ہفتہ، 14 فروری، 2026

عنایت مدنی کی بے اعتدال سلفیت اور جامعہ عمرآباد کا راہ اعتدال

۔



۔

عنایت مدنی کی بے اعتدال سلفیت اور جامعہ عمرآباد کا راہ اعتدال  

عنایت مدنی کے جھوٹ

 
🖕
اسے کہتے ہیں بھیانک سانپ
🖕
یعنی بول رہا ہے غلط ، صحیح کے انداز میں
🖕


ہ ےےےےےے ہ 


سلفیت کے برقعے میں خارجیت

یہ عنایت اور محمد رحمانی انڈ کمپنی کی حقیقت یہ ہے کہ منہج منہج ، رد اخوانیت ، رد خارجیت ہی کے لیبل  میں خارجیت ہی کا احیاء کرنا ان کا کام ہوتا ہے ۔
بدعتیوں اور دشمنان اسلام کی سہولت کاری کرتے ہیں ۔
سلفی کبار صغار علماء ، دعاة ، برادرس ، سسٹرس ، اداروں ، مجلات ، ٹی وی ، وغیرہ پر ملاحظات کے پردے میں اخوانیت ، غیر منہجی ، غیر سلفی وغیرہ جیسے ہونے کے اتہامات لگاتے ہیں ۔

عنایت مدنی وغیرہ انڈ کمپنی کے خود ساختہ سلفیت و منہج کے حساب سے سارے سلفی مجلات و پبلشرس غیر سلفی غیر منہجی بن جاتے ہیں صرف یہ اور ان کی کمپنی ہی " نحن أبناء الله و أحباؤه " کے مصداق سلفی رہ جاتے ہیں ۔


ہ ےےےےےے ہ 


جو باتیں اس مجلہ پر کہہ کر اسے منہج بدر کیا گیا ہے اس کی رو سے تقریبا تمام تر اہل حدیث مجلات کا منہج مشکوک ہو جائے گا، جریدہ ترجمان، محدث، صوت الامہ، البلاغ، نوائے اسلام، اہل حدیث ، اہل حدیث گزٹ، التوعیہ، التبیان، الفرقان، اور فلاں اور فلاں، سب مجلات کی پرانی فائلیں اٹھا کر دیکھ لیجۓ، دور کیوں جاییے، اپنے گھر کے مجلہ التوعیہ اور التبیان کی فائل اٹھا کر دیکھ لیجیے، مگر نزلہ گرے گا تو بیچارے عمرآباد ہی پر ۔ 
جمیل اختر فیضی

 

ہ ےےےےےے ہ 
ہ ےےےےےے ہ


۔ ہ ﷽ ہ ۔ 

تجھے عزیز شبِ فہم ، ردّ و کد کے سبب
ترا چراغِ نظر گل ہوا حسد کے سبب (فکرِ عادؔل) 



راہِ اعتدال کے سلسلے میں صریح جھوٹ اور الزام تراشی، پروپیگنڈے کا جائزہ 

تحریر ...... 🖋️📒فیصل عادؔل 


ہ ےےےےےے ہ 


وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَـٰذَا حَلَـٰلࣱ وَهَـٰذَا حَرَامࣱ لِّتَفۡتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِینَ یَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا یُفۡلِحُونَ ۝١١٦ مَتَـٰعࣱ قَلِیلࣱ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِیمࣱ ۝١١٧﴾ 
[النحل] 

قال ابن كثير رحمه الله 👇
وَيَدْخُلُ فِي هَذَا كُلُّ مَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَيْسَ [لَهُ] فِيهَا مُسْتَنَدٌ شَرْعِيٌّ، أَوْ حَلَّلَ شَيْئًا مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ، أَوْ حَرَّمَ شَيْئًا مِمَّا أَبَاحَ اللَّهُ، بِمُجَرَّدِ رَأْيِهِ وتشهِّيه. 

بقولِ ابن کثیر رحمہ اللہ اس میں ہر وہ بدعتی داخل ہوجاتا ہے جو دین میں کوئی نئی بات پیش کرتا ہے جس کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی ہے یا پھر اپنی خواہشات یا خالص فکری بنیاد پر اللہ کی حرام کردہ کو حلال قرار دیتا ہے۔ یا حلال شۓ کو حرام ٹھہراتا ہے۔

ایک مولانا صاحب کو جب متاعِ قلیل مل جاتا ہے تو مسجد میں عورتوں کے پروگرام کو جائز قرار دیتے ہیں اور جب مسجد کے متولیان جیب گرم نہ کریں انھیں نہ بلائیں تو وہی مولانا فتوی صادر کرتے ہوئے جسے حلال سمجھتے تھے اسے حرام قرار دے دیتے ہیں ۔ 
گویا فتوے کے درخت پر ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی کی طرف کودنا کوئی ان سے سیکھے۔

یہی صاحب اپنی بات قضیہ کو جب ٹھوس دلائل سے پیش کرنے سے عاجز آتے ہیں تو بظاہر سستی شہرت کے حصول اور قلبی منافرت، حسد کے جذبات کی شفاے صدر کے لیے موقع بہ موقع منہجِ سلف کو بطورِ ڈھال استحصال کرتے ہوئے جامعہ دار السلام عمرآباد ، وہاں کے اساتذہ اور وہاں کے مجلہ راہِ اعتدال پر لب کشائی کرتے ہوئے جھوٹی باتیں کہتے ہیں جیسا کہ ملحقہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ 

ہمارا بس یہ کہنا ہے کہ 

ولا تقف ماليس لك به علم إن السمع والبصر والفؤاد كل أولئك كان عنه مسؤولا

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسير میں عطیہ بن سعد العوفی کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا قول نقل کیا ہے👈

قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَقُولُ: لَا تَقُلْ. قَالَ الْعَوْفِيُّ عَنْهُ: لَا تَرْم أَحَدًا بِمَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۔

لا تقف مطلب لا تقل (مت کہو) ۔ اور آگے کہا لَا تَرْم أَحَدًا بِمَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ. کسی پر ایسی بات کا الزام نہ لگاؤ جس کا تمھیں علم نہیں۔

اس ویڈیو (ملحقہ) میں انھوں نے کہا کہ اس مجلہ راہِ اعتدال میں عقیدے کے باب میں سنت کے باب میں سلفیت کے باب میں ہر طرح کے مضامین ان کے عقائد کے انحراف، سنت کے انحراف کو پورے طور سے نظر انداز کرتے ہوئے سارے لوگوں کے مضامین شائع کیے جاتے ہیں مودودی، حسن بنا، سید قطب، وحید الدین اور قرضاوی جیسے گمراہوں اور منحرفين کے مضامین شائع ہوتے ہیں ۔ اور جھوٹ باندھتے ہوۓ کہتے ہیں کہ راہِ اعتدال میں ان لوگوں کے چھوٹے بڑے مضامین ملیں گے اور مسلسل ملیں گے ۔ 

یہ ویڈیو 5 جنوری 2025 کی ہے ۔ 
اس پر ایک سال ہو چکا ہے مگر اس ویڈیو کو ان دنوں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے مقلدین بہت وائرل کر رہے ہیں اس لیے اس پھیلتے جھوٹ اور پروپیگنڈے کے وائرس کا ویکسینیشن ڈوز دینا ضروری سمجھا گیا ہے تاکہ جھوٹ اور الزام تراشی کے اسہال سے افاقے کا تیر بہدف نسخہ دیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ہم ان سے پہلے بھی چیلنج کر چکے تھے کہ آپ اپنی باتوں کی دلیل کے طور پر کوئی ایک جملہ جو غلط عقیدے و سنت کے انحرافات پر مبنی ہو راہِ اعتدال میں چھپا ہو آپ دکھا دیں ۔ صرف ہوا ہوائی باتوں اور بے پرکی اڑانے سے کچھ نہیں ہوتا ۔

میرا وہ مفصل مضمون اس لنک سے دیکھیں : 

فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے نزدیک بدعتِ مفسقہ کے ارتکاب سے وہ فرد ساقط الاعتبار ہوجاتا ہے اب اس کے اندر خیر کا کوئی عنصر باقی نہیں ۔ وہ شرِ محض ہوگیا ۔ اس کی کتاب اور خدمات پر پانی پھیر دیا جائے ۔ 

قارئین! یہ بتائیں 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ اخوانی سید سابق کی فقہ السنۃ کی احادیث کی تخریج امام البانی رحمہ اللہ نے کی تھی؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن بنا کی کتاب مجاہد کی اذان کے اردو ترجمے والی کتاب کی اشاعت پر  شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ نے تعریف و توصیف کے پل باندھے تھے؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ یوسف قرضاوی کی کتاب الحلال و الحرام کی احادیث کی تخریج امام البانی نے کی تھی؟

💠 کیا یہ صحیح نہیں کہ یوسف قرضاوی کی کتاب الحلال والحرام کا اردو ترجمہ 
 سب سے پہلے مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ نے دار السلفية سے چھپوا کر سارے ہندوستان میں مفت تقسیم کی؟ 

💠 کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ ایک اخوانی (عبد العزيز کامل) کی کتاب سے متاثر ہو کر اخوانیت کو پروموٹ کرنے کے لیے ترجمہ کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تھے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہجومِ اشغال کی وجہ سے وہ یہ کام نہ کر سکے ۔ پھر مولانا عبد المجید اصلاحی صاحب نے ترجمہ کیا تو جمعیت اہل حدیث نے شائع کیا؟

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ صوفی سرغنہ وحدت الوجود بدعتی خواجہ حسن نظامی کے مضامین شوق سے پڑھتے تھے اور ادارتی نوٹ کے ساتھ شائع کرتے تھے اور ان کے اسلوب کے بانکپن کے قتیل تھے؟ 

💠  کیا یہ سچ نہیں کہ استخفاف حدیث کرنے والے الطاف اعظمی کی کتاب توحید کا قرآنی تصور کی ترویج و اشاعت اور فروخت کا کام جامعہ سنابل کی طرف سے انجام پایا تھا؟ 

💠 کیا رشید رضا مصری اپنے انحرافات کے باوجود مولانا عبد الحميد رحمانی رحمہ اللہ نے ان کی تعریفوں کے پل نہیں باندھے تھے؟ جن کے نیچے سے منہجی غیرت کا آبِ زر بہہ گیا تھا؟ 

اگر ان منحرفين کی تحریروں میں سے جو کتاب و سنت کی روشنی میں درست بات ان کی کتاب میں ایک بھی نہیں ہوتی تو ان علماء نے ان کی کتابوں کی تخریج و ترجمہ وغیرہ پر وقت صرف کرنا کیوں گوارا کیا؟  

💠 کیا جامعہ سنابل میں غبار ِ خاطر جیسی کتاب موجود ہے کہ نہیں؟ جس میں موسیقی کو خوشنما بنا کر مفصل مکتوب مولانا آزاد رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نہیں ؟ جنھیں پڑھ کر ایک صاحب نے موسیقی کو روح کی غذا تک لکھ ڈالا ۔

💠 کیا یہ سچ نہیں کہ جامعہ سنابل کے تحت تفہیم القرآن کے نسخے فروخت کیے گئے؟ 

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن سلفی علماء نے ان منحرفين کی کتابوں سے تقارب و تواجہ کیا اور نشر و ترجمہ و تخریج وغیرہ میں گراں قدر وقت صرف کیا وہ منہج بدر ہوۓ کہ نہیں؟ 

کیا منہجی لاپرواہی ان میں بدرجہءِ اتم موجود تھی کہ نہیں ؟
وہ صلحِ کلّی والے ہوۓ کہ نہیں 
وہ ممیّع ہوۓ کہ نہیں؟ 
وہ سب کا ساتھ سب کا وکاس چاہنے والے اور اہلِ بدعت کے سہولت کار ہوۓ کہ نہیں؟ 

اگر منحرفين کی کتاب میں کوئی بات اچھی نہیں ان کی کتاب سے درست اقتباس تک نقل کرنا جائز نہیں تو اس نام نہاد چھلنی اور معیار پہ تو مملکت سعودی عرب کے سب سے بڑے مفتی شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ بھی نہیں اترتے ہیں ، 
انھوں نے بھی اپنی ایک کتاب میں اپنے قول کی تائید میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن کے کئی اقتباسات نقل کیے ہیں۔ 

وقلیل منک یکفیني ولكن 
قليلك لا يقال له قليل 
کے مصداق 

کیا وہ کتاب لکھتے وقت غیر منحرف علماء کی کتابوں سے استفادے کرتے تھے؟ 
اور کیا وہ سید قطب کی تفسیر سے مستغنی نہیں ہو سکتے تھے؟ 
آخر ایسی کیا ضرورت آ پڑی تھی کہ اس سے کئی جگہ پر اقتباسات نقل کرتے ہیں؟ 

ان منحرفين کی کتابوں کے پڑھنے، اقتباسات اٹھانے، ترجمہ کرنے اور ان کی نشر و اشاعت کے باب میں ان کے سامنے کیا اصول موجود تھا؟ 

کیا وہ خذ ما صفا ودع ما کدر کا اصول تھا؟ 
یہ تو فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے نزدیک باطل اصول ہے 

پھر شیخ فوزان حفظہ اللہ نے اقتباس نقل کیا تو وہ صحیح، مگر راہِ اعتدال میں کسی غیر سلفی کی قرآن و حدیث کی روشنی میں لکھی گئی درست اور منہجی بات کیوں درست نہیں؟ 

یہ دوہرے معیار اور دو پیمانے کیوں ہیں؟ 

واضح رہے کہ ہم ان منحرفين کی ہر بات درست نہیں مانتے ہیں بلکہ ہمارے سامنے بھی ملاحظات ہیں ۔ 

بس آئینہ دکھا دے رہے ہیں تاکہ دوہرے معیار والے اس میں اپنا سراپا دیکھ لیں۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کچھ بات تو ضرور ہے ورنہ بار بار اسی جامعہ دار السلام عمرآباد پر کیوں سوال اٹھایا جاتا ہے؟ 

اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت کسی بات پر سوال اٹھائے تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان کا قضیہ اور قول درست ہی ہو! 

کیا ہم نہیں دیکھتے کہ مسلمانوں کے دین، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی، اسلام، قرآن، جہاد پر لوگ بار بار سوال اٹھاتے ہیں؟ 

اس سے کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اسلام میں کچھ تو گڑبڑ ہے دال میں کالا ہے نعوذ باللہ؟ 

کیا ہندوستان میں مسلمانوں کو حب الوطنی کے ثبوت بار بار نہیں مانگے جاتے ؟

کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہوگا کہ کچھ تو خرابی ہے مسلمانوں کی حب الوطنی میں؟ 

کیا آئے دن اہلِ اسلام پر دہشت گردی کے الزامات نہیں لگائے جاتے ہیں؟ 

معترض کی منطق کے حساب سے کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ کچھ تو گڑ بڑ ہے نعوذ باللہ؟ 

کیا کسی بے خبر، لاعلم اور دشمنی میں مبتلا شخص کی دشمنی پر مبنی رائے اور جھوٹ کی بنیاد پر کسی ادارے کے تعلق سے بدظن ہو جانا اور منہج بدری کا ٹھپہ لگانا اور اخوانیت و مودودیت کا مدرسہ ٹھہرانا مناسب ہوگا؟ 

کیا یہ بلاثبوت مانگے ٹھوس دلیل کے بغیر ہی بات مان لینا تقلید نہیں؟  

کیا سلفیوں میں یہ تقلیدِ اعمی کی بدعت سرایت کر چکی ہے اسے تسلیم شدہ حقیقت مان لیا جائے؟ 

کیا اکثریت کی رائے ہمیشہ سچ ہوتی ہے؟ 

قرآن دیکھیے کیا کہتا ہے : 
وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِی ٱلۡأَرۡضِ یُضِلُّوكَ عَن سَبِیلِ ٱللَّهِۚ إِن یَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا یَخۡرُصُونَ ۝١١٦ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ مَن یَضِلُّ عَن سَبِیلِهِۦۖ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِینَ ۝١١٧﴾ 
[الأنعام ١١٦-١١٧] 

یہاں کثرت کی بنیاد پر حق ماننے والوں کے متعلق ہے کہ اگر ان کی بات مانیں گے تو وہ تمھیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے 

دوسری آیت میں بتایا گیا ہے 

وَمَا یُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ ۝١٠٦

لوگوں کی اکثریت اللہ کے ساتھ شرک میں مبتلا ہیں ۔

سورہ یوسف میں کہا گیا ہے :

وَمَاۤ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِینَ 

ایک جگہ کہا گیا ہے :

