منگل، 7 جولائی، 2026

مستقبل کا خوف اور اللہ پر کامل بھروسہ ام سلیمان محمدی


۔



۔ ﷽ ۔ 

📍*مستقبل کا خوف اور اللہ پر کامل بھروسہ۔*

[  ام سلیمان محمدی عفا اللہ عنہا  ] 


 ---------------------------------------------- 
 

📍اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو آزمائش کا گھر بنایا ہے۔ انسان کی زندگی میں کبھی خوشی آتی ہے کبھی غم کبھی آسانی اور کبھی ایسی آزمائشیں جن سے دل گھبرا جاتا ہے۔ انہی حالات میں ایک سوال بار بار انسان کے ذہن میں ابھرتا ہے۔ *"میرا مستقبل کیسا ہوگا؟"*

📍آج کا انسان بظاہر ترقی یافتہ ہے۔مگر اس کے دل سے سکون چھن چکا ہے۔ کوئی روزگار کے بارے میں پریشان ہے، کوئی شادی میں تاخیر سے غمزدہ ہے۔ کوئی اولاد کے مستقبل کی فکر میں مبتلا ہے۔ کوئی بیماری سے خوف زدہ ہے۔ کوئی قرض اور معاشی تنگی کی وجہ سے بے چین ہے، اور کوئی آنے والے کل کی غیر یقینی صورتِ حال سے ڈر رہا ہے۔ یہی اندیشے انسان کی موجودہ خوشیوں کو بھی چھین لیتے ہیں۔

📍لیکن ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے مستقبل کواپنےاندازوں کے سپرد نہیں کرتا بلکہ اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مستقبل انسان کے ہاتھ میں نہیں۔بلکہ مستقبل کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔

📍 میں تلاوتِ قرآن کر رہی تھی تو سورۂ مریم سامنے آئی۔ اس سورت میں غور کی تو محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کومستقبل کے خوف سے نکال کر اپنی قدرت اور رحمت پر کامل یقین سکھا رہے ہیں۔

📍 جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

*«﴿قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا﴾*

 "فرشتے نے کہا:ایسا ہی ہوگا۔ تمہارے رب نے فرمایا یہ میرے لیے بہت آسان ہے، اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں، اور یہ فیصلہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔(سورۃ مریم: 21)

📍حضرت مریم علیہا السلام نے عرض کیا کہ میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا جبکہ نہ میری شادی ہوئی ہے اور نہ کسی انسان نے مجھے چھوا ہے؟ انسانی عقل کے اعتبار سے یہ ایک ناممکن بات تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*«﴿هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ﴾*

*«یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔"»*

📍امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*«أي: ذلك سهلٌ عليَّ يسيرٌ، فإنِّي على ما أشاءُ قادرٌ.»*

"یعنی یہ کام میرے لیے نہایت آسان ہے، کیونکہ میں جو چاہوں اس پر پوری قدرت رکھتا ہوں۔"

حوالہ: تفسير القرآن العظيم، ابن كثير، تفسير سورة مريم، الآية (21)۔»

📍امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*«يَقُولُ تَعَالَى ذِكْرُهُ: قَالَ لَهَا جِبْرِيلُ: هَكَذَا الْأَمْرُ كَمَا تَصِفِينَ، مِنْ أَنَّكِ لَمْ يَمْسَسْكِ بَشَرٌ وَلَمْ تَكُونِي بَغِيًّا، وَلَكِنَّ رَبَّكِ قَالَ: هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ: أَيْ خَلْقُ الْغُلَامِ الَّذِي قُلْتُ أَنْ أَهَبَهُ لَكِ عَلَيَّ هَيِّنٌ، لَا يَتَعَذَّرُ عَلَيَّ خَلْقُهُ وَهِبَتُهُ لَكِ مِنْ غَيْرِ فَحْلٍ يَفْتَحِلُكِ.»*

