منگل، 7 جولائی، 2026

دورِ حاضر کا نوجوان امت کا سرمایہ یا کھویا ہوا مستقبل؟ ام سلیمان محمدی

۔



۔ ﷽ ۔ 

📍*دورِ حاضر کا نوجوان امت کا سرمایہ یا کھویا ہوا مستقبل؟*

✒️*:ام سلیمان محمدی حفظہا اللہ۔*


ہ ےےےےےے ہ


📍نوجوانی انسان کی زندگی کا وہ سنہری دور ہے جس میں قوت، طاقت،ہمت، عزم، صلاحیت اور خواب اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس میں انسان اپنی زندگی کا رخ متعین کرتا ہے اور اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ اسلام نے نوجوانی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا ہے اور اس کی حفاظت و درست استعمال کی خصوصی تعلیم دی ہے۔

📍مگر افسوس آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ اپنی زندگی کے اس قیمتی خزانے کو فضولیات، بے مقصد مصروفیات، سوشل میڈیا کی حد سے بڑھی ہوئی مشغولیت، بے حیائی عورتوں کا فتنہ،اور وقت کے ضیاع میں کھو رہا ہے۔ وہ جوانی جو قرآنِ کریم کے فہم، علم کے حصول، والدین کی خدمت، امت کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف ہونی چاہیے تھی، وہ اکثر غیر ضروری چیزوں اور وقتی لذتوں میں صرف ہو رہی ہے۔

📍آج کا نوجوان گھنٹوں موبائل فون کی اسکرین کے سامنے گزار سکتا ہے، لیکن چند منٹ قرآنِ مجید کی تلاوت یا دینی مطالعے کے لیے نکالنا اسے دشواری اور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ راتیں جاگ کر فضول چیزوں میں وقت ضائع کرتے ہیں جس کی وجہ سےفجر کی نماز جیسی عظیم عبادت غفلت کی نذر ہو جاتی ہے۔ علم و تحقیق کے میدان خالی ہو رہے ہیں جبکہ نوجوان نسل بیدار ہونے کا نام تک نہیں لیے رہے ہیں وہ خواب غفلت میں سورہیں ہیں۔ 

 📍جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«﴿أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ﴾

"کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟"

(سورۃ المؤمنون: 115)»

📍یہ آیت نوجوانوں کے علاوہ ہر انسان کو یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا ایک مقصد ہے اور انسان کو اپنے ہر لمحے کا حساب دینا ہے۔

 📍جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے نوجوانی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

«"لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسأل عن أربع... وعن شبابه فيما أبلاه"

"قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے... اور اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں گزارا۔"
(جامع ترمذی: 2417)»
امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے  صحیح قرار دیئے ہیں۔ 

📍یہ حدیث نوجوانوں کو متوجہ کرتی ہے کہ جوانی صرف مستی اور مزےکا نام نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دینا ہوگا۔

📍افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بہت سے نوجوان نہ دین میں نمایاں ہیں اور نہ دنیا میں۔ نہ علم حاصل کرنے کا جذبہ، نہ عبادت کی رغبت، اور نہ والدین کی خدمت کا شوق اور نہ امت کی فکر۔ کاہلی، سستی اور بے مقصد زندگی بہت سے نوجوانوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔

📍اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایسے نوجوان نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی جوانی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کر دی تھی جن میں سے چند یہ ہیں۔

📍حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نوجوانی میں شرک کے خلاف علمِ حق بلند کیا۔

📍حضرت یوسف علیہ السلام نے جوانی میں پاکدامنی اور کردار کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

📍اصحابِ کہف نے ایمان کی خاطر اپنا گھر، خاندان اور آرام و آسائش سب کچھ چھوڑ دیا۔

📍حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حیا، سخاوت اور دین کی خدمت میں عظیم 
مثال قائم کی۔ 

📍حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی رسول اللہ ﷺ کے فرامین محفوظ کرنے کے لیے وقف کر دی۔