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحࣰا وَإِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ وَجَعَلۡنَا فِی ذُرِّیَّتِهِمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَـٰبَۖ فَمِنۡهُم مُّهۡتَدࣲۖ وَكَثِیرࣱ مِّنۡهُمۡ فَـٰسِقُونَ ۝٢٦ 

آخر میں دیکھیں 
ہدایت یافتہ کچھ ہی لوگ ہیں اور بیشتر فاسق ہیں بتایا گیا ہے ۔

ایک جگہ بتایا گیا 
 ٱعۡمَلُوۤا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرࣰاۚ وَقَلِیلࣱ مِّنۡ عِبَادِیَ ٱلشَّكُورُ ۝١٣﴾ 

شکر اور اطاعت کے جذبے سے سرشار ہو کر عمل کرتے جاؤ ۔ بہت کم بندے شکر گزار ہیں ۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں کہا گیا ہے :

حَتَّىٰۤ إِذَا جَاۤءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلۡنَا ٱحۡمِلۡ فِیهَا مِن كُلࣲّ زَوۡجَیۡنِ ٱثۡنَیۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَیۡهِ ٱلۡقَوۡلُ وَمَنۡ ءَامَنَۚ وَمَاۤ ءَامَنَ مَعَهُۥۤ إِلَّا قَلِیلࣱ﴾ 
[هود ٤٠]

آیت کے آخری ٹکڑے پر نظر ڈالیں کہا گیا ہے کہ ساڑھے نو سو سال سے زائد دعوت کے باوجود بڑی قلیل تعداد میں لوگوں نے ایمان قبول کیا تھا۔

ایک جگہ کہا گیا ہے :

قُل لَّا یَسۡتَوِی ٱلۡخَبِیثُ وَٱلطَّیِّبُ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِیثِۚ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ یَـٰۤأُو۟لِی ٱلۡأَلۡبَـٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ۝١٠٠ 

خبیث چیزوں کی کثرت تمھیں حیرانی (تعجب) میں ڈال سکتی ہے مگر طیب کے مقابلے میں اسکی کوئی وقعت نہیں ۔ اور یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔

مضمون کے اختتام پر ایک شعر پیش ہے

تمنا سربلندی کی ہمیں بھی تنگ کرتی ہے
مگر ہم دوسروں کو روند کر اونچا نہیں ہوتے

بشکریہ : 

۔

اتوار، 1 فروری، 2026

ماہ شعبان اور من گھڑت رسوم و بدعات افروز عالم سلفی

۔

۔

ماہ شعبان اور من گھڑت رسوم و بدعات 

افروز عالم بن ذکراللہ سلفی ،گلری

ہ ےےےےےے ہ


۔ ہ﷽ ہ ۔


ماہ شعبان بڑی عظمت والا مہینہ ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اس لیے مسلم ہے کہ یہ ماہ رمضان کے مقدس و متبرک مہینہ کے لیے گویا بطور تمہید ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں رمضان کو چھوڑ کر بقیہ مہینوں کی بنسبت زیادہ روزے رکھتے تھے۔
 
ماہ شعبان کو چار حرمت والے مہینوں میں شمار کرنا درست نہیں ،اس پورے مہینے میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے جس عبادت کا خاص طور پر اہتمام کیا وہ "روزہ "ہے ۔ کسی ایک دن کے ساتھ اس کو خاص نہیں کیا اور نہ ہی اس مہینے کے کسی ایک دن کے روزے کی کوئی فضیلت بیان کی۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ _"كانَ أحبَّ الشُّهورِ إلى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ أن يصومَهُ شَعبانُ ، بل كانَ يصلُهُ برَمضانَ" ( أخرجه أبو داود (2431)، والنسائي (2350) واللفظ له، وأحمد (25548) وصححه الألباني رحمه الله فى صحيح ابى داود
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزوں کے لئے سب سے محبوب مہینہ شعبان تھا پھر آپ شعبان  کے روزوں کو رمضان المبارک کے روزوں سے جوڑ دیتے تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے اکثر ایام روزے سے ہوتے تھے ۔
لھذا امت مسلمہ کو بھی ماہ شعبان کے اکثر روزے رکھنے چاہیے نیز کچھ ایسی بھی روایات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن اپنے گزشتہ رمضان کے چھوڑے ہوے قضا شدہ روزے ماہ شعبان میں رکھتی تھیں ،پس جو خواتین رمضان کی قضا شدہ روزے ماہ شعبان سے قبل ادا نہ کرسکیں تو وہ لازماً ماہ شعبان میں ادا کریں تاکہ نئے رمضان سے قبل وہ اس فریضے کو انجام دے سکیں ۔

شعبان کے پندرہویں رات کی شرعی حیثیت:-
شعبان کے پندرہویں رات کے تعلق سے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ؟؟
اس سلسلے میں وارد احادیث ضعف اور وضع سے خالی نہیں ،صرف ایک حدیث جو گرچہ طعن سے خالی نہیں ہے مگر علامہ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کے سارے طرق ملانے کے بعد درجہ استناد کو پہنچتی ہے ۔
حدیث:-"( إنَّ اللَّهَ ليطَّلعُ ليلةِ النِّصفِ من شعبانَ فيغفرُ لجميعِ خلقِه إلَّا لمشرِك أو مشاحِنٍ") (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ 136/03 حدیث نمبر : 1144)
اس کے علاوہ جتنی احادیث ماہ شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت میں بیان کی جاتی ہیں اور انھیں اخبارات اور محفلوں کی زینت بنایا جاتا ہے وہ سب انتہائی کمزور بلکہ من گھڑت ہیں ۔

مذکورہ بالا حدیث میں پندرہویں شعبان کی فضیلت دوسری راتوں کے مقابلے میں بالکل ثابت نہیں ہے اس لیے کہ صحیحین کی حدیث کے مطابق ایسا بلکہ اس سے زیادہ فضیلت ہر رات کی توبہ و استغفار کو حاصل ہے ۔

چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:-"
يَنْزِلُ رَبُّنا تَبارَكَ وتَعالَى كُلَّ لَيْلةٍ إلى السَّماءِ الدُّنْيا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ، يقولُ: مَن يَدْعُونِي، فأسْتَجِيبَ له؟ مَن يَسْأَلُنِي فأُعْطِيَهُ؟ مَن يَستَغْفِرُني فأغْفِرَ له؟"
أخرجه البخاري (1145)، ومسلم (758)، وأبو داود (1315)، والترمذي (446) واللفظ له، والنسائي في ((السنن الكبرى)) (10310)، وابن ماجه (1366)، وأحمد (7792).

وفی روایۃ لمسلم:-("فلا يزالُ كذلِكَ حتَّى يضيءَ الفجرُ")

ہمارا رب جو بابرکت اور بلند والا ہے ہر رات کا جب تہائی حصہ باقی ہوتا ہے تو وہ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے پھر کہتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟؟
اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کروں ؟؟
اور کون ہے جو مجھ سے معافی طلب کرے تو میں اس کو معاف کردوں ؟؟

صحیح مسلم کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ:" پھر وہ بدستور اسی طرح رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاۓ۔"

اس صحیح حدیث کی روشنی میں یہ فضیلت ہر رات کو نصیب ہوسکتی ہے ۔
لہذا اسے شعبان کی پندرہویں رات کے ساتھ خاص کرنا یقیناً غلط اور حدیث نبوی کے مفہوم سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ:- 
جو لوگ اس رات کی خصوصی فضیلت کے قائل ہوکر اس میں قیام نماز کا اہتمام کرتے ہیں وہ سورہ" الدخان" کی آیت کریمہ" انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ" میں "لیلۃ مبارکۃ" سے پندرہویں شعبان کی رات مراد لیتے ہیں جب کہ اس سے مراد "شب قدر " ہے ،اور اس کی تائید سورۃ القدر کی آیت " انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" سے ہورہی ہے ۔
جمہور علماء کی یہی راۓ ہے کہ اس سے مراد شب قدر ہے نہ کہ شعبان کی پندرہویں رات
کیونکہ قرآنی توضیح کے مطابق نزول قرآن رمضان میں ہوا تھا نہ کہ شعبان میں لہذا لیلۃ مبارکۃ سے "شب قدر" ہی مراد لی جاسکتی ہے ۔( تفسیر ابن کثیر 245/06, فتح القدیر 298/04)۔


ماہ شعبان رسوم و بدعات:-

(1) شب برات کا اہتمام:- 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس رات گناہ بخشے جاتے ہیں ،اسی کو بنیاد مان کر بعض غلو پسند حضرات رات گزار کر بلند آواز سے دعائیں کرتے ہیں ان دعاؤں کو لوگوں نے از خود گڑھ لیا ہے، قبروں کی زیارت کرتے ہیں جب کہ اس رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مخصوص عمل ثابت نہیں ہے ۔
(لطائف المعارف 139/01)

(2) حلوہ بنانا :-
پندرہویں شعبان کو حلوہ بنانا اس مناسبت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید ہوگیا ،اس لیے آپ کو حلوہ کھلایا گیا،اس لیے ہم بھی اسی کی یاد میں ایسا کرتے ہیں ۔
اولا تو یہ حدیث موضوع و من گھڑت ہے لیکن اگر یہ بات تسلیم کرلیں کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہونے کی وجہ سے حلوہ پکایا جاتا ہے تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک جنگ احد شوال المکرم سن ٣/ ہجری میں شہید ہوے تھے نہ کہ پندرہ شعبان کو ۔
اور ماہ شوال میں کوئی حلوہ نہیں پکاتا ،لہذا شب برات کو مخصوص عمل سمجھ کر حلوہ پکانے کا اہتمام کرنا درست نہیں ہے۔
بہرحال حلوہ صحت بخش اور مقوی غذا ہے ،انسان کو میسر ہو تو اسے روزانہ کھانا چاہیے ،حلوہ کھانے پکانے کے لئے کوئی دن خاص کرنا اور اسے کار ثواب سمجھنا صحیح نہیں ہے۔
یہ کون سی محبت اور کون سی اتباع نبی ہے ۔ کسی نے سچ کہا :-
کسی کو زخم لگے کھاۓ دوسرا حلوہ
یہودیوں کی طرح یہ ہے من و سلوی

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وتابعین وبزرگان دین کے عمل میں کہیں حلوہ خوری کا تذکرہ نہیں ہے لہذا ہر بندہ مومن کو اس عمل سے احتراز کرنا چاہئے ۔

(3) چراغاں و آتش بازی :-
اسی طرح پندرہویں شعبان کے موقع پر روشنی و چراغاں کرتے ہیں یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے ۔ مساجد کے لئے اہتمام کے ساتھ ضرورت سے زائد روشنی کا انتظام کیا جاتا ہے جب کہ شریعت اسلامیہ میں کوئی بھی ایسی دینی مناسبت نہیں ہے جس میں کبھی رسول یا صحابہ کرام یا خلفاء راشدین نے معمول سے زائد روشنی کی ہو ۔

اسی طرح اس رات کو مساجد میں آوازیں بلند کی جاتی ہیں جو ناقوس نصاریٰ کے مانند ہوتی ہیں اور مساجد میں حلقہ بناکر" لا الہٰ الا اللہ" کے بجائے" لایلاہ یلله" کا ورد کرتے ہیں اور دین کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں ۔ (المنکرات ص:76, الابداع فی مضار الابتداع ص:289)

(4) ہزاری نماز :-
پندرہویں شعبان کی رات میں جو نماز پڑھی جاتی ہے" صلاۃ الفیہ" سے معروف ہے جس کے معنیٰ ہزار رکعت والی نماز ہے ،اس ماہ کی پندرہویں شب کو ہزاروں مرد و عورتیں "صلاۃ الفیہ" پڑھتے ہیں ۔ سو رکعت نماز پڑھتے ہیں جس کی ہر رکعت میں " سورۃ الاخلاص" دس دفعہ پڑھنا ہوتا ہے ،تو اسی طرح سورۃ الاخلاص سو رکعت میں ایک ہزار دفعہ پڑھا جاتا ہے اس لیے اس نماز کو "صلاۃ الفیہ" کہتے ہیں ۔(البدع الحولیۃ،ص: 299, المجموعہ للنووی 56/04)

دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد خلافت راشدہ میں اس کا ثبوت نہیں ملتا ،بلکہ قرون مشھود لھا بالخیر(صحابہ،تابعین،تبع تابعین) کے دور میں بھی اس کا وجود نہیں تھا ۔ اس بدعت کو ابن أبی الحمراء جونابلس فلسطین کا تھا سن 448/ ہجری میں ایجاد کیا ۔
ہزاری نماز کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھی اور نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وہ نماز ادا کی اور نہ بعد کے ادوار میں ائمہ سلف صالحین نے ادا کی ۔ ( فتاویٰ لابن تیمیہ 131/23, و اقتضاء الصراط المستقیم 628/02)

(5) زیارت قبور:-
قبرستان جانا اور مردوں کے لئے مغفرت کی دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ رہی ہے وہ کسی بھی دن کسی وقت قبرستان جایا کرتے اور دعا کرتے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیوں کے لئے بھی قبرستان کی زیارت کرنے کے لیے کہا ، مقصد یہ تھا کہ زیارت قبور موت کو یاد دلاۓ اور دنیا سے بے رغبتی کا جذبہ پروان چڑھاۓ۔

لیکن پندرہویں شعبان کی رات میں قبرستانوں کو سجا سنوار کر رکھنا اور قافلہ کی شکل میں ان کی زیارت کے لئے جانا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ آدمی جب چاہے قبرستان جاۓ اور دعاء مغفرت کرے ۔
ہاں صحیح حدیث میں آخر شب میں جانا نبوی طریقہ ہے اس لیے رات کے آخری حصے میں جانا ہی مسنون ہے، اس کے لیے کوئی خاص رات اور ہر خاص شکل وہییت ثابت نہیں ہے ۔
جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں پندرہویں شعبان کی رات میں مردے اپنے اپنے قبروں میں اپنے رشتے داروں ،اعزہ و اقارب کا انتظار کرتے ہیں ،جن کے رشتے دار وہاں پہونچ جاتے ہیں وہ خوش ہوجاتے ہیں اور جن کا عزیز یا رشتے دار نہیں پہونچتا تو وہ بہت دکھی ہوتے ہیں بلکہ دوسرے مردوں کے سامنے بہت شرمندہ ہوتے ہیں ،اس طرح کا عقیدہ باطل اور لغو ہے،شریعت مطہرہ میں ثابت نہیں ہے ،احادیث صحیحہ کے ذخیرے میں اس کا ادنیٰ ثبوت بھی نہیں ہے ۔(تلبیس ابلیس لابن الجوزی ص:429، احکام الجنائز ص: 358)

اگر پندرہویں شعبان کی رات میں زیارت قبور کی اس قدر اہمیت ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چپکے سے قبرستان نہیں جاتے بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو مطلع کردیتے اور اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ترغیب دلاتے کہ اس رات میں وہ بھی قبرستانوں کی زیارت کیا کریں ،لیکن احادیث میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ملتی ۔

اس رات میں تمام سنن کو چھوڑ کر قبروں کی زیارت کرنا بھی مسنون نہیں ہے ۔صحیح یا ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہے۔

(6)روحوں کی آمد کا یقین :-
اس رات میں مردے کی روحوں کی آمد و حاضری کا عقیدہ رکھنا،ان کے لیے گھروں کو صاف کرنا،دیواروں کو ان کی تکریم کے لئے لیپ کرنا اور ان کی ضرورت کے لئے اس میں چراغاں کرنا یہ تمام امور بدعت وگمراہی میں سے ہیں ۔( مرعاۃ المفاتیح 342/04)

(7) روح ملانے کا ختم:-
بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جو شخص شب برات سے پہلے مرجاتا ہے اس کی روح روحوں میں نہیں ملتی بلکہ آوارہ بھٹکتی رہتی ہے اس لیے روح کو روحوں میں ملانے کے لیے امام مسجد کے ذریعے ختم دلایا جاتا ہے ،عمدہ قسم کے کھانے ،میوے ،پھل فروٹ،قیمتی کپڑے مجلس میں رکھ کر امام مسجد ختم پڑھتے ہیں اور امام صاحب سب کچھ سمیٹ کر گھر لے جاتے ہیں ،میت کے گھر والے شکرانہ ادا کرتے ہیں کہ میت کی روح روحوں میں شامل ہوگئی ،اگر یہ سب نہ ہوتا تو اس کی بددعا سے گھر والوں پر تباہی آتی ۔
اس غلط نظریہ کا کتاب وسنت میں ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا ہے ۔یہ ایک جاہلانہ عقیدہ ہے ۔

(8) شعبان کے میلے کی خرافات:- 
پندرہویں شعبان کے موقع پر میلے اور اس پر اٹھنے والے بے شمار خرافات اور فضول خرچیاں دین کے نام پر انجام دے جاتی ہیں حالانکہ اسلام ان چیزوں سے بری ہے۔(السنن والمبتدعات ص: 17)

یہ اور اس طرح کے بے شمار بدعات وخرافات اور بے حیائی و بےشرمی کی بے شمار داستانیں اس طرح کی راتوں میں رقم کی جاتی ہیں ،جس کی وجہ سے پندرہویں شعبان کی رات قباحتوں ،برائیوں کا باعث بن جاتی ہے ۔
لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان رسومات بد سے توبہ کرکے توحید وسنت کے گلستان میں واپس آئیں تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے حوض کوثر کا جام اور آپ کی شفاعت نصیب ہوسکے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب بے اصل اور غیر شرعی دینی امور سے کلی طور پر اجتناب کی توفیق دے اور مکمل طور پر ہمیں کتاب وسنت کا پابند بناۓ آمین تقبل یا رب العالمین

#AfrozGulri 
https://wa.me/+917379499848
01/02/2026

۔

اتوار، 11 جنوری، 2026

شرعی امور میں مصالح العباد فیصل عادل

۔

۔ ﷽ ۔


شرعی امور میں مصالح العباد  

فیصل عادل 

ہ ےےےےےے ہ
ہ ےےےےےے ہ


کما تدين تدان !  