"اللہ تعالیٰ (اپنے پیغام کا) تذکرہ فرماتے ہوئے فرماتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت مریم سے کہا: معاملہ بالکل اسی طرح ہے جیسے تم بیان کر رہی ہو کہ تمہیں کسی انسان نے نہیں چھوا اور نہ ہی تم بدکار ہو، لیکن تمہارے رب نے فرمایا ہے۔ یہ میرے لیے بالکل آسان ہے یعنی اس لڑکے کو پیدا کرنا جس کے بارے میں میں نے کہا ہے کہ میں تمہیں عطا کروں گا۔میرے لیے آسان ہے۔ میرے لیے اس کی پیدائش اور بغیر کسی مرد کے جو تمہارے پاس آئے۔ تمہیں اس کا تحفہ دینا کچھ بھی مشکل یا ناممکن نہیں ہے۔

جامع البيان عن تأويل آي القرآن (تفسير الطبری: سورۃ مریم، آیت نمبر (21)


📍امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*««أي ليس ذلك بعظيمٍ ولا متعذِّرٍ، فإنَّ الله تعالى لا يعجزه شيءٌ.»»*

"یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہ کوئی بڑا کام ہے اور نہ ہی مشکل، کیونکہ اللہ کو کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔"

حوالہ: الجامع لأحكام القرآن، الإمام القرطبي، تفسير سورة مريم، الآية (21)»

📍ان تمام تفاسیر کا خلاصہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسباب کا پابند نہیں بلکہ اسباب کا خالق ہے۔ جب وہ کسی نعمت یا کسی فیصلے کا ارادہ فرماتا ہے تو ظاہری وسائل کی کمی اس کے حکم میں رکاوٹ نہیں بنتی۔

📍اسی حقیقت کو سورۂ مریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے سے بھی واضح کیا گیا ہے۔

 جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

*«﴿يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا﴾*

 "اے زکریا ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے، اس سے پہلے ہم نے کسی کا یہ نام نہیں رکھا۔"(سورۃ مریم: 7)»

📍حضرت زکریا علیہ السلام عمر کے آخری حصے میں تھے، جسم کمزور ہو چکا تھا اور ان کی زوجہ بانجھ تھیں، لیکن جب انہوں نے اللہ سے امید وابستہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسا صالح بیٹا عطا فرمایا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے اسباب کے محتاج نہیں۔

📍اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی پر *غور کیجیے*۔ کنویں میں ڈالے گئے، غلام بنا کر بیچے گئے، بے گناہ ہونے کے باوجود قید خانے میں رہے۔لیکن انہیں معلوم بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں مصر کی سلطنت میں عزت و اقتدار عطا فرمانے والا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ بعض اوقات جن آزمائشوں کو ہم اپنا انجام سمجھتے ہیں۔ وہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری کامیابی کا آغاز ہوتی ہیں۔

📍اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

*«﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ﴾»*

"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔"(سورۃ الطلاق: 3)»


📌*اور ایک بات:* 

1: اگر آج تمہیں رزق کی فکر ہے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔

2: اگر شادی میں تاخیر ہے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔

3:اگر اولاد کی خواہش ہے تو حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے پر غور کرو۔

4:اگر حالات تمہارے خلاف ہیں تو حضرت مریم علیہا السلام کو یاد کرو۔

5:اگر مسلسل آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہو تو حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کو سامنے رکھو۔

6:اور اگر مستقبل تمہیں ڈرا رہا ہے تو اپنے رب کے اس فرمان کو اپنے دل میں بسا لو:*«﴿هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ﴾*

*«"یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔"»*

📍*یاد رکھو:* جس رب نے حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام عطا کیے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا کیے۔اور حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں اور قید خانے سے نکال کر مصر کا عزیز بنایا۔ وہی رب آج بھی زندہ ہے۔اس کی قدرت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

📍*اس لیے اپنے مستقبل کے خوف میں اپنی موجودہ خوشیوں کو ضائع نہ کرو۔* اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھو۔ صبر کو اپنا ساتھی بناؤ۔ دعا کو اپنا ہتھیار بناؤ۔ کیونکہ مستقبل تمہارے ہاتھ میں نہیں۔مگر مستقبل کا مالک وہ رب ہے جس کے لیے ہر ناممکن صرف *ہےھوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ"* ہے۔ 
اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما، اپنے احکامات پر چلنے والا بنا، ہر حال میں تجھ پر بھروسہ اور کامل یقین رکھنے کی توفیق عطا فرما۔رَبِّ ارْحَمْهَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔ آمین۔

ہ ےےےےےے ہ 

جوائین ان :