📍یہ وہ نوجوان تھے جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا، کیونکہ ان کے پاس ایمان تھا، مقصد تھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا جذبہ تھا۔

📍*اللہ تعالیٰ اصحابِ کہف کے بارے میں فرماتا ہے:*

«﴿إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى﴾

"بے شک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے، پس ہم نے ان کی ہدایت میں مزید اضافہ فرما دیا۔"

(سورۃ الکہف: 13)»

*📍آج ہر نوجوان کو اپنے آپ سے چند سوالات ضرور کرنے چاہئیں:*

- کیا میں اپنے والدین کے لیے باعثِ راحت ہوں یا باعثِ پریشانی؟
- کیا میری نمازیں وقت پر ادا ہوتی ہیں؟
- کیا میں روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہوں؟
- کیا میرا وقت کسی مقصد کے تحت گزر رہا ہے؟
- کیا میں علمِ دین اور علمِ دنیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟
- کیا میری صلاحیتیں امت اور انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں؟

*قارئینِ کرام۔*
📍اپنی جوانی کی قدر کریں، کیونکہ یہ زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت کو ضائع نہ کریں، کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ سوشل میڈیا کو اپنا سب کو کچھ نہ بنائے۔ علم حاصل کریں، اچھے اخلاق بنائے، والدین کی خدمت کریں، نمازوں کی پابندی کریں۔ اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں۔

📍یاد رکھو:جوانی چند دنوں کی مہمان ہے۔ لیکن اس میں کیے گئے اعمال کا اثر دنیا اور آخرت دونوں میں باقی رہتا ہے۔ جو نوجوان اپنی جوانی اللہ تعالیٰ کی اطاعت، علم، خدمتِ خلق اور نیک اعمال میں گزارتا ہے، وہ دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔

📌*علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں کی بلند ہمتی کو یوں بیان کیا:*

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔ 

📍آج امتِ مسلمہ کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو ایمان والے ہوں، علم والے ہوں، کردار والے ہوں، محنتی ہوں، باحیا ہوں اور اپنی صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور امت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے والے ہوں۔


📍*نوجوانوں کے وقت ضائع ہونے کے اسباب اور علاج۔* 

📌*اسباب۔*
*1:دین سے دوری اختیار کرنا۔*
جب انسان کو یہ نہ پتا ہو کہ زندگی کا مقصد کیا ہے تو وہ وقت ضائع کرتا ہے۔

*2:سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنا۔*
موبائل، گیمز اور سوشل میڈیا کی وجہ سے وقت ضائع ہوتا ہے۔

*3:اچھی تربیت کی کمی۔*
گھر ، والدین،اور مدرسہ، سے صحیح رہنمائی نہ ملے تو نوجوان غلط راستے پر چلا جاتا ہے۔

*4:بری دوستی کرنا۔*
غلط دوست انسان کو بھی غلط عادتیں سکھاتے ہیں۔

📌*علاج۔*
*1:دین سے تعلق مضبوط کرنا۔*
قرآن اور سنت پر عمل کرنے سے زندگی سیدھی ہو جاتی ہے۔

*2:وقت کا صحیح استعمال کرنا چائیے۔*
اپنا وقت ضائع نہ کریں اور روز کا کام وقت پر کریں۔

*3:اچھی تربیت ہونا۔*
والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کی صحیح رہنمائی اور ترتیب کریں۔

*4:اچھے دوست بنانا چائیے۔*
اچھے دوست انسان کو اچھا بناتے ہیں۔

*5:زندگی کے مقصد کو سمجھنا چائیے۔* 
یہ سوچنا کہ ہمیں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے، ایسی سوچ انسان کو بہتر بنا دیتی ہے۔

📍اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کو ایمانِ کامل، علمِ نافع، عملِ صالح، حیا، تقویٰ اور بلند کردار عطا فرمائے، اور انہیں امتِ مسلمہ کا حقیقی سرمایہ بنائے۔رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔آمین یا رب العالمین۔

ہ ےےےےےے ہ 

جوائین ان :

۔