ہم نے بے مایہ ہی دیکھا ترے دیوانوں کو

فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کی دین میں انکارِ مصالح کی بات اس تحریر سے پہچان لیں 

نگارش از خامہ📒🖋️...... فیصل عادؔل 


۔🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷۔


1۔ 
فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے 
امام و متبعین سبھی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھائے جانے والے اعتدال و وسطیت، تسامح و تعایش کو ایسے پسِ پشت ڈال دیتے ہیں جیسے البیک کے مقلی دجاج کھا کر مرغی کے ران کی ہڈی کو پھینک دیا جاتا ہے ۔ 

جامعۃ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ریال پانے کے لئے مداہنت کرتے ہیں ۔ 

چپی سادھ لیتے ہیں ۔ ؎

ہو سامنے ریال تو حنظل بھی شہد ہے

اب ہند میں عسل سے مفاصل کا  درد ہے

وہاں اعتدال کا مذاق نہیں اڑاتے تسامح و تعایش کے پروموشن پر چیں بہ جبیں نہیں ہوتے ہیں ۔  سبھی مذکرہ کو دریا برد کر کے یونی ورسٹی میں لہو و لعب میں مکمل توغّل و شراکت درج کراتے ہیں ۔ ایرانی مہرجان وغیرہ میں ہر سال معین دن پر خوشیاں منائی جاتی ہیں
اسی طرح ایسے دن 
خوشی، زینت، جلوس، خصوصی پروگرام وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں! ؎

لذتِ معصیت ِ عید نہ پوچھ
ہند میں بھی یہ بلا یاد آئی

عيدِ یوم وطنی بھی اسی قبیل سے ہوتا ہے  “ امت ”  کی جگہ  “ قوم / وطن ”  کو مرکزی شعار بناتے ہیں
اس بنا پر منہجی کبار علمائے سلف نے انہیں غیر شرعی عید اور کفار کی مشابہت کہا ہے ۔ جنھیں خوشی خوشی وہاں کے طلبہ سعودی عرب میں مناتے ہیں ۔

یہ اعتدال منعِ تطرف و تشدد کو لات مارنے والوں کی کیسی دوغلی پالیسی اور دوہرے معیار ہیں؎

دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہوجا

جس طرح نیا ڈاکٹر انجکشن لگانے میں پھرتی دکھاتے ہوئے کچھ مقامات پر مریض کا پاجامہ تیزی سے مکمل کھینچ دیتا ہے اسی طرح مدینہ سے پڑھ کر آنے کے بعد یہ لوگ دہائیوں سے میدانِ عمل میں خدمت دین کرنے والے عمرآباد کے مدنی سلفی علماء کا منہجی خرقہ سونگھ کر دیکھتے ہیں اور تار تار کر دیتے ہیں اور پھرتی سے انھیں منہج بدر کر دیتے ہیں ۔؎

گدائے میکدہ ام، لیک وقتِ مستی بیں
کہ ناز بر فلک و حکم بر ستارہ کنم



2۔ 
جدید متخرجين کے علمی معیار کو دیکھ کر محققین کہتے ہیں کہ جامعۃ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تعلیمی معیار نمایاں طور پر گر چکا ہے۔ صرف مذکرہ پر کلّی اعتماد ہوچکا ہے۔ لائبریریوں میں جانے کے بجائے فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ میں زیادہ مصروفیت دکھائی پڑتی ہے ۔

اس پر مستزاد ستم بالائے ستم الم در الم یہ ہے کہ طلبہ برائے ریال مکثِ طویل کے لیے معہد سے دکتوراہ تک فیل پاس کر کے عمر کا بیشتر حصہ وہاں گزارتے ہیں بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر سر کے بال جھڑوا لیے ہوں گے مگر پھر بھی مساکین فی العلم ہوتے ہیں ۔ 

اسی طرح نصاب کی تبدیلی کے بعد علمی انحطاط آیا ہے ۔  رسوخ فی العلم اور ٹھوس معلومات نہ ہونے کے باعث لکیر کے فقیر بن کر ایک ہی جگہ ایک ہی بات پر شدت کی لاٹھی پیٹتے رہ جاتے ہیں ۔ 

آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا ۔  

مختلف دینی محاذ پر کام کرنے کے لیے رائل لائف جینے کے بعد طبیعت آمادہ نہیں ہوتی ہے تو صرف کسی کمرے میں بیٹھ کر آن لائن تحذیر اور نفرتی شعلے بھڑکانے میں ہی لطف ملتا ہے اور اسی سے مسرت کشید کرتے ہیں ۔  
جبکہ ہمارے علمائے سلف کس قدر تقشف کی زندگی گزار کر عملی میدان میں دعوت و اصلاح کا فریضہ انجام دیتے تھے 

یہ لوگ صرف سلفی علماء کو ٹارگٹ کر کے بطریقِ سہل شہرت و ناموری کے خواہاں ہوتے ہیں ۔ 

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مراتب و درجات اور عملی میدان سے دوری بنا کر صرف تحذير پر مکتفی ہو کر سمجھ جاتے ہیں کہ فردوس کی کنجی مل گئی ہے ۔

انھیں بدعتی کو خارجیت زدہ ہو کر اسلام سے خارج ماننے اور مشرکین و کافرین سے بھی زیادہ دین سے دور ماننے میں ہی خوشی ملتی ہے ۔

روشِ خوارج پر چل کر عَش عَش کرتے ہیں ۔ 

فقہ الدعوۃ کے تحت بڑے بڑے سلفی علماء نے جو اہلِ بدعت کے ساتھ تعامل کے اصول و ضوابط بنائے ہیں انھیں یہ جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں 

بس اپنے ایک مقالہ رطب و یابس کا پلندہ جو جمع کر کے ڈگری پائے ہیں اسی کا غرور اور گھمنڈ اور تکبر چھایا رہتا ہے 

اور سمجھ لیتے ہیں کہ مناقشہ ہوتے ہی دین کے ہر ہر مسئلے میں گفتگو کی اجازت مل گئی ۔ 

کوئی شخص اگر ناک کا ڈاکٹر ہے وہ اگر آنکھ کا آپریشن کر دے تو خدا ہی خیر کرے ۔ 

اسی طرح عمر بھر مدینہ میں مداہنت کرنے والے کوئی کتاب ڈھنگ سے نہیں پڑھتے صرف مذکرہ پر گزارا کرنے والے اب یہ حق ماننے لگے ہیں کہ ہمیں ہی فقط ہر ہر مسئلے پر زبان آرائی کا حق ہے ہم نے دکتوراہ کر لیا ۔  

علمِ دین ایک اتھاہ سمندر ہے اس کے کسی ایک قطرے پر کچھ مواد حاطب اللیل کی طرح رطب و یابس جمع کر لینے سے خود کو دنیا کا فقیہِ اعظم سمجھنا مجذوب کی بڑ سے زیادہ کچھ نہیں ۔

یہ مقاصدِ شریعت اور مصالح دینیہ و دنیاویہ سے بالکلیہ انکار کرتے نظر آتے ہیں ۔ اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں جبکہ
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے 

وَلْتَكُنْ هِمَّتُهُ فَهْمَ مَقَاصِدِ الرَّسُولِ فِي أَمْرِهِ وَنَهْيِهِ وَسَائِر كَلَامِهِ. فَإِذَا اطْمَأَنَّ قَلْبُهُ أَنَّ هَذَا هُوَ مُرَادُ الرَّسُولِ فَلَا يَعْدِلُ عَنْهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى وَلَا مَعَ النَّاسِ إذَا أَمْكَنَهُ ذَلِكَ ۔
( مجموع الفتاوی ١٠ / ٦٦٤ )

ترجمہ ⏪
" اور ( طالبِ علم یا فقیہ کی ) ہمت اور کوشش کا مرکز یہ ہونا چاہیے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اوامر ، نواہی اور آپ ﷺ کے دیگر تمام ارشادات کے مقاصد کو سمجھے۔ پھر جب اس کے دل کو یہ اطمینان حاصل ہو جائے کہ رسول اللہ ﷺ کی مراد اور منشا یہی ہے، تو پھر وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ( معاملات ) میں اس سے روگردانی نہ کرے، اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ ( برتاؤ میں )، اگر اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو۔"

دوسری جگہ مصالحِ عباد سے متعلق امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں :

الْعِلْم بِصَحِيحِ الْقِيَاسِ وَفَاسِدِهِ مِنْ أَجَلِّ الْعُلُومِ وَإِنَّمَا يَعْرِفُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ خَبِيرًا بِأَسْرَارِ الشَّرْعِ وَمَقَاصِدِهِ، وَمَا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ شَرِيعَةُ الْإِسْلَامِ مِنْ الْمَحَاسِنِ الَّتِي تَفُوقُ التَّعْدَادَ، وَمَا تَضَمَّنَتْهُ مِنْ مَصَالِحِ الْعِبَادِ فِي الْمَعَاشِ وَالْمَعَادِ ۔
( مجموع الفتاوی ٢٠ / ٥٨٣ )

ترجمہ ◀️  :
" درست اور فاسد قیاس ( یعنی صحیح اور غلط استدلال ) کی پہچان بلند ترین علوم میں سے ہے ۔  اور اسے وہی شخص جان سکتا ہے جو شریعت کے اسرار و رموز اور اس کے مقاصد سے گہری واقفیت رکھتا ہو ۔  نیز وہ ان خوبیوں سے آگاہ ہو جو شریعتِ اسلامیہ میں اس قدر موجود ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ، اور ان مصلحتوں کو جانتا ہو جو بندوں کی دنیاوی زندگی (معاش) اور اخروی زندگی (معاد) کے لیے اس شریعت میں پوشیدہ ہیں ۔ "


شریعت کے اسرار و رموز اور اس کے مقاصد کو جاننا ضروری ہے یہ لوگ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ ان مصالح کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان سے دوری بناتے ہیں ۔ 
بلکہ انکار کرتے نظر آتے ہیں بس دوسروں کو کم علم سمجھ کر حقیر جانتے ہیں اور 
خود دوسرے دکتور جو ان کے ہم پلہ ہوں بلکہ دعوتی اور علمی خدمات میں ان سے تیس سے چالیس برس سینیئر بھی کیوں نہ ہوں بس  ان کے مزاج کے ہم آہنگ نہیں اور جامعہ دارالسلام عمرآباد سے جڑے ہوں تو ان کے مضمون پر بیجا رد لکھ کر گمراہی کا ٹھپہ لگانے میں لطف محسوس کرتے ہیں ۔ 

جبکہ خود دعویٰ کرتے ہیں کہ مجلسوں میں جب بڑے بولیں تو چھوٹوں کو ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے زبانوں کو مقفل رکھنا چاہیے ۔ کما تدين تدان ! 

جامعہ دار السلام عمرآباد کے منہجِ سلف پر قائم رہنے کے باوجود اس پر  بے جا طور پر ٹارگٹ کر کے شدید چوٹ کرتے ہیں ۔  اور کہتے ہیں کہ جامعہ اپنا منہج واضح کرے جبکہ وہ زبان ِ حال سے ان تمام باتوں کا ہمیشہ سے جواب دیا ہے 👇؏

جو ہر اک نظر میں کھٹکے میں وہ خارِ بے خطا ہوں۔

اسی طرح جامعہ دار السلام عمرآباد نے پچھلی ایک صدی میں اسلام کی اصل دعوتِ توحید اور منہجِ سلف کے مطابق کتاب و سنت کی سچی ترجمانی کی ایسی آب پاشیاں کی ہیں جن کے سبب ملک کے ہر گوشے میں علم کی نہریں رواں کر دی ہیں اور ہر جگہ ان سے کثیر خلق فیض پا رہی ہے ۔

یہ لوگ خود تعصب اور نفرت کی وجہ سے اصم ہوتے ہیں لیکن جامعہ دارالسلام عمرآباد میں بظاہر بدعتی عناصر کی سرگوشیاں سن لینے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں ۔  

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس جامعہ کے قیام اور جڑ میں ردّ بدعت اور منہجِ سلف کی بنیاد پر خالص کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت شامل ہے ۔

یہ لوگ خود کو سب سے بڑا عالم سمجھتے ہیں ہر فن مولا گردانتے ہیں ۔ 

حقیقت یہ ہے کہ علمی اعتبار سے ہم میں کوئی بھی ایسا نہیں جو تمام علوم کا مکمل احاطہ کر سکتا ہو۔ 

ایسا ہو سکتا ہے ایک آدمی عقیدہ کا ماہر ہو لیکن علمِ فقہ میں گہرائی نہ رکھتا ہو۔ 

ہو سکتا ہے ایک شخص علم الفرائض کا ماہر ہو مگر علم الحدیث میں کمزور ہو، 

کوئی ادیب و زبان داں ہوں مگر شرعی مسائل میں گہرائی نہ رکھتا ہو 
اور یہ صورتحال ہم سب میں موجود ہے۔ 

قرآن مجید میں وارد ہوا ہے وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ ! 
 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

( و فوق كل ذي علم عليم )، قال: يكون هذا أعلم من هذا , وهذا أعلم من هذا , و الله فوق كل عالم۔ 
( تفسیر طبری : 16 / 192 )

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
في قوله:
( و فوق كل ذي علم عليم ) ، قال: ليس عالمٌ إلا فوقه عالم، حتى ينتهي العلم إلى الله۔ 
( تفسیر طبری : 16 / 193 )

یہ دوسروں کو انٹر پاس اور خود کو فضیلت دیتے ہوئے ہر ہر مسئلے میں موشگافیوں کے حقدار سمجھتے ہوئے یہ گمان پال لیتے ہیں کہ مصالح کا اعتبار دین میں نہیں ہونا چاہیے صرف مسالوں کا اعتبار گوشت میں ہونا چاہیے

جبکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ شرعی احکامات بندوں کے مصالح کے حصول اور نقصانات کے ازالے پر مشتمل ہوتے ہیں 👇

وَ أَنَّ تَرْتِيبَ الشَّارِعِ لِلْأَحْكَامِ عَلَى الْأَوْصَافِ الْمُنَاسِبَةِ يَتَضَمَّنُ تَحْصِيلَ مَصَالِحِ الْعِبَادِ وَدَفْعَ مَضَارِّهِمْ وَرَأَوْا أَنَّ الْمَصْلَحَةَ «نَوْعَانِ» أُخْرَوِيَّةٌ وَدُنْيَوِيَّةٌ: جَعَلُوا الْأُخْرَوِيَّةَ مَا فِي سِيَاسَةِ النَّفْسِ وَتَهْذِيبِ الْأَخْلَاقِ مِنْ الْحِكَمِ؛ وَجَعَلُوا الدُّنْيَوِيَّةَ مَا تَضْمَنُ حِفْظَ الدِّمَاءِ وَالْأَمْوَالِ وَالْفُرُوجِ وَالْعُقُولِ وَالدِّينِ الظَّاهِرِ ۔
( مجموع الفتاوى ٣٢ / ٢٣٤ ) 

ترجمہ 👈 :
اور ( اصولِ فقہ کے ماہرین کی رائے یہ ہے ) کہ شارع ( اللہ تعالیٰ ) کا احکام کو ان کی مناسبت رکھنے والی صفات ( اور مصلحتوں ) پر مرتب فرمانا ، بندوں کے لیے مصلحتوں کے حصول اور نقصانات کے ازالے پر مشتمل ہے۔ ان کے نزدیک مصلحت کی دو قسمیں ہیں :   اخروی اور دنیوی ۔
انہوں نے اخروی مصلحت ان حکمتوں کو قرار دیا ہے جو نفس کی تربیت اور اخلاق کی اصلاح سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ دنیوی مصلحت اسے قرار دیا ہے جو ( انسانی زندگی کے پانچ بنیادی حقوق یعنی ) جان ، مال ، نسل ، عقل اور ظاہری دین کی حفاظت کی ضمانت دیتی ہے ۔ " 

فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کو مصلحت کے لفظ سے چڑ ہے
انھیں لگتا ہے کہ دین کے ہر مسئلے میں مصلحت کو نظر انداز کر کے شدت پر مبنی حرفِ آخر تو میرا ہی ہونا چاہیے گویا ؎ قطعت جهيزة قول كل خطيب ۔انھیں یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ ہم ہی جہیزۃ ہیں ۔ 
سبحان اللہ سبحان اللہ



3۔ 
شریعت ہی کا میدان ایسا ہے جہاں جو صرف کلیہ دعوہ وغیرہ سے کچھ مذکرہ رٹ کر خود کو مکمل شرعی میدان میں پی ایچ ڈی کیا ہوا باور کراتا ہے ۔  گویا علومِ شریعت کے سبھی کلیات جزئیات پر انھوں نے چند مذکرے رٹ کر فقاہت پالی ہے !  

