ الصَّوْمُ لِي وَ أَنَا أَجْزِي بِهِ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَإِنْ جَهِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ جَاهِلٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ ". 

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

” تمہارا رب فرماتا ہے : 
ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اگر تم میں سے کوئی جاہل کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہہ دینا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں“۔

سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 764


اس میں  " روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔" کے الفاظ کے معنی میں اہل علم کا اختلاف ہے یا یوں سمجھیں کے اہل علم نے اس کے مختلف معنی یا تشریح بیان کی ہے یا اہل علم کے مختلف اقوال ہیں جو اسی حدیث کے مختلف شروحات میں مل جائیں گے 

* اکثر اہل علم نے کہا کہ :

” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “  کا مطلب یہ ہے کہ روزہ میں ریا کاری کا عمل دخل نہیں ہے جبکہ دوسرے اعمال میں ریا کاری ہو سکتی ہے کیونکہ دوسرے اعمال کا انحصار حرکات پر ہے جبکہ روزے کا انحصار صرف نیت پر ہے ۔ 


* دوسرا قول یہ ہے کہ :  
دوسرے اعمال کا ثواب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ اس سے سات سو گنا تک ہو سکتا ہے لیکن روزہ کا ثواب صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ ہی اس کا ثواب دے گا دوسروں کے علم میں نہیں ہے اسی لیے فرمایا : 

«الصوم لي و أنا أجزي به» ۔
” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “

قال الشيخ الألباني: صحيح، 
التعليق الرغيب (2 / 57 - 58) ، صحيح أبي داود (2046) ، الإرواء (918)



* ایک قول یہ بھی ہے کہ : 
یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ اعمال سبھی اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں اور وہی ان کا بدلہ دیتا ہے پھر عمل وہی قبول ہوتا ہے۔
جو خالص اللہ کی رضا کےلئے کیا گیا ہو۔
ریا اور دکھاوے کی غرض سے کیا جانے والا عمل اللہ کے ہاں ناقابل قبول ہے۔
چونکہ روزے کا تعلق نیت سے ہوتا ہے۔
اور دوسرے ظاہری اعمال مثلا نماز زکوۃ اور حج وغیرہ کی نسبت روزہ پوشیدہ ہوتا ہے اور اس میں ریا کا شائبہ بھی کم ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اس کےاجر کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اور کہا گیا کہ ” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “


* ایک قول یہ ہے کہ :
" روزہ اللہ کے لیے ہے" ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بھی عبادت روزے سے نہیں کی گئی کیونکہ کفار و مشرکین نے کسی وقت بھی معبودان باطلہ کی عبادت روزے سے نہیں کی، نیز روزہ ایک ایسا خفیہ عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا مطلع نہیں ہو سکتا۔
روزے کے پاک عمل کو ایک پاک چیز سے تشبیہ دی گئی ہے اس لۓ کہا گیا 
” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “



* ایک قول یہ ہے کہ : 
دوسرے اعمال كى طرح روزے ميں رياء كارى نہيں ہو سكتى. قرطبى ؒ كہتے ہيں: 
جب سارے اعمال ميں رياء كارى داخل ہو سكتى ہے، اور روزہ ايك ايسا فعل ہے جس پر اللہ كے علاوہ كوئى اور مطلع نہيں ہو سكتا تو اللہ تعالى نے اسے اپنى جانب مضاف كيا، اور اسى ليے حديث ميں فرمايا:

" وہ ميرى بنا پر اپنى شہوت ترک كرتا ہے "



* ایک قول یہ ہے کہ :
ابن جوزى ؒ كہتے ہيں:

سب عبادات كرتے وقت ظاہر ہو جاتى ہيں، اور بہت ہى كم ايسى ہيں جن ميں رياء كا شائبہ نہ ہوتا ہو، يعنى ہو سكتا ہے اس ميں رياء شامل ہو، ليكن روزہ ايسا عمل ہے جس ميں رياء كارى كا شائبہ بھى نہيں .  



* ایک قول یہ ہے کہ :

" روزہ ميرے ليے ہے "

اس فرمان كا معنى يہ ہے كہ ميرے ہاں سب سے محبوب ترين اور مقدم عبادت يہى روزہ ہے.

ابن عبد البر كہتے ہيں: باقى سب عبادات پر روزے كى فضيلت كے ليے " روزہ ميرے ليے ہے " كہنا ہى كافى قرار ديا.

اور امام نسائى ؒ نے ابو امامہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم روزے ركھا كرو، كيونكہ اس كى مثل كوئى اور عمل نہيں "

سنن نسائى حديث نمبر ( 2220 ) علامہ البانى ؒ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.



* ایک قول یہ ہے کہ :
يہاں پر شرف اور عظمت كى اضافت ہے، جیسے بيت اللہ، كہا جاتا ہے، حالانكہ سارى مساجد تو اللہ كى ہيں ہى ليكن بيت اللہ كى اضافت شرف و عظمت كى اضافت ہے . 



* ایک قول یہ ہے کہ :  
زين بن منير كہتے ہيں:
اس طرح كے سياق ميں عمومى جگہ ميں تخصيص سے عظمت و شرف كے علاوہ كچھ سمجھا نہيں جا سكتا.
۔۔۔ وغیرہ 


خلاصہ :

حقیقی مفہوم و معنی تو اللہ ہی جانتا ہے ہمارے ناقص علم میں دلائل کی رو سے سب سے صحیح بات یا مفہوم اس حدیث کا جو معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ :

” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “ کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ روزہ دار میں ریاکاری نہیں ہو سکتی ، ایسا نہیں ہے بلکہ ریاکاری ہو سکتی ہے روزے دار میں بھی ، کیوں کہ نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ :

وعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُول: 
من صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ 
وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ 
وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ۔

شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : 

”جو شخص دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھتا ہے تو اس نے شرک کیا، 
جو شخص دکھلاوے کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس نے شرک کیا، اور 
جو شخص دکھلاوے کی خاطر صدقہ کرتا ہے تو اس نے شرک کیا۔ “ 
 
اسنادہ حسن، رواہ احمد ۔  
[مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5331]
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

معلوم ہوا کہ عبادت روزہ میں بھی بھی دیگر عبادات کی طرح روزہ رکھنے کا عمل کرنے والے میں بھی ریاکاری ہو سکتی ہے 

اور مؤمن کے تمام عبادات و نیک اعمال اللہ ہی کے لئے ہوتے ہیں ، فرمان الہی ہے :
 
قل إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين ۔۔۔
سورہ انعام 6 : 162 

ترجمہ:
آپ کہئے کہ میری نماز اور میری قربانی، اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔ 
سورۃ نمبر 6 الأنعام
آیت نمبر 162

تو یہ جو کہا گیا ہے کہ :
” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “
یہ دراصل روزہ کی شان عظمت و فضیلت ظاہر کرنے کہ لۓ کہا گیا ہے جیسے مثلا ماہ محرم کو بطور شان و عظمت و فضیلت کے   " شھر اللہ ۔۔۔ "   " اللہ کا مہینہ "   کہا گیا ہے ، جب کہ تمام ہی مہینے اللہ ہی کے ہیں ، ماہ محرم کع خاص کر کہنا بطور شان و عظمت و فضیلت کے ہے ۔

و اللہ اعلم  

طالب علم  
عزیر ادونوی 


ہ ےےےےےے ہ

جوائن ان : 


۔