یہ پلندہ جمع کر کے متکبرانہ شان سے دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور انھیں کم علمی کے طعنے دیتے ہیں جبکہ خود علمی کم مائیگی کے شکار ہوتے ہیں بس نفس موٹا ہوتا ہے ۔  اور ہر غیر متعلقہ مسائل میں رقمطرازی کا شوق چراتے ہیں ۔ 

جبکہ قرآن نے کہا ہے :
 وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ۔ 
( الاسراء : 85 ) 

کہ علم کا بہت قلیل حصہ ہی ہمیں عطا کیا گیا ہے ۔ 

مگر فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام و متبعین کو یہ گمان قائم ہوتا ہے کہ وہ کثیر علم کے حامل ہیں ۔ 

انھیں دین کے ہر مسئلے میں بولنے کی کھلی اجازت مرحمت کر دی گئی ہے ۔ اب وہ ڈَرنک ڈرائیو کرنے والے کو ڈیوائس سے پہلے جیسے پولیس کی جانب سے سونگھا جاتا تھا ویسے ہی جس بڑے سلفی عالم کو چاہیں سونگھ کر منہج بدر کرتے پھریں ۔  

یہ عجوبہ آپ کو پوری دنیا میں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام اور ان کے اندھ بھکتوں کے علاوہ کہیں نہیں دیکھنے کو ملے گا۔

ایسا  شرعی میدان کے علاوہ کسی 

اور فیلڈ میں نہیں ملے گا اور بر صغیر کے علاوہ شاید ہی کہیں ملے۔

ایسے لوگوں سے ہم کہنا چاہتے ہیں ؎
علم کا آپ کو ہے دعوی کیوں 
یہی بازی تو آپ ہارے ہیں !   



4۔  
یہ خود کو اپنے زعم میں چند مذکرے پڑھ کر منتہی درجے کے متخصصين سمجھ لیتے ہیں ۔ اور چاہتے ہیں کہ انھیں ہی بس سنا جائے جبکہ جس مسئلے میں موشگافیاں کرتے ہیں اس کے بس تراث کے ذخائر سے مطلب کی باتیں نکالنے کے فن سے بخوبی واقفیت ہوتی ہے ورنہ موضوعِ بحث کی الف سے واقف ہوتے ہیں نہ باء سے ۔ 

ان کے لیے راقم کا یہ شعر صحیح ہے ؎

منہج کے پتھر سے سب کو مار رہے ہیں فہّامہ
چار کتابیں پڑھ کر خود کو سمجھ رکھے ہیں علامہ 



5۔ 
یہ لوگ فقہ اقلیات اور فقہ اولویات سے مکمل نابلد ہونے کے باوصف یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ہمیں ہی اس مسئلے کا مکمل علم ہے ۔

جس نے اس موضوع پر لکھی گئی معتبر کتابوں میں سے کسی کتاب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ہوگا وہ بھی اس میں ہاتھ بٹاتا ، پاؤں پھیلاتا ، زبان نکالتا اور قلم چلاتا نظر آئے گا ۔ اتباعِ ہوی کا یہ عالم ہے کہ خدا کی پناہ !   
ولكنه أخلد إلى الأرض واتبع هواه... 
إن تحمل عليه يلهث أو تتركه يلهث۔
وإن تدعوهم إلى الهدى لا يتبعوكم سواء عليكم أدعوتموهم أم أنتم صامتون . 

ان کی جب قلعی کھل جاتی ہے اور پنڈتانہ احترام نہیں ملتا ہے تو سب کو ملیچھ اور جاہل کہہ کر انا کی تسکین کرتے ہیں ۔ 

مکھوٹا بدل بدل کر فیک آئڈی سے گالیاں دیتے ہیں اور ڈی پی پر اصل عمر سے کم جوانی کی تصویریں لگاتے ہیں! اور اپنی مزاج کے مناسب ہر پوسٹ پر کود کر دل کی تشفی کرتے ہوئے کمنٹ میں قئے کرتے ہیں! 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  
لا جرم أن الله يعلم ما يسرون وما يعلنون إنه لا يحب المستكبرين



6۔ 
یہ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ ہر جگہ دلیل سے ہٹ کر اپنے مزاج سے ہم آہنگ دلیل تلاشتا ہے اور اسی کو مسئلے میں اصل بنا دیتا ہے۔ تطبیق کے اصولوں کو پس پشت ڈال کر اسے یہ نہیں سمجھ میں آتا ہے کہ مجبوری میں جو ریال کھاتے رہے اور مداہنت کرتے رہے وہ ہندوستان میں نہیں چلنے والا ہے ۔ 
؎

ہر جفا پر سرِ نیاز ہے خم
 ہے ریال ان کے زخم کا مرہم

مردار کھانا مضطر کے لیے حلال ہو جاتا ہے تو سعودی عرب میں ان کی کیفیت مضطر کی ہوتی ہے ریال خوری کے لیے تسامح و تعایش سب برداشت کر لیتے ہیں ۔ 

ہندوستان میں اعتدال، تسامح و تعایش کو بھول کر خود کو منہج کا محافظ باور کروانے کے لیے شدت پسندی کا مظاہرہ کر کے اندھ بھکتوں اور کم علموں کو اپنے دام فریب میں پھنساتے ہیں اور انھیں سے واہ واہی بٹورتے ہیں ۔ 

ان متشددین کے انحرافات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ انھیں نہ تو صحیح و کامل منہجِ سلف کا درس و حوالہ دیتے پائیں گے نہ ہی مشرکین و اہلِ بدعت و منحرفين پر رد کرتے ۔ 
الا ماشاء اللہ 

ان کی ساری انرجی اور توانائی جامعہ عمرآباد اور وہاں کے سلفی اساتذہ پر رد کرنے انھیں اہلِ بدعت کا سہولت کار ٹھہرانے اور نفرت کا بازار سجانے میں صرف ہوتی ہے یوں وہ عوام کو سلفی علماء اور سلفی ادارے سے بدظن کرتے ہیں ۔   

عمرآباد کے جامعہ سے متعلق ان کا استدلال ، تحقیق اور نکتہ نظر ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی نابینا شخص ہاتھی کے بعض حصے کو چھو کر مکمل ہاتھی کے اوصاف بیان کرتے ہوۓ پورے ہاتھی کو صرف ایک ستون سے تشبیہ دے دیتا ہے ۔  فافہم و تدبر 



7۔ 
اس انحراف کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے پاس نہ پختہ علم ہے نہ ہی علم میں اصالت ، تاہم زعم ہے ۔  پہلی صف میں رہنے اور میدان میں بنے رہنے کی بیماری ہے !   پس اس زعم کو یہ تطرف اور انتہا پسندی نیز شدت کی تعلیل سے تشفی دیتے ہیں اور منہج بدری کی دوائی سے ہر بیماری کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔   ہر ایک پر لیبل لگاتے ہیں ۔  ان کے منہج کو سونگھ کر دیکھتے ہیں ۔   اور پھرتی کے ساتھ منہج بدر کرتے ہیں ۔   اور شدید انحراف پالیتے ہیں !  
واہ کیا قوت شامہ ہے!
؎

ان کے دامن میں سیہ دھبّے ہیں اور واضح ہے داغ 

خود کو اب شاہین سمجھا ہند میں ہر بوم وزاغ 

فی الواقع امر یہ ہے کہ علمی اور اصولی گفتگو ان کے بس میں نہیں ہے ۔   

جبکہ منہج بدری اور شدت کی لاٹھی بھانجنا بہت آسان ہے ۔   

میدان عمل میں کام کرنا جگر گردے کا کام ہے ۔ 

اصل زوال اور المیہ یہ ہے ۔  ہمارا علمی ، فکری اور اخلاقی زوال ہو رہا ہے ۔  

اقبال نے کیا خوب کہا ہے ؎

کیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا 

صبا سے بھی نہ مِلا تجھ کو بُوئے گُل کا سُراغ 


خدا فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے بیجا گمان، غرور اور زعم کو توڑ دے
؏👇 

اپنی انا کی قید میں محبوس ہیں سبھی 

 کوئی بھی اپنے آپ سے باہر نہیں ملا

نعوذ باللہ من شرور انفسنا !   
أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين۔ 

اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں حسنِ توفیق سے نوازے۔ 
آمین !   

ماخوذ :


ہ ےےےےے ہ 


جوائین ان :

https://telegram.me/salafitehqiqikutub/5214  

۔

۔

بدھ، 24 دسمبر، 2025

کتنے کلو علم کی شرط ہے ؟ فیصل عادل

۔

۔ ﷽ ۔

۔

*کتنے کلو علم کی ضرورت ہے؟*

*بلغوا عني ولو آية؟*

*...کیا آج کے منہجِ سلف پر قائم سلفی علماء ورثۃ الانبیاء ہو کر اس انبیائی مشن غیر مسلموں میں توحید کی نشر و اشاعت دعوتِ حق کے لیے کوشاں ہیں؟...*

ہ ےےےےےے ہ 


*دعوت الی اللہ یعنی غیر مسلموں کو اسلام سے متعارف کروانے اور دین کی موٹی موٹی باتوں سے روشناس کروانے کے لیے کتنے کلو علم کی ضرورت ہے؟*

نگارش: 🖋️.......... فضیلۃ الشیخ  فیصل عادؔل

۔🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵۔


🔶 وَكُلُّهُمۡ ءَاتِیهِ یَوۡمَ ٱلۡقِیَـٰمَةِ فَرۡدًا
کے تحت 
اللہ اگر روزِ قیامت ہندوستان کے کسی کافر سے پوچھے گا کہ تم کیوں اسلام قبول نہیں کیے جبکہ وہ بردر بھی تمھارے سامنے اسلام پیش کیا تھا؟ 

اب وہ کافر کہہ دے گا کہ فلاں دکتور کے بقول وہ بردر ہے وہ دعوتِ دین نہیں کر سکتا ہے ۔

میرے پاس مدنی دکتور لیول کا کوئی فرد دعوتِ دین لے کر نہیں آیا مجھ پر حجت قائم نہیں ہوی! 
مجھے معاف کیجیو اور سورگ عطا کیجیو! 

کیا اللہ مان لے گا کہ چلو حجت قائم نہیں ہوی کیوں کہ مدنی  دکتور کے بجائے کسی بردر نے تمھارے سامنے اسلام پیش کیا! 

کیا بردر کے اسلام پیش کرنے توحید رسالت آخرت کو کھول کر بیان کرنے کے بعد بھی واقعی اس کافر پر حجت قائم نہیں ہوی؟ 

اس کا جواب ہمارے دکتور بھائی ضرور جانتے ہوں گے تاہم قارئین کے لیے 

🔷بَوّبَ الإمام البخاري 
بَاب وَصَاةِ النَّبِيِّ ﷺ وُفُودَ الْعَرَبِ أَنْ يُبَلِّغُوا مَنْ وَرَاءَهُمْ 
اس باب کے نام سے امام بخاری کی فقاہت سمجھیے (فقه البخاري في تراجمه) 

وفد عبد القيس کی حدیث جو امام بخاری نے لائی ہے۔
فتح الباری میں اس حدیث کے شارح علامہ ابن حجر کی بات دیکھ  لیتے ہیں👇

قال الحافظ ابن حجر (852هـ): 

(قوله في آخره ((احفظوهنَّ وأبلغوهنَّ من وراءكم))؛ فإنَّ الأمر بذلك يتناول كل فردٍ، فلولا أنَّ الحجة تقوم بتبليغ الواحد، ما حضَّهم عليه. 

(ترجمہ)  ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں 👇
 نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب یہ کہا کہ یہ ساری باتیں سیکھ کر حافظے میں بٹھالو اور اپنے پیچھے رہ جانے والے قبیلے کے سبھی بھائیوں کو ان باتوں سے روشناس کراؤ، 
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین کی بنیادی باتوں سے روشناس کروانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھ کر جانے والے ہر فرد کو شامل ہے۔ کسی ایک فرد کی دعوت سے ہی اگر حجت قائم نہیں ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم انھیں تبلیغِ دین پر نہ ابھارتے ۔


⏪ وفد عبد القيس کی حدیث جو صحیح بخاری میں ہے 

اس وفد میں آنے والے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے دین کی اہم اور اصولی باتیں بتانے کی پیشکش کی اور کہا کہ ہم یہ باتیں ہمارے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو بھی بتائیں گے اور سب ان باتوں پر عمل پیرا ہو کر جنت میں داخل ہوں گے! 👇

فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لاَ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الحَرَامِ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ، نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلْ بِهِ الجَنَّةَ،

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں اسلام کی بنیادی باتیں شہادت، نماز، روزہ ، زکات وغیرہ بتائیں اور بعض برتنوں کے استعمال سے منع فرماتے ہوئے کہا👇

 وقالَ: احْفَظُوهُنَّ وأَخْبِرُوا بهِنَّ مَن وراءَكُمْ ۔ 
 
رواہ البخاري رقم ٥٣  

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا 👇
یہ باتیں اچھے سے ذہن نشین کر لیں اور اپنے قبیلے کے لوگوں کو جو پیچھے رہ گئے اور حاضر نہ ہوسکے انھیں بتائیں ( اور شمعِ دین نورِ توحید سے منور ہوں) 


اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث میں وارد ہے

آمركم بأربع وأنهاكم عن أربع 

یعنی چار باتیں اوامر میں سے اور چار نواہی میں سے کل اس طرح آٹھ باتیں ہوتی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں سکھائی تھیں ۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا وفد عبد القیس میں شامل سبھی لوگ ان آٹھ باتوں کو جان کر شریعتِ اسلامیہ کی سبھی جزئیات کی تفصیلات سے آگاہ ہوگئے تھے؟ 

کیا وہ سبھی درجہ ء اجتہاد پر فائز ہو گئے تھے ؟

کیا وہ اسلام کے دقیق جزئیات اور دینی و دنیوی سبھی معاملات ہمہ اصول و فروع کو پورے طور سے جان چکے تھے ؟ 

 واضح امر ہے! 
اگر وہ دین کے باریک دقیق مسائل جزئیات و کلیات اور مکمل علمِ شریعت نہیں رکھتے تھے اور درجہ ء اجتہاد پر فائز نہیں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں تبلیغ کا حکم کیوں دیا؟ 
اور دین پھیلانے کا اجازت نامہ مرحمت کیوں فرمایا؟ 
کیا وہاں غلطیوں کے صدور کا امکان نہیں تھا؟ 
 
ظاہر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دینِ اسلام کے چند احکامات ہی موٹے موٹے طور پر انھیں ذہن نشین کروائے تھے ۔
اور اور اتنے ہی علم کو ان کی بستی میں جا کر پھیلانے کا حکمِ نبوی صادر ہوا تھا! 

جب اس طرح غیر مسلموں کو  اسلام کا تعارف کرانے کے لئے موٹی موٹی باتیں پھیلانے کے لئے دینی معلومات کی مکمل گہرائی کلیات و جزئیات سبھی جان کر مجتہد ہونے کی شرط نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں لگائی تو آپ کیوں  بے جا خطرات کے اندیشے کو عذر بنا کر عبث سختی کرنے والے ہوتے ہیں؟ 

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ آپ کو دین کا فہم ہے؟ 
نعوذ باللہ من ذلک

کیا یہاں احناف کی طرح مسجد میں نماز سے عورتوں کو روکنے کے لیے جو دلیل وہ دیتے ہیں آپ لوگ بھی دیتے نظر نہیں آتے؟ 
جبکہ اصل فتوی جواز کا ہے ۔ 

ایک جائز امر پر بے جا شدت پسندی کا ہتھوڑا چلانے والے احناف کی طرح آپ کون ہوتے ہیں؟ 

اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کم ( تقریب ِ فہم کے طور پر دس کلو) علم کو تبلیغ کے لیے کافی مانا ہے تو آپ مزاجی شدت کی بنا پر سو ٹن علم کی بیجا شرط لگانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ 

🔵 ہندوستان میں جب بعض منہجی علماء کوئی جمعیت بناتے ہیں اور اس میں امیر چنتے ہیں اور تبلیغی جماعت کی طرح امیر چنتے ہیں اہلِ تصوف کی طرح بیعت لیتے ہیں اور اخوانیوں کی طرح امیر کی اطاعت کے لیے یہ دلیل پیش کرتے ہیں 
جو کہ اصل میں امیر المومنین کے لیے ہے 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ

ہم منہجِ سلف کے مطابق ان پر رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو امیر المومنین کے لیے ہے جہاں اسلامی حکومت ہو وہاں سب پر امیر کی اطاعت ضروری ہے ۔ 
آپ خود کی جمعیت و جماعت کے امیر پر اس آیت کو منطبق کر کے صریح غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔

اب دیکھیں ہمارے بعض دکاترہ نے مندرجہ ذیل آیتوں کا ویسے ہی انطباق کیا ہے جیسے ہندوستان میں بعض جمعیت کے امیر نے خود کے لیے امیر المومنین والی آیت کے ساتھ معاملہ کیا۔

یعنی ہمارے بعض علماء و مشائخ نے جو آیتیں کم علموں کے علمِ دین پھیلانے کی رد میں پیش کی ہیں وہ آیات شہادت گواہی سے متعلق ہونے کی وجہ سے خلطِ مبحث کے شکار نظر آتے ہیں ۔ 


🔷 زیرِ نظر پہلی آیت میں مفسر قرآن ابن کثیر کے بقول اللہ کا لڑکا قرار دینا  یہ مشرکین کا قول و عقیدہ تھا اسی لیے وأن تشركوا بالله کے سا تھ عطف کر کے أن تقولوا علی اللہ ما لا تعلمون مذکور ہے اسی کی سخت مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی 👇

قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ ٱلۡفَوَ ٰ⁠حِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلۡإِثۡمَ وَٱلۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ ٱلۡحَقِّ وَأَن تُشۡرِكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَـٰنࣰا وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ۔ 
[ا لأعراف ٣٣ ]

قال ابن كثير في تفسيره
وَأَنْ تَقُولُوا عَلَيْهِ مِنَ الِافْتِرَاءِ وَالْكَذِبِ مِنْ دَعْوَى أَنَّ لَهُ وَلَدًا وَنَحْوَ ذَلِكَ، مِمَّا لَا عِلْمَ لَكُمْ بِهِ 

جو لوگ دعوتی کام کرتے ہیں وہ قول علی اللہ کے بجائے علم کی روشنی میں قول فی توحید اللہ  کرتے ہیں۔
 گویا اللہ کے تعلق سے جو بری باتیں جہل و کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اس کو آپ اس پر منطبق کر دے رہے ہیں جو کہ کونوا أنصار الله کے تحت غیر مسلموں کو اللہ سے متعارف کروا رہا ہوتا ہے 
لہذا انھیں زبردستی اس آیت کا مصداق نہ بنائیں! 

معلوم و واضح رہے کہ میرا موقف یہ نہ سمجھا جائے کہ میں بغیر شرعی علم کے اکتساب کے مولانا بن کر سبھی چھوٹے بڑے مسائل کی تعلیم دینے کے جواز کی تصویب کر رہا ہوں ۔


🔷 ایک اور آیت👇 دیکھیں ۔ 
مفسر قرآن ابن کثیر وغیرہ نے اس کو تنازعات میں جھوٹی گواہی کے معاملے سے متعلق بتا رہے ہیں۔ 
یعنی اللہ تعالیٰ کسی معاملے میں بغیر دیکھے جھوٹی گواہی دینے سے منع فرماتے ہوئے کہا اور قتادہ کے بقول دیکھے،سنے، جانے بغیر دیکھنے،سننے اور جاننے کے دعوے کرنے سے منع کرتے ہوئے یہ آیت اللہ نے نازل کی ہے۔ 👇
﴿وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۚ إِنَّ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡبَصَرَ وَٱلۡفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔولࣰا﴾ 
[الإسراء ٣٦]

قال ابن کثیر في تفسيره:
قَالَ مُحَمَّدُ بن الحَنفية: يَعْنِي شَهَادَةَ الزُّورِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: لَا تَقُلْ: رَأَيْتُ، وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ، وَلَمْ تُسْمِعْ، وَعَلِمْتُ، وَلَمْ تَعْلَمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُكَ عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ.
وَمَضْمُونُ مَا ذَكَرُوهُ: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَهَى عَنِ الْقَوْلِ بِلَا عِلْمٍ،


🔷 اب تیسری آیت دیکھ لیتے ہیں 
اس آیت کی تفسیر میں بھی ابن کثیر کے بقول حاکم کے سامنے فاسق کی گواہی سے متعلق ہدایات جاری کی گئی ہیں 
فَيَكُونَ الْحَاكِمُ بِقَوْلِهِ قَدِ اقْتَفَى وَرَاءَهُ، 
یہ وجہ استشہاد ہے کہ حاکم کے لیے ضروری ہے کہ خبر بیان کرنے والے شخص سے متعلق تاکّـد وتثبـّت کیا جائے 👇

﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِن جَاۤءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإࣲ فَتَبَیَّنُوۤا۟ أَن تُصِیبُوا۟ قَوۡمَۢا بِجَهَـٰلَةࣲ فَتُصۡبِحُوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَـٰدِمِینَ

قال ابن كثير 👇
يَأْمُرُ تَعَالَى بِالتَّثَبُّتِ فِي خَبَرِ الْفَاسِقِ ليُحتَاطَ لَهُ، لِئَلَّا يُحْكَمَ بِقَوْلِهِ فَيَكُونَ -فِي نَفْسِ الْأَمْرِ-كَاذِبًا أَوْ مُخْطِئًا، فَيَكُونَ الْحَاكِمُ بِقَوْلِهِ قَدِ اقْتَفَى وَرَاءَهُ، 

یہاں العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب کی روشنی میں عمومِ لفظ کو بھی لیتے ہیں تب بھی فاسق کے لفظ کو دین کے داعی پر منطبق کیسے کیا جائے گا؟ 

🔶 آگے کی آیات میں صراحت کے ساتھ شھداء گواہی دینے والوں کی عدالت کی شرط رکھی جا رہی ہے 
قال ابن کثیر 
وقوله: 
ممِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى اشْتِرَاطِ الْعَدَالَةِ فِي الشُّهُودِ 

اسی طرح اس آیت میں بھی 
قال ابن کثیر 
﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ قَالَ: لَا يَجُوزُ فِي نِكَاحٍ وَلَا طَلَاقٍ وَلَا رِجَاعٍ إِلَّا شَاهِدَا عَدْلٍ 


🔷 آپ نے دیکھا کہ کس طرح شہادت گواہی سے متعلق امور میں جو آیات وارد ہوی ہیں ۔ خلطِ مبحث کے سبب ان آیات کا جبری انطباق کم علم بردرس جو غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرتے ہیں جو عربی سے نابلد ہیں ان پر کیا جا رہا ہے ۔

⬅️ البتہ بعض مفسرین کے بقول ولا تقف مالیس لک کی تفسیر میں علم کے بغیر بات کرنا بھی ہے یہاں سے  استشہاد و استیناس مل سکتا ہے ۔ یہ دلیل ہمارے مشائخ کی قوی معلوم ہوتی نظر آتی ہے مگر یہ اسی وقت کارگر ہوگی جب وہ داعی حضرات بغیر علم و بغیر دلیل شرعی کے گفتگو کرتے ہوں ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے۔ 

بس مشائخ نے اپنے طور پر ایسا گمان پال لیا ہے۔ یا پھر اپنے سے کم تر جان کر انھیں حقیر سمجھ کر جو خدمت دین ان سے انجام پا رہا ہے اور ان کی شہرت و ناموری نیک نامی پر بظاہر حسد کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
عربی میں کہا جاتا ہے الناس أعداء لما جهلوا بسا اوقات بعض غیر عالم فی زمانہ زیادہ عوام تک پہنچنے کے وسائل و تراکیب کا علم رکھتے ہیں۔ 
گویا علمِ دین سے زیادہ ان کا علم اس فن میں ہوتا ہے کہ مؤثر طریقے سے کیسے لوگوں کو اپنے خیالات کا حامی بنا لیا جائے انھیں اپنی طرف راغب کرلیا جائے۔ 
بعض مشائخ اس فن سے ناواقفیت کی بنیاد پر پورے طور سے اس فن کے حاملین کو ہی دشمن سمجھتے ہیں ۔ 
جبکہ پختہ سلفی علماء بھی اسی طرح کے مؤثر پلیٹ فارم اور تکنیک و تراکیب کے استخدام کر کے ان سے بہتر دینی خدمات انجام دے سکتے ہیں مگر انھیں آپسی منہجی انحراف کو سونگھنے اور منہج بدری کے عمل سے فراغت نصیب ہوگی تبھی دیگر امور پر تامل فرمانے کا وقت 
دستیاب ہوگا۔ (معلوم رہے کہ یہاں روئے سخن
کم علم والے داعیان ِدین  کے متعلق ہے اور ہندوستان کے تناظر میں بات رکھی جا رہی ہے۔ پڑوسی ملک کے یوتھ کلب اور ساحل عدیم وغیرہ اس سے مستثنیٰ ہیں ساحل عدیم تو بس ہالی ووڈ فلمیں دیکھ کر دین میں پورٹل کھولتے ہیں اور بلا علم کے دین و ائمہ ء دین کی طرف منسوب کر کے کہانیاں گھڑتے ہیں۔نعوذ باللہ من ذلک ) 

واضح رہے کہ ولا تقف ما ليس لك به علم اس آیت کو  بیشترمفسرین نے گواہی کے معاملے سے جوڑا ہے ۔

لیکن میں تعریف اور قدر کرتا ہوں ان مشائخ کی جو درج ذیل قول ذکر کرتے ہیں وہ عین موضوع کے مطابق ہے
👇۔
 وفي صحيح مسلم عن محمد بن سيرين قال: 
إن هذا العلم دين، فانظروا عمن تأخذون دينكم

یہ قول غیر مسلموں کے بجائے ان لوگوں کے لیے درست طور پر بیٹھے گا جو مسلمان لوگ بڑے علماء کے بجائے متعالم سے مکمل دینی معلومات لے کر گمرہی کے شکار ہو رہے ہیں ۔ اس پر قدغن لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

اوپر وفد عبد القيس کی حدیث میں آپ نے دیکھا کہ صحابہ کو دین کے چند بنیادی احکامات بتا کر اپنے قبیلے جا کر دینِ اسلام کے تعارف کرانے کا نبوی حکم موجود تھا۔

🔶 اب صحیح بخاری کی ایک اور حدیث دیکھیں، بنی لیث کے چند نوجوان صحابہ بیس دن دینی تعلیم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھ کر گئے  تو نبی ﷺ نے کہا کہ واپس جا کر لوگوں میں دین کی باتیں رکھو تعلیم دو👇

أَتَيْنا إلى النبيِّ ﷺ ونَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقارِبُونَ، فأقَمْنا عِنْدَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا ولَيْلَةً، وكانَ رَسولُ اللَّهِ ﷺ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمّا ظَنَّ أنّا قَدِ اشْتَهَيْنا أهْلَنا - أوْ قَدِ اشْتَقْنا - سَأَلَنا عَمَّنْ تَرَكْنا بَعْدَنا، فأخْبَرْناهُ، قالَ: ارْجِعُوا إلى أهْلِيكُمْ، فأقِيمُوا فيهم وعَلِّمُوهُمْ ومُرُوهُمْ - وذَكَرَ أشْياءَ أحْفَظُها أوْ لا أحْفَظُها - وصَلُّوا كما رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فإذا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أحَدُكُمْ، ولْيَؤُمَّكُمْ أكْبَرُكُمْ.
الراوي: مالك بن الحويرث • البخاري، صحيح البخاري (٦٣١) 

وجہ استشہاد یہ ہے👇
ارْجِعُوا إلى أهْلِيكُمْ، فأقِيمُوا فيهم وعَلِّمُوهُمْ ومُرُوهُمْ 

◀️🔷 حدیث وفد عبد القيس  اور اوپر درج کردہ نوجوان صحابہ بیس دن تعلیم پا کر دین کے داعی بن کر گئے دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 
دین کی موٹی موٹی باتیں جنھیں معلوم من الدين بالضرورة، 
توحید، رسالت آخرت کی بات اسلام کا تعارف کراتے ہوئے غیر مسلموں کو بتانے میں کوئی حرج نہیں ہونی چاہیے البتہ متعالم بن کر اسٹیج سجا کر مسلمانوں کو اصولی اور فروعی مسائل بتانے والوں، فتووں کی دکانیں سجانے والوں کی ہمت شکنی ہونی چاہیے ۔ 
اگر وہ اپنے ساتھ جید سلفی علماء کو ساتھ رکھیں، ہر ہر مسئلے میں ان سے دلیل کے ساتھ دین کے بڑے چھوٹے مسائل سیکھ لیں اور عربیت میں مہارت حاصل کر لیں۔ اصول و فروع سے مکمل آگاہ ہوجائیں تب بھی فتوے کے معاملے میں احتیاط بہتر ہے! 

اسی لیے بہتر ہے کہ
 دعوتِ دین کے لیے بنیادی طور پر
طلب العلم فريضة على كل مسلم کے پیشِ نظر قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ یقینی علم، خاص طور پر توحید، عقائد اور واضح احکام کی سمجھ حاصل کرنا ضروری ہے۔ 

جیسا کہ وفد عبد القیس کی حدیث میں 🔷 احفظوهن 
کے لفظ سے دلیل ملتی ہے ۔ یعنی ہو بہو  موٹی موٹی شرعی بات دعوت دیتے ہوئے مخاطب کے سامنے رکھے ۔ تفصیلات بیان کرتے ہوئے مشکل مسائل، تطبیق بین النصوص اور دیگر باریک جزئیات تک میں نہ الجھے۔

اس طرح غیر مسلموں کو اسلام سے تعارف کرانے میں تفصیلی فقہی یا اجتہادی درجے کا عالم ہونا شرط نہیں ۔

بلغوا عني ولو آية
کی رو سے اگر قطعی طور پر بصیرت کے ساتھ دین کی موٹی موٹی باتیں معلوم ہیں تو انھیں باتوں کو اپنے علم کے بقدر پھیلانے میں کوئی حرج نہیں۔
 جتنا حصہ دین کا صحیح و یقینی طور پر آتا ہو، اُتنے ہی  
حصے کی تبلیغ جائز و مطلوب ہے۔ یہی بات عبد الرحمن مبارک پوری نے تحفۃ الاحوذی اور مرعاۃ شرح مشکاۃ میں بھی لکھی ہے ۔

قال عبد الرحمن المباركفوري 
 قوله: 
(بلغوا عني ولو آية) أي ولو كانت آية قصيرة من القرآن، والقرآن مُبلَّغ عن رسول الله - ﷺ  
لأنه الجائي به من عند الله، ويفهم منه تبليغ الحديث بالطريق الأولى۔

مولانا مبارکپوری کے بقول قرآن اور حدیث دونوں ہی کی کوئی بات جب یقینی طور پر  معلوم ہے تو اسے دوسروں تک پہنچانا جائز و مطلوب ہے! 

 ان بنیادی ٹھوس معلومات سے تجاوز کر کے ہر ہر مسئلے اور باریک علمی فروعی مسائل میں بغیر علم کے فتوی بازی کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ٹھہرے گا ۔ 
جیسا کہ امام ابن باز رحمہ اللہ سے جب اسی طرح کا مسئلہ پوچھا جاتا ہے تو وہ کم علم شخص کے بارے میں کہتے ہیں: 
لنک سے تفصیلی معلومات دیکھ سکتے ہیں 
https://binbaz.org.sa/fatwas/22968/%D9%85%D8%B9%D9%86%D9%89-%D8%A8%D9%84%D8%BA%D9%88%D8%A7-%D8%B9%D9%86%D9%8A-%D9%88%D9%84%D9%88-%D8%A7%D9%8A%D8%A9-%D9%88%D9%85%D9%86-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%83%D9%84%D9%81-%D8%A8%D9%87%D8%A7

إذا عَلَّم الناس القرآن، إذا خرج يعلّم القرآن فلا حرج، لكن لا يجوز له يدخل فيما لا يعنيه، لا يجوز له يتكلم في العلم وهو على غير بصيرة، لكن يعلّمهم القرآن، يعلّمهم الفاتحة، يعلّمهم المُفَصّل، جزاه الله خيرًا يعلمهم، تعليم القرآن متيسّر ولو ما كان عنده علم، يعلمهم القرآن، يقول النبيﷺ: خيركم من تعلم القرآن وعلمه. انتہی کلامہ

جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انھوں نے جہاں تعلیم قرآن کی بات کہی ہے ساتھ ہی وہ شرط لگاتے ہیں کہ آدمی ایسی باتوں میں زبان نہ کھولے جن کے بارے میں اسے بصیرت نہ ہو، 
یعنی تفصیلی مسائلِ علم و فتویٰ اور تاویلات میں کم علم شخص کے لیے دخل جائز نہیں۔

اسی طرح کم پڑھے لکھے داعیوں کو ہمیشہ طلبِ علم اور ممتاز سلفی عالم کی صحبت اور ان سے استفادے کی شرط رکھی جاتی ہے ۔


🔶 خلاصے کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ دین کی بنیادی اور اصولی موٹی باتیں ہر مسلمان اپنے علم کے بقدر دعوت دے سکتا ہے۔​​ 
ہندوستان میں توحید کی ٹھوس معلومات حاصل کرنی ضروری ہے یہ اس لیے ہے کہ مقامی بدعات اور اہلِ الحاد اسے چیلنج کرتے ہیں۔​

🔶 دین کی باریک باتیں، علمی موضوعات، مکمل فتویٰ یا وعظ کے لیے اہلِ حدیث علماء و حدیث پڑھنے پڑھانے والے محدثین علماء سے طویل صحبت اور اجازہ اور سند کو ضروری قرار دینا چاہیے۔ اللہ اعلم

🔴 مضمون کے آخر میں قارئین سے سوال ہے کہ قلیل مدت گزار کر جو وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے دین سیکھ کر داعی بن کر گیا، اسی طرح کا کام موجودہ زمانے میں کونسے لوگ سلفی علماء سے دعوہ ٹریننگ لے کر غیر مسلموں میں دعوت کا کام کر رہے ہیں؟ 
کمنٹ بکس میں لکھیے! 

اگر کوئی گروپ نہیں کر رہا ہے تو کیا ہم لوگوں کو ایسا کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ 

جس طرح کا کام نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے وفد عبد القيس کو کرنے کے لیے کہا تھا کیا اسی طرز کا کام آج ناقابل ِ عمل ہے؟ 

اگر ناقابلِ عمل جانتے ہیں تو کن اسباب کی وجہ سے؟ 

کیا آپ مانتے ہیں کہ ہندوستان میں اس طرح کے دعوتی کام کی فی زمانہ سخت ضرورت ہے؟ 

کیا آج کے منہجِ سلف پر قائم سلفی علماء ورثۃ الانبیاء ہو کر اس انبیائی مشن غیر مسلموں میں توحید کی نشر و اشاعت دعوتِ حق کے لیے کوشاں ہیں؟ 

ہمیں اپنے نفوس میں جھانک کر دیکھنا چاہیے ۔

🔷 میں ایسے مخلص علماء کو جانتا ہوں جو دعوتِ دین کے لیے انتھک جہد کرتے ہیں حتی کہ پنڈتوں کی زبان سنسکرت تک سیکھ کر ان تک دعوتِ اسلام پہنچا کر اتمامِ حجت کرتے ہیں! بارک الله في جهودهم وقدر الله مساعيهم
اس طرح دین کے بہت سارے محاذ پر علمائے دین کام کر رہے ہیں ۔

دوسری طرف بعض مدارس کے فارغین ہیں انکا دن رات کا یہی مشغلہ ہے کہ 
فلاں میں منہجی خلل ہے 
فلاں ادارہ منہجِ سلف سے منحرف ہے، 
فلاں میں کجی ہے 
فلاں میں شدید انحراف ہے! 

اب آپ ہی دیکھ لیجیے آپ کس زمرے میں خود کو رکھ کر کامیابی پانا چاہتے ہیں! 

کیا ہماری مثال شہد کی مکھی کی طرح نفع بخش ہے یا اس مکھی کی طرح ہے جو صرف نجاست پر بیٹھ کر اڑتی پھرتی ہے؟ 

ایسے لوگوں کو اس آیت پر غور کر کے خود کا محاسبہ کرنا چاہیے 
وَٱلَّذِینَ ٱهۡتَدَوۡا۟ زَادَهُمۡ هُدࣰى وَءَاتَىٰهُمۡ تَقۡوَىٰهُمۡ ۔
(سورۃ محمد آیت 17) 
یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق آیت ہے۔

اگر آج کے لوگ خود کو ہدایت پر قائم جان رہے ہیں تو مزید ہدایت کی بڑھوتری اور تقوی کے حصول کی کوشش ہونی چاہیے ۔

مضمون کے اختتام پر ایک حدیث پیش ہے 👇

قالَ النبيُّ صَلّى اللهُ عليه وسلَّمَ يَومَ خَيْبَرَ: لَأُعْطِيَنَّ الرّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُفْتَحُ على يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ ورَسولَهُ، ويُحِبُّهُ اللَّهُ ورَسولُهُ، فَباتَ النّاسُ لَيْلَتَهُمْ أيُّهُمْ يُعْطى، فَغَدَوْا كُلُّهُمْ يَرْجُوهُ، فَقالَ: أيْنَ عَلِيٌّ؟، فقِيلَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَبَصَقَ في عَيْنَيْهِ ودَعا له، فَبَرَأَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ به وجَعٌ، فأعْطاهُ فَقالَ: أُقاتِلُهُمْ حتّى يَكونُوا مِثْلَنا؟ فَقالَ: انْفُذْ على رِسْلِكَ حتّى تَنْزِلَ بساحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إلى الإسْلامِ، وأَخْبِرْهُمْ بما يَجِبُ عليهم، فَواللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بكَ رَجُلًا خَيْرٌ لكَ مِن أنْ يَكونَ لكَ حُمْرُ النَّعَمِ ۔
رواه البخاري رقم ٣٠٠٩

اسلام کی دعوت قبول کر کے ہدایت کوئی آپ سے پالیتا ہے تو کئی سرخ اونٹوں سے بہتر ہے 👆

آخر میں دعوت و اصلاح جیسے انبیائی مشن سے متعلق اک شعر برائے عمل! 

جنھیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تم نے 
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی


ماخوذ :




۔

منگل، 14 اکتوبر، 2025

تحقیق مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے کفایت اللہ سنابلی

۔


۔ ہ ﷽ ہ ۔

مشہور عام لیکن ضعیف

مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے
حدیث کے طرق ، تخریج و تحقیق

شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ 



ہ ےےےےےے ہ 

 
عثمان بن ابي العاص رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے جس میں انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ سے اپنی آخری ملاقات اور اس موقع سے اللہ کے نبی ﷺ کی وصیتوں کو ذکرکیا ہے ۔ 
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے اور 
اکثر طرق میں اذان کی اجرت کا ذکر نہیں ہے اور یہی صحیح ہے یعنی ، 
اس روایت میں اذان کی اجرت سے متعلق کوئی بات ثابت نہیں ہے ۔ 
.
*تاہم بالفرض اگر ان الفاظ کو صحیح و ثابت تسلیم کر لیا جائے تو اس سے اذان پر اجرت کی حرمت نہیں بلکہ جواز ثابت ہوتا ہے*

چنانچہ امام جورقاني رحمہ الله ( المتوفى 543 ) فرماتے ہیں : 

 « فإن صحت هذه اللفظة ، كان فيه دليل على إباحة الأجرة ، لأن في قوله : " اتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا " دليل أن هناك من يأخذ الأجرة ، و إنما ذكره ( كذا ولعل الصواب كره ) ذلك ، ولو كان ذلك على الزجر لقال لا تؤخذ على الأذان أو لا يجوز » 

 " اگر یہ الفاظ ثابت بھی ہوجائیں تو اس میں اجرت کے جواز کی دلیل ہوگی کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ کا یہ فرمانا کہ : " ایسا مؤذن تلاش کرو جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے " *یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت اجرت لینے والے بھی تھے لیکن آپ ﷺ نے اسے پسند نہیں فرمایا ، اگر یہ حرام قرار دینے کے لئے ہوتا تو آپ ﷺ یوں کہتے کہ : اذان پر اجرت نہ لی جائے یا اذان پر اجرت لینا ناجائز ہے " * 
 [ الأباطيل و المناكير للجورقاني : 2 / 171 ما بين القوسين من الناقل ] 

*لیکن حقیقت یہ ہے کہ اذان پر اجرت والے الفاظ کے ساتھ یہ روایت ثابت ہی نہیں ہے ، اب آگے ہم اس حدیث کے تمام طرق کو دیکھتے ہیں ۔ *



پہلا طریق : حسن بصری عن عثمان بن أبي العاص
ہ ےےےےےے ہ

امام ترمذي رحمہ الله ( المتوفى 279 ) نے کہا : 

حدثنا هناد قال : حدثنا أبو زبيد وهو عبثر بن القاسم ، عن أشعث ، عن الحسن ، عن عثمان بن أبي العاص ، قال : إن من آخر ما عهد إلي رسول الله ﷺ : أن 
 « اتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا » 

عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سب سے آخری وصیت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے یہ کی کہ 
 " مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے " ۔ 

 [ سنن الترمذي رقم ( 209 ) و إسناده ضعيف ومن طريق الترمذي أخرجه ابن الجوزي في التحقيق ( 1 / 315 ) و أخرجه ابن أبي شيبة ( 2 / 491 ) ومن طريق ابن أبي شيبه أخرجه ابن ماجه رقم ( 714 ) من طريق حفص بن غياث ، و أخرجه أيضا الحميدي في مسنده رقم ( 930 ) و الطبراني في معجمه الكبير رقم 8378 و أبونعيم في حلية الأولياء ( 8 / 134 ) من طرق عن فضيل بن عياض كلاهما ( حفص بن غياث وفضيل بن عياض ) عن أشعث به ] 
.

یہ روایت درج ذیل علتوں کی بناپر ضعیف ومردود ہے ۔ 

① پہلی علت : 
حسن بصری رحمہ اللہ کے بارے میں کئی محدثین نے صراحت کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے ، چنانچہ
.
امام حاكم رحمہ اللہ الله ( المتوفى 405 ) نے کہا : 

 « فإن الحسن لم يسمع من عثمان بن أبي العاص » 

 " حسن بصری نے عثمان بن ابی العاص سے نہیں سنا ہے " ، 
 [ المستدرك للحاكم ، ط الهند : 1 / 176 ] 
.
حافظ ابن حجر رحمه الله ( المتوفى 852 ) نے کہا : 

 « روى عن… عثمان بن أبي العاص ومعقل بن سنان ولم يسمع منهم » 

 " حسن بصری نے عثمان بن ابی العاص اور معقل بن سنان سے روایت کیا ہے اور ان سے نہیں سنا ہے " 
 [ تهذيب التهذيب لابن حجر ، ط الهند : 2 / 264 ] 

تنبیہ : 
بعض روایات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حسن بصری نے عثمان بن ابی العاص کو دیکھا ہے ان سے ملاقات کی ہے تو اس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ایسی ملاقات اور رویت میں حدیث کا سماع نہیں کیا ہے جیسا کہ ابن معین رحمہ اللہ کے کلام سے پتہ چلتا ہے چنانچہ امام ابن معين رحمه الله ( المتوفى 233 ) نے کہا : 

 « ويقال إنه رأى عثمان بن أبي العاص » ، 

 " اور کہاجاتا ہے کہ انہوں نے عثمان بن ابی العاص کو دیکھا ہے " 
 [ تاريخ ابن معين ، رواية الدوري : 4 / 260 ] 

② دوسری علت : 
حسن بصری سے اس روایت کو نقل کرنے والا " اشعث بن سوار " ہے اور یہ ضعیف ہے ۔ 

محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے 
مثلا : 
امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ ( المتوفى 241 ) نے کہا : 
 « أشعث بن سوار ضعيف الحديث » ، " اشعث بن سوار ضعیف الحدیث ہے " 
 [ العلل ومعرفة الرجال لأحمد ، ت وصي : 1 / 494 ] 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ( المتوفى 852 ) نے کہا : 
 « ضعيف » ، " یہ ضعیف ہے " 
 [ تقريب التهذيب لابن حجر : رقم 524 ] 

دکتور بشار اور ان کی ٹیم نے اسی سبب اس روایت کو ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھا : 

 « إِسناده ضعيفٌ؛ أَشعث بن سَوَّار الكِندي ليس بثق » 

 " اس کی سند ضعیف ہے ، اشعث بن سوار کندی ثقہ نہیں ہے " 
 [ المسند المصنف المعلل ( 20 / 97 ) ] 

③ تیسری علت : 
اشعث بن سوار کے علاوہ حسن بصری کے دوسرے شاگردوں نے جب اسی حدیث کو روایت کیا تو اس میں اذان پر اجرت والی بات کا ذکر نہیں بلکہ دوسری بات کا تذکرہ کیا ملاحظہ ہو دیگر شاگردوں کی روایات : 

* ہشام بن حسان کی روایت
امام ابن ماجة رحمه الله ( المتوفى 273 ) نے کہا : 

حدثنا إسماعيل بن أبي كريمة الحراني قال : 
حدثنا محمد بن سلمة ، عن محمد بن عبد الله بن علاثة ، عن هشام بن حسان ، عن الحسن ، عن عثمان بن أبي العاص ، قال : قال رسول الله ﷺ : 
 « إني لأسمع بكاء الصبي ، فأتجوز في الصلاة » .

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 
 " میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز ہلکی کر دیتا ہوں " ۔ [ سنن ابن ماجه رقم 990 و إسناده صحيح إلي هشام ] 


* حميد بن أبي حميد کی روایت : 
امام أبوداؤد رحمه الله ( المتوفى 275 ) نے کہا : 

حدثنا أحمد بن علي بن سويد يعني ابن منجوف ، حدثنا أبو داود ، عن حماد بن سلمة ، عن حميد ، عن الحسن ، عن عثمان بن أبي العاص ، أن وفد ثقيف لما قدموا على رسول الله ﷺ ، أنزلهم المسجد ليكون أرق لقلوبهم ، فاشترطوا عليه أن لا يحشروا ، ولا يعشروا ، ولا يجبوا ، فقال رسول الله ﷺ : 
 « لكم أن لا تحشروا ، ولا تعشروا ، ولا خير في دين ليس فيه ركوع » 

عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اہل وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں ، انہوں نے شرط رکھی کہ وہ مقابلہ کے لیے نہ اکٹھے کئے جائیں نہ ان سے عشر ( زکاۃ ) لی جائے اور نہ ان سے نماز پڑھوائی جائے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 
 " خیر تمہارے لیے اتنی گنجائش ہو سکتی ہے کہ تم مقابلہ کے لیے نہ بلائے جاؤ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم سے زکاۃ نہ لی جائے ( کیونکہ بالفعل سال بھر نہیں گزرا ) لیکن اس دین میں اچھائی نہیں جس میں رکوع ( نماز ) نہ ہو " ۔ 

 [ سنن أبي داود 3026 و إسناده صحيح إلي حميد و أخرجه أيضا أحمد في مسنده رقم ( 17913 ) من طريق عفان عن حمادبه ] 

 " عبيدة بن حسان " کی بھی ایک روایت " حسن بصری " سے اجرت اذان کے ذکر کے بغیر مروی ہے مگر عبیدہ تک سند صحیح نہیں ہے دیکھیں : 
 [ المعجم الكبير للطبراني 9 / 57 ] 
خلاصہ یہ کہ اجرت اذان کے ذکر کے ساتھ یہ طریق ضعیف و مردود ہے ۔ 



دوسرا طريق : موسى بن طلحة ، عن عثمان بن أبي العاص الثقفي : 
ہ ےےےےےے ہ

امام مسلم رحمه الله ( المتوفى 261 ) نے کہا : 
امام مسلم رحمه الله ( المتوفى 261 ) نے کہا : 
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا أبي ، حدثنا عمرو بن عثمان ، حدثنا موسى بن طلحة ، حدثني عثمان بن أبي العاص الثقفي ، أن النبي ﷺ قال له : « أم قومك » قال : قلت : يا رسول الله ، إني أجد في نفسي شيئا قال : « ادنه » فجلسني بين يديه ، ثم وضع كفه في صدري بين ثديي. ثم قال : « تحول » فوضعها في ظهري بين كتفي ، ثم قال : « أم قومك. فمن أم قوما فليخفف ، فإن فيهم الكبير ، و إن فيهم المريض ، و إن فيهم الضعيف ، و إن فيهم ذا الحاجة ، و إذا صلى أحدكم وحده ، فليصل كيف شاء » 

حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 
 " اپنی قوم کی امامت کراؤ " ۔ میں نے عرض کیا مجھے کچھ جھجک محسوس ہوتی ہے ، آپﷺ نے فرمایا : " قریب ہوجا " ۔ آپﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر اپنی ہتھیلی میرے سینہ پر میرے پستانوں کے درمیان رکھی ، پھر فرمایا : " پھر جا " پھرنے کے بعد آپﷺ نے ہتھیلی میری پشت پر میرے کندھوں کے درمیان رکھی ، پھر فرمایا : " اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے وہ نماز میں تخفیف کرے ، کیونکہ ان میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں ، ان میں بیمار بھی ہوتے ہیں ، ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں ۔ اور ان میں ضرورت مند بھی ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۔ " 
 [ صحيح مسلم رقم 468 و أخرجه البيهقي في " سننه " ( رقم 5278 ) من طريق محمد بن عبد الله بن نمير و أبونعيم في " مستخرجه " ( رقم 1035 ) من طريق أبي كريب ( كلاهما محمد بن عبد الله بن نمير و أبو كريب ) من طريق ابن نمير ۔ و أخرجه البيهقي أيضا في " سننه " ( رقم 5278 ) من طريق أحمد بن نصر ، و أخرجه ابوعوانه في " مستخرجه " ( 1 / 420 ) من طريق حمدان بن علي ، و أخرجه السراج في " حديثه " ( رقم 337 ) من طريق مجاهد بن موسى ، كلهم ( أحمد بن نصرو حمدان بن علي ومجاهد بن موسى ) من طريق أبي نعيم ۔ و أخرجه أيضا أحمد في " مسنده " ( رقم 16276 ) و ابن أبي شيبه في " مصنفه " ( رقم 4659 ) و أبوعوانة في " مستخرجه " ( رقم 556 ) من طريق ابن أبي رجاء و أبونعيم في " مستخرجه " ( رقم 1035 ) من طريق أبي كريب ، كلهم ( أحمدوابن ابي شيبه و أبوعوانه و أبو كريب ) من طريق وكيع ۔ و أخرجه أيضا أبوعوانة في " مستخرجه " ( رقم 1 / 420 ) من طريق محمد بن عبيد ۔ و أخرجه أيضا أحمد في " مسنده " ( رقم 17899 ) و السراج في " حديثه " ( رقم 335 ) من طريق عبيد الله بن سعيد ، كلاهما ( أحمدوعبيد الله بن سعيد ) من طريق يحيى بن سعيد ۔ و أخرجه أيضا السراج في " حديثه " ( رقم 336 ) من طريق عباد بن العوام ۔ و أخرجه أيضا أبونعيم في " مستخرجه " ( رقم 1035 ) من طريق محمد بن بشر ويونس بن بكير ۔ جميعهم ( ابن نميرو أبو نعيم ووكيع ومحمد بن عبيدويحيى بن سعيدوعباد بن العوام و محمد بن بشر ويونس بن بكير ) من طريق عمرو بن عثمان به ] 

صحیح مسلم کی اس روایت میں بھی اذان پر اجرت والی بات کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ 

تنبیہ : 
اس کے ایک طریق میں اذان پر اجرت والی بات مروی ہے چنانچہ : 

ابو عوانة يعقوب بن إسحاق الإسفرائني ( المتوفی 316 ) نے کہا : 

حدثنا علي بن حرب قال : ثنا يعلى ومحمد ابنا عبيدٍ ، ح وحدثنا عمار قال : ثنا محمد بن عبيد ، ح وحدثنا حمدان بن علي قال : ثنا أبو نعيم قالوا : ثنا عمرو بن عثمان ، بإسناده مثله بمعناه. زاد علي : 
 « واتخذ مؤذنا لا يأخذ على الآذان أجرا » ‌

 " علی بن حرب عن يعلى ومحمد ابنا عبيدٍ کے طریق میں یہ اضافہ ہے کہ : 
اور ایسا مؤذن رکھئےجو اذان پر اجرت نہ لیتا ہوں " 
 [ مستخرج أبي عوانة رقم 1557 ] 

عرض ہے کہ : 
امام ابوعوانہ نے اذان پر اجرت والی بات کے اضافہ کو " علی بن حرب " کی طرف منسوب کیا ہے اور سند میں علی بن حرب کے دو استاذ ہیں " یعلی بن عبید " اور " محمد بن عبید " ۔ 

جہاں تک " محمد بن عبید " کی بات ہے تو ان کے بیان میں اضطراب ہے کیونکہ : 

➊ علی بن حرب کی روایت میں انہوں نے اس اضافہ کو ذکر کیا ہے ۔ 

➋ جبکہ عمار کی روایت میں یہ اضافہ ذکر نہیں کیا ہے دیکھئے : [ مستخرج أبي عوانة رقم 1557 ] 

➌ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے اس اضافہ والی بات کو مرسل سند سے ذکر کیا ہے چنانچہ : 

امام ابن سعد رحمه الله ( المتوفى 230 ) نے کہا : 
أخبرنا محمد بن عبيد الطنافسي قال : حدثنا عمرو بن عثمان ، عن موسى بن طلحة ( ؟ ) قال : 
بعث رسول الله ﷺ عثمان بن أبي العاص على الطائف ، وقال : 
 « صل بهم صلاة أضعفهم ، ولا يأخذ مؤذنك أجرا » 

موسی بن طلحہ ( تابعی ) روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے عثمان بن ابی العاص کو طائف بھیجا اور کہا : 
 " تم انہیں ان کے کمزور لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھانا اور تمہارا مؤذن اجرت لینے والا نہ ہو " 
 [ الطبقات الكبرى ط دار صادر 7 / 40 و إسناده مرسل ] 

معلوم ہوا کہ محمد بن عبید اس روایت کے بیان میں سند ومتن دونوں اعتبار سے اضطراب کا شکار ہوا ہے ۔ اس لئے اس کے ان بیانات میں وہی بیان معتبر ہوگا جو اس کے استاذ کے دیگر عام شاگردوں کے موافق ہو ۔ 

رہی بات " یعلی بن عبید " کی تو ان کا یہ اضافہ بھی مردود ہوگا کہ کیونکہ ان کی معتبر متابعت موجود نہیں ہے ، اور محمد بن عبید کی روایت بجائے خود غیر معتبر ہے کیونکہ وہ کسی ایک بیان پر رکے نہیں ہیں بلکہ سند ومتن دونوں اعتبار سے اضطراب کے شکار ہوئے ہیں ۔ 
لہٰذا ان کی روایت یعلی بن عبید کے اضافہ کی مؤید نہیں ہوسکتی ۔ 
علاوہ بریں " یعلی بن عبید " کے استاذ " عمرو بن عثمان " سے ان کے دیگر سات شاگردوں نے صحیح سندون سے یہی روایت بیان کی ہے مگر کسی نے بھی اذان پر اجرت والی بات روایت نہیں کی ہے ملاحظہ ہوں دیگر شاگردوں کی روایات : 

➊ عبد الله بن نمير حدثنا عمرو بن عثمان 
 ( صحيح مسلم رقم 468 ) 

➋ أبو نعيم ، ثنا عمرو بن عثمان 
 ( السنن الكبرى للبيهقي رقم 5278 و إسناده حسن ) 

➌ وكيع ، عن عمرو بن عثمان 
 ( مصنف ابن أبي شيبة رقم 4659 و إسناده صحيح ) 

➍ يحيى بن سعيد ، قال : حدثنا عمرو بن عثمان 
 ( مسند أحمد رقم 17899 و إسناده صحيح ) 

➎ عباد ‌بن ‌العوام ثنا عمرو بن عثمان 
 ( حديث السراج رقم 336 و إسناده حسن ) 

➏ محمد بن بشر عن عمرو بن عثمان 
 ( المسند المستخرج على صحيح مسلم 2 / 85 و إسناده صحيح ) 

➐ يونس بن بكير عن عمرو بن عثمان
 ( المسند المستخرج على صحيح مسلم 2 / 85 و إسناده صحيح ) 

ان سات لوگوں کا بالاتفاق اپنے استاذ سے اس حدیث کو اذان پر اجرت والے الفاظ کے بغیر روایت کرنا بہت واضح دلیل ہے کہ اس حدیث میں اذان پر اجرت والی بات موجود ہی نہیں ، یہی وجہ ہے کہ امام مسلم نے بھی اسی طریق سے اس حدیث کو روایت کیا ہے مگر اذان پر اجرت والی بات ذکر نہیں کی ہے ۔ 



تیسرا طريق : طريق مطرف بن عبد الله
ہ ےےےےےے ہ

 مطرف بن عبد الله ، عن عثمان بن أبي العاص الثقفي

امام أبوداؤد رحمه الله ( المتوفى 275 ) نے کہا : 

حدثنا موسى بن إسماعيل ، حدثنا حماد ، أخبرنا سعيد الجريري ، عن أبي العلاء ، عن مطرف بن عبد الله ، عن عثمان بن أبي العاص ، قال : قلت : وقال موسى في موضع آخر إن عثمان بن أبي العاص قال – يا رسول الله اجعلني إمام قومي ، قال : « أنت إمامهم واقتد بأضعفهم واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا » 

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : 
اے اللہ کے رسول! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجئیے ، 
آپ ﷺ نے فرمایا : 
 " تم ان کے امام ہو تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا ، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے " ۔ 

 [ سنن أبي داود رقم 531 و إسناده ضعيف ومن طريق أبي داؤد أخرجه ابن حزم في " المحلي " ( 3 / 15 ) والبغوي في " شرح السنة " ( رقم 417 ) . و أخرجه عفان ( أحاديث عفان 236 ترقیم الشاملة ) ترقيم الشاملة و أخرجه أيضا أحمد في مسنده ( 29 / 435 ) ومن طريقه أخرجه ابن الجوزي في " التحقيق " ( رقم 1575 ) من طريق حسن بن موسى الأشيب ، و أخرجه أيضا ابن قانع في " معجم الصحابه " ( 2 / 256 ) من طريق أبي سلمة ، و أخرجه أيضا ابن المنذر في " الأوسط " ( رقم 1238 ) و الطحاوي في شرح مشكل الآثار ( رقم 6000 ) من طريق يحيى بن حسان التنيسي ، و أخرجه أيضا الجورقاني في الأباطيل ( رقم 531 ) من طريق عبيد الله بن محمد العيشي ، و أخرجه أيضا في " مسنده " ( رقم 214 ) من طريق سليمان بن حرب ، و أخرجه أيضا الطبراني في " معجمه الكبير " ( رقم 8365 ) من طريق حفص بن عمر الضرير وحجاج بن المنهال ، و أخرجه أيضا ابن خزيمة في " صحيحة " ( 1 / 221 ) من طريق هشام بن الوليد و محمد بن الفضل عارم ، كلهم ( عفان و حسن بن موسى الأشيب و أبو سلمة و يحيى بن حسان التنيسي و عبيد الله بن محمد العيشي و سليمان بن حرب وحفص بن عمر الضرير وحجاج بن المنهال وهشام بن الوليد و محمد بن الفضل عارم ) من طريق حماد بن سلمة به ] 
.
یہ روایت ضعيف ہے ۔ 
امام جورقاني رحمه الله ( المتوفى 543 ) اس روایت کے تمام طرق کے پیش نظر اس پر نقد کرنے کے بعد فرماتے ہیں : 

 " رواه جماعة كثيرة عن عثمان ولم يقل منهم أحد : واتخذ [ مؤذنا ] لا يأخذ على أذانه أجرا ، إلا ما تفرد به حماد عن الجريري " 

 " اس حدیث کو عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے لیکن ان میں سے کسی نے بھی یہ الفاظ نہیں بیان کئے کہ : 
 " ایسا مؤذن رکھیں جو اجرت نہ لیتا ہو " ، 
یہ الفاظ صرف حماد بن سلمہ نے جریری کے طریق سے بیان کیا ہے " 

 [ الأباطيل والمناكير للجورقاني : 2 / 171 ما بين القوسين من الناقل ] 
.
یادرہے " حماد بن سلمہ " نے کئی روایات کو بیان کرتے ہوئے سند و متن میں غلطیاں کی ہیں چنانچہ : 

امام ذهبي رحمه الله ( المتوفى 748 ) نے کہا : 

 " هو ثقة صدوق يغلط " ، 
 " یہ ثقہ وصدوق ہیں اور غلطی کرتے ہیں " 
 [ الكاشف للذهبي ت عوامة : 1 / 349 ] 

بلکہ بعض نے تویہاں تک کہہ دیا ہے کہ یہ آخری عمر میں سوئے حفظ کے شکار ہوگئے تھے لیکن علی الاطلاق ایسا کہنا درست نہیں ہے ۔ 

البتہ جس روایت میں یہ ثقات کی مخالفت کریں وہاں ان کی روایت قابل حجت نہ ہوگی جیساکہ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 

 « و إذا كان الأمر على هذا فالاحتياط لمن راقب الله تعالى أن لا يحتج بما يجد في أحاديثه مما يخالف الثقات » 

 " جب حماد بن سلمہ کا معاملہ ایسا ہے تو اللہ والوں کے لئے احتیاط اسی میں ہے کہ یہ جن روایات کو بیان کرنے میں ثقات کی مخالفت کریں ان میں ان کو حجت نہ مانا جائے " 

 [ الخلافيات للبیہقی : 2 / 50 ] 
نیز دیکھیں : ہماری کتاب احکام طلاق ( ص ) 

تنبیہ : 
بعض لوگوں نے امام جورقانی کی اس جرح کا یہ جواب دیا ہے کہ حماد بن سلمہ کی متابعت " حماد بن زید " نے بھی کردی ہے جیساکہ مسند احمد میں ہے ۔ 
 [ مسند أحمد 26 / 201 ] 

جوابا عرض ہے کہ : 
امام احمد رحمہ اللہ نے اسے عفان کے واسطے سے نقل کیا ہے اور عفان کے دیگر تمام شاگردوں نے بلکہ دوسری جگہ خود امام احمدذ رحمہ اللہ نے بھی اس روایت میں عفان کے استاذ کی جگہ " حماد بن سلمہ " ہی کانام لیا ہے حوالے ملاحظہ ہوں : 

➊ احمد بن حنبل حدثنا عفان ، قال : حدثنا حماد بن سلمة 
 ( مسند أحمد رقم 16271 ) 

➋ أحمد بن سليمان ، قال : حدثنا عفان ، قال : حدثنا حماد بن سلمة
 ( السنن الكبرى للنسائي 2 / 250 ) 

➌ محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة
 ( السنن الكبرى للبيهقي 1 / 631 ) 

نیز " احادیث عفان " میں بھی یہ حدیث صرف حماد بن سلمہ ہی کے طریق سے دیکھیں : [ أحاديث عفان 236 ] 

علاوہ بریں عفان کے علاوہ تمام رواۃ نے اسے بالاتفاق حماد بن سلمہ سے ہی روایت کیا ہے ۔ حوالے ملاحظہ ہوں : 

➊ موسى بن إسماعيل ثنا حماد بن سلمة 
 ( المحلى لابن حزم ، ط بيروت : 3 / 15 ) 

➋ حسن بن موسى ، حدثنا حماد بن سلمة 
 ( مسند أحمد 29 / 435 ) 

➌ يحيى بن حسان ، حدثنا حماد بن سلمة 
 ( شرح مشكل الآثار 15 / 263 ) 

➍ سليمان بن حرب ثنا حماد بن سلمة 
 ( مسند السراج ص100 ) 

➎ حجاج بن المنهال ، قالوا : ثنا حماد بن سلمة 
 ( المعجم الكبير رقم 8365 ) 

➏ ابو عمر الضرير ، ثنا حماد بن سلمة 
 ( المعجم الكبير رقم 8365 ) 

ان حقائق سے روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے کہ یہ طریق حماد بن سلمہ ہی کا ہے ۔ 

تاہم اگرفرض کرلیں کہ اس مقام پر حماد بن زید ہی ہے اور اس نے حماد بن سلمہ کی متابعت کردی ہے تو بھی سند کے اوپری طبقات میں بھی علتیں موجود ہیں چنانچہ : 
.
 " مطرف بن عبد الله " سے اسی روایت کو جب ان کے دوسرے شاگرد " سعید بن ابی الھند " نے روایت کیا تو اس میں اذان پر اجرت والی بات ذکر نہ کی چنانچہ : 

امام حمیدی رحمہ اللہ ( المتوفی219 ) نے کہا : 

ثنا سفيان قال : ثنا محمد بن إسحاق ، سمعه من سعيد بن أبي هند ، سمعه من مطرف بن عبد الله بن الشخير ، قال : سمعت عثمان بن أبي العاص الثقفي ، يقول : قال رسول الله ﷺ : 
 « أم قومك واقدرهم بأضعفهم ، فإن منهم الكبير ‌والضعيف ‌وذا ‌الحاجة » 

مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : 

 " عثمان! نماز ہلکی پڑھنا ، اور لوگوں میں جو سب سے زیادہ کمزور ہوں ان کی رعایت کرنا ، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے ، ناتواں اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں " ۔ 

 [ مسند الحميدي رقم 929 و إسناده صحيح و أخرجه ابن أبي شيبة في مصنفه ( رقم 8891 ) من طريق إسماعيل بن إبراهيم ومن طريقه أخرجه ابن ماجه في سننه ( رقم 987 ) من طريق إسماعيل ابن علية ، و أخرجه أيضا أحمد في مسنده ( رقم 16273 ) من طريق حماد بن زيد ، و أخرجه أيضا أبونعيم في معرفة الصحابة ( رقم 4936 ) من طريقه يزيد بن هارون ، و أخرجه أيضا ابن المنذر في الأوسط ( رقم 2030 ) من طريق يزيد بن زريع ، و أخرجه أيضا ابن خزيمه في صحيحه ( رقم 1608 ) من طريق سلمة بن الفضل وابن عدي و سفيان ، كلهم ( اسماعيل بن عليلة وحماد بن زيد ويزيد بن هارون ويزيد بن زريع ) عن ابن اسحاق به ، وصرح ابن اسحاق بالسماع عند ابن المنذر ] .
.

نیز " عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ " سے ان كے شاگرد " مطرف بن عبد الله " کے علاوه دیگر شاگردوں نے یہ روایت بیان کی تو انہوں نے بھی اذان پر اجرت والی بات ذکر نہ کی ۔ 

موسى بن طلحة عن عثمان بن أبي العاص کی روایت صحیح مسلم ( رقم 468 ) کے حوالے سے گزرچکی ہے ۔ 

دیگر شاگردوں کی روایات اگلے طرق میں ملاحظہ ہوں : 



چوتھا طریق : سعيد بن المسيب عن عثمان بن أبي العاص : 
ہ ےےےےےے ہ

امام مسلم رحمہ الله ( المتوفى 261 ) نے کہا : 
حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قالا : حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن عمرو بن مرة ، قال : سمعت سعيد بن المسيب ، قال : حدث عثمان بن أبي العاص ، قال : 
 « آخر ما عهد إلي رسول الله ﷺ إذا أممت قوما ، فأخف بهم الصلاة » 

سعید بن مسیب نے کہا : حضرت عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے آخری بات جو میرے ذمے لگائی یہ تھی : 
 " جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں نماز ہلکی پڑھاؤ ۔ " 

 [ صحيح مسلم رقم 468 ومن طريق جعفر أخرجه أحمد في " مسنده " ( رقم 16277 ) ، و أخرجه البيهقي في سننه ( رقم 5269 ) من طريق أبي داؤد ، و أخرجه أيضا أبونعيم في معرفة الصحابة رقم 4937 من طريق بشر بن عمروسليمان بن حرب و أبي الوليد ، كلهم ( أبوداود وبشر بن عمروسليمان بن حرب و أبو الوليد ) من طريق شعبة به ] 

یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے اور اس میں اذان کی اجرت کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ 



پانچواں طریق : حكيم بن حكيم عن عثمان بن أبي العاص : 
ہ ےےےےےے ہ

امام طبراني رحمه الله ( المتوفى 360 ) نے کہا : 

حدثنا يحيى بن أيوب العلاف المصري ، ثنا سعيد بن أبي مريم ، ثنا محمد بن جعفر ، عن سهيل بن أبي صالح ، عن حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف ، عن عثمان بن أبي العاص ، قال : قدمت في وفد ثقيف حين وفدوا على رسول الله ﷺ ، فلبسنا حللنا بباب النبي ﷺ ، فقالوا : 
من يمسك لنا رواحلنا ، وكل القوم أحب الدخول على النبي ﷺ وكره التخلف عنه ، قال عثمان : وكنت أصغر القوم ، فقلت : إن شئتم أمسكت لكم على أن عليكم عهد الله لتمسكن لي إذا خرجتم ، قالوا : فذلك لك ، فدخلوا عليه ثم خرجوا فقالوا : انطلق بنا ، قلت : أين؟ فقالوا : إلى أهلك ، فقلت : ضربت من أهلي حتى إذا حللت بباب النبي ﷺ أرجع ولا أدخل عليه ، وقد أعطيتموني من العهد ما قد علمتم؟ قالوا : فأعجل فإنا قد كفيناك المسألة ، لم ندع شيئا إلا سألناه عنه ، فدخلت فقلت : يا رسول الله ، ادع الله أن يفقهني في الدين ويعلمني ، قال : « ماذا قلت؟ » فأعدت عليه القول ، فقال : « لقد سألتني شيئا ما سألني عنه أحد من أصحابك ، اذهب فأنت أمير عليهم وعلى من تقدم عليه من قومك ، و أم الناس بأضعفهم » فخرجت حتى قدمت عليه مرة أخرى فقلت : يا رسول الله ، اشتكيت بعدك ، فقال : ضع يدك اليمنى على المكان الذي تشتكي ، وقل : أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد سبع مرات ففعلت فشفاني الله عز وجل

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ جب اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آئے تو میں بھی ان میں تھا ۔ ہم نے نبی ﷺ کے دروازے پر اپنے کپڑے پہنے ۔ وفد کے لوگوں نے کہا : کون ہمارے جانوروں کو سنبھالے گا؟ سب لوگ نبی ﷺ سے ملنا چاہتے تھے اور کوئی پیچھے رہنا نہیں چاہتا تھا ۔ عثمان کہتے ہیں : میں وفد میں سب سے کم عمر تھا ، تو میں نے کہا : اگر تم چاہو تو میں تمہارے جانور سنبھال لوں ، بشرطیکہ تم اللہ کا عہد دو کہ جب تم باہر آؤ گے تو میرے جانور سنبھالو گے ۔ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ، آپ کی بات منظور ہے ۔ چنانچہ وہ نبی ﷺ سے ملنے اندر گئے اور پھر باہر آئے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا : چلو ہمارے ساتھ ۔ میں نے پوچھا : کہاں؟ انہوں نے کہا : اپنے گھر والوں کے پاس ۔ میں نے کہا : میں اپنے گھر والوں سے اتنی دور تک آیا ہوں اور اب نبی ﷺ کے دروازے پر پہنچ کر واپس چلا جاؤں اور ان سے نہ ملوں؟ تم نے مجھے جو عہد دیا تھا ، وہ تم جانتے ہو! انہوں نے کہا : ٹھیک ہے لیکن جلدی کرنا کیونکہ ہم نے تمہاری جگہ سب کچھ پوچھ لیا ہے کوئی سوال نہیں چھوڑا جو ہم نے نبی ﷺ سے نہ کیا ہو ۔ پھر میں اندر گیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے دین کی سمجھ عطا فرمائے اور مجھے دین کا علم سکھائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے کیا کہا؟ میں نے اپنی بات دہرائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : 
تم نے مجھ سے ایسی چیز مانگی جو میرے کسی اور ساتھی نے نہیں مانگی ۔ جاؤ ، تم اپنے وفد اور جن لوگوں کے پاس تم جارہے ہو ان کے امیر ہو ، اور لوگوں کی امامت کرتے ہوئے کمزوروں کی رعایت کرنا ۔ 
پھرمیں واپس آیا اور کچھ عرصے بعد دوبارہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ کے بعد مجھے بیماری ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنا دایاں ہاتھ اس جگہ پر رکھو جہاں تکلیف ہے اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھو : أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد 
 ( میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کے ساتھ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے محسوس ہو رہا ہے ) ۔ 
میں نے ایسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرمائی ۔ 

 [ المعجم الكبير للطبراني رقم 8356 و إسناده حسن و أخرجه أيضا السراج في " مسنده " ( رقم 221 ) من طريق محمد بن جعفر به مختصرا ] 

یہ حسن روایت ہے اس میں بھی اذان کی اجرت کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ 
.
مذکورہ طرق کے علاوہ اس حدیث کے اور بھی طرق ہیں اور ان میں بھی اذان پر اجرت والے الفاظ ثابت نہیں ہیں لیکن ہماری نظر میں وہ سب کے سب ضعیف و غیر ثابت ہیں اور وہ ہیں : 



چھٹا طریق : - 
ہ ےےےےےے ہ

 داود بن أبي عاصم الثقفي ، عن عثمان بن أبي العاص 
 ( مسند أحمد 29 / 440 وقال المعلقون عليه : إسناده قوي ) 



ساتواں طریق : -  
ہ ےےےےےے ہ

عبد ‌الله ‌بن ‌الحكم عن ‌عثمان ‌بن ‌أبي ‌العاص 
 ( مسند أحمد 29 / 441 ) 



آٹھواں طریق : -  
ہ ےےےےےے ہ

نعمان بن سالم ، عن عثمان بن أبي العاص 
 ( معجم الصحابة لابن قانع 2 / 256 ) 



نواں طریق : -  
ہ ےےےےےے ہ

المغيرة بن شعبة عن عثمان بن أبي العاص 
 ( المعجم الكبير للطبراني 9 / 44 ) 



دسواں طریق : -  
ہ ےےےےےے ہ

اشیاخ بنی ثقیف عن عثمان بن أبي العاص 
 ( مسند أحمد 26 / 203 وقال المعلقون عليه : حديث صحيح ، ولا يضر جهالة الرواة الذين حدث عنهم النعمان بن سالم الثقفي ، لأنهم جمع ) 

ان طرق میں سے بھی کسی ایک میں اذان پر اجرت والی بات مذکور نہیں ہے ، لیکن چونکہ ہماری نظر میں یہ سارے طرق ضعیف ہیں اس لئے ہم اس کی تفصیل میں نہیں جاتے ۔ 

ایک شاہد کا جائزہ
امام طبراني رحمه الله ( المتوفى 360 ) نے کہا : 

حدثنا ‌عبد ‌الله ‌بن ‌أحمد ‌بن ‌حنبل ، ‌حدثني ‌محمد ‌بن ‌عبد ‌الرحيم البرقي ، ثنا شبابة بن سوار ، ثنا المغيرة بن مسلم ، عن الوليد بن مسلم ، عن سعيد القطيعي ، عن المغيرة بن شعبة ، قال : سألت النبي ﷺ أن يجعلني إمام قومي فقال : 
 « صل صلاة أضعف القوم ، ولا تتخذ مؤذنا يأخذ على أذانه أجرا » 

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے مطالبہ کیا کہ مجھے میری قوم کا امام بنادیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ : 
 " تم انہیں ان کے کمزورں کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھانا اور اور ایسا مؤذن مت رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت لیتا ہو " 

 [ المعجم الكبير للطبراني 20 / 434 و إسناده ضعيف جدا و أخرجه البخاري في " التاريخ " ( 3 / 486 ) من طريق محمد أبي يحيي عن شبابة به ولم يذكر في الإسناد الوليد بن مسلم ] 
.
یہ روایت درج ذیل علتوں کی بنا پر سخت ضعیف ہے : 

① اولا : 
سعید بن طھمان کا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے ۔ 

کسی بھی محدث نے سعید بن طہمان کے اساتذہ میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ 

امام ابو حاتم الرازي رحمہ اللہ الله ( المتوفى 277 ) نے کہا : 
 " يروي عن أنس ، لا يذكر سماعا ، ولا رؤية " 

 " یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے لیکن نہ تو ان سے سماع کا ذکر کرتا ہے نہ رؤیت کا " 

 [ الجرح والتعديل لابن أبي حاتم ، ت المعلمي : 4 / 35 ] 
.
غور کیجئے کہ جب ان کا سماع انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت نہیں ہے جن کی وفات 93 ہجری میں ہوئی ہے ۔ 
 [ تهذيب الكمال للمزي : 3 / 377 ] 

تو پھرمزید چالیس سال سے بھی زیادہ پیچھے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع کیسے ثابت ہو سکتا ہے جن کی وفات 50 ہجری میں ہوئی ہے ۔ 
 [ تاريخ بغداد ، مطبعة السعادة : 1 / 191 ] 

② ثانیا : 
طبرانی کی روایت میں مغیرہ بن مسلم اور سعيد القطيعي کے درمیان ولید بن مسلم کا اضافہ ہے اور انہوں نے آگے سند کے تمام طبقات میں سماع کی صراحت ذکر نہیں کی ہے جبکہ یہ بکثرت تدلیس و تسویہ کرنے والے ہیں ۔ 

حافظ ابن حجر رحمه الله ( المتوفى 852 ) نے ان کے بارے میں کہا : 

 « كثير التدليس والتسوية » ، " یہ بکثرت تدلیس اور تسویہ کرنے والے ہیں " 
 [ تقريب التهذيب لابن حجر : رقم 7456 ] 

اور یہ سند سے کذابین اور وضاعین کو ساقط کرتے تھے اس لئے ان کے عنعنہ والی روایت سخت ضعیف شمار ہوگی خواہ عنعنہ کسی بھی طبقہ میں ہو ۔ 

ترمذی ( رقم 3570 ) کی روایت کے تمام رجال بخاری ومسلم کے رجال ہیں اور سند میں علت صرف ولید بن مسلم کا عنعنہ ہے لیکن محدثین نے موضوع ومن گھڑت قرار دیا ہے ۔ 

علامه الباني رحمه الله نے اسے موضوع کہا ہے ، اور اس کاسبب وليد کے تسويه کو قرار ديا ہے 
 [ الضعيفة : 7 387 ، تحت الرقم 3374 ] 

حافظ ابن حجر رحمه الله نے بھی اس روايت کو موضوع کہا ہے 
 ( لسان الميزان : 205 ) اور 
وليدبن مسلم کي تدليس تسويه کو علت قرارديا ہے 
 [ النکت الظراف : 915 ] 

③ ثالثا : 
روایت میں امامت کا متن دسیوں طرق سے مروی ہے جن میں بہت سارے طرق صحیح ہیں 
ان تمام طرق میں رواۃ کا اتفاق ہے کہ امامت کی یہ بات عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے کی تھی ۔ 

لہٰذا ان تمام طرق کے بر خلاف اس روایت میں اس بات کو دوسرے صحابی کے حوالے ذکر کرنا یہ بھی دلیل ہے کہ یہ روایت باطل اور کالعدم ہے ۔ 



خلاصہ کلام : 
ہ ےےےےےے ہ

زیر بحث حدیث کے کل دس طرق ملتے ہیں جن میں چھ طرق ( پہلا اور چھٹا تا دسواں ) سرے سے ضعیف وغیر ثابت ہیں ۔ 

باقی بچے چار طرق ( دوسرا تا پانچواں ) تو ان میں دو طرق ( چوتھا اور پانچواں ) میں اذان پر اجرت والی بات کا ذکر ہی نہیں ہے ۔ 
باقی بچے دو طرق ( دوسرا اور تیسرا ) تو ان میں سے دوسرے یعنی موسى بن طلحة والے طریق میں اذان پر اجرت والی بات شاذ ہے اور اصل اور ثابت روایت میں یہ بات مذکور ہی نہیں ہے 
اسی لئے امام مسلم نے اپنی صحیح میں جب اس طریق سے روایت درج کی تو اس میں اذان پر اجرت والےالفاظ ذکر نہیں کئے ۔ 

اور باقی بچا تیسرا یعنی مطرف والا طریق تو اس میں بھی اذان پر اجرت والے الفاظ ثابت نہیں ہیں  کیونکہ حماد سے اوپر طبقات میں مخالفت ہے جیسا کہ تفصیل گزچکی ہے ۔ اسی لئے امام جورقانی رحمہ اللہ نے حماد کے بیان کردہ اضافہ کو ضعیف قرار دیا ہے کما مضی ۔ 


 ماخوذ : 







ہ ےےےےےے ہ


جوائین ان :


شئیر

 ۔