۔ ﷽ ۔
شرعی امور میں مصالح العباد
فیصل عادل
ہ ےےےےےے ہ
ہ ےےےےےے ہ
کما تدين تدان !
ہم نے بے مایہ ہی دیکھا ترے دیوانوں کو
فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کی دین میں انکارِ مصالح کی بات اس تحریر سے پہچان لیں
نگارش از خامہ📒🖋️...... فیصل عادؔل
۔🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷۔
1۔
فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے
امام و متبعین سبھی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھائے جانے والے اعتدال و وسطیت، تسامح و تعایش کو ایسے پسِ پشت ڈال دیتے ہیں جیسے البیک کے مقلی دجاج کھا کر مرغی کے ران کی ہڈی کو پھینک دیا جاتا ہے ۔
جامعۃ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ریال پانے کے لئے مداہنت کرتے ہیں ۔
چپی سادھ لیتے ہیں ۔ ؎
ہو سامنے ریال تو حنظل بھی شہد ہے
اب ہند میں عسل سے مفاصل کا درد ہے
وہاں اعتدال کا مذاق نہیں اڑاتے تسامح و تعایش کے پروموشن پر چیں بہ جبیں نہیں ہوتے ہیں ۔ سبھی مذکرہ کو دریا برد کر کے یونی ورسٹی میں لہو و لعب میں مکمل توغّل و شراکت درج کراتے ہیں ۔ ایرانی مہرجان وغیرہ میں ہر سال معین دن پر خوشیاں منائی جاتی ہیں
اسی طرح ایسے دن
خوشی، زینت، جلوس، خصوصی پروگرام وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں! ؎
لذتِ معصیت ِ عید نہ پوچھ
ہند میں بھی یہ بلا یاد آئی
عيدِ یوم وطنی بھی اسی قبیل سے ہوتا ہے “ امت ” کی جگہ “ قوم / وطن ” کو مرکزی شعار بناتے ہیں
اس بنا پر منہجی کبار علمائے سلف نے انہیں غیر شرعی عید اور کفار کی مشابہت کہا ہے ۔ جنھیں خوشی خوشی وہاں کے طلبہ سعودی عرب میں مناتے ہیں ۔
یہ اعتدال منعِ تطرف و تشدد کو لات مارنے والوں کی کیسی دوغلی پالیسی اور دوہرے معیار ہیں؎
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہوجا
جس طرح نیا ڈاکٹر انجکشن لگانے میں پھرتی دکھاتے ہوئے کچھ مقامات پر مریض کا پاجامہ تیزی سے مکمل کھینچ دیتا ہے اسی طرح مدینہ سے پڑھ کر آنے کے بعد یہ لوگ دہائیوں سے میدانِ عمل میں خدمت دین کرنے والے عمرآباد کے مدنی سلفی علماء کا منہجی خرقہ سونگھ کر دیکھتے ہیں اور تار تار کر دیتے ہیں اور پھرتی سے انھیں منہج بدر کر دیتے ہیں ۔؎
گدائے میکدہ ام، لیک وقتِ مستی بیں
کہ ناز بر فلک و حکم بر ستارہ کنم
2۔
جدید متخرجين کے علمی معیار کو دیکھ کر محققین کہتے ہیں کہ جامعۃ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تعلیمی معیار نمایاں طور پر گر چکا ہے۔ صرف مذکرہ پر کلّی اعتماد ہوچکا ہے۔ لائبریریوں میں جانے کے بجائے فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ میں زیادہ مصروفیت دکھائی پڑتی ہے ۔
اس پر مستزاد ستم بالائے ستم الم در الم یہ ہے کہ طلبہ برائے ریال مکثِ طویل کے لیے معہد سے دکتوراہ تک فیل پاس کر کے عمر کا بیشتر حصہ وہاں گزارتے ہیں بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر سر کے بال جھڑوا لیے ہوں گے مگر پھر بھی مساکین فی العلم ہوتے ہیں ۔
اسی طرح نصاب کی تبدیلی کے بعد علمی انحطاط آیا ہے ۔ رسوخ فی العلم اور ٹھوس معلومات نہ ہونے کے باعث لکیر کے فقیر بن کر ایک ہی جگہ ایک ہی بات پر شدت کی لاٹھی پیٹتے رہ جاتے ہیں ۔
آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا ۔
مختلف دینی محاذ پر کام کرنے کے لیے رائل لائف جینے کے بعد طبیعت آمادہ نہیں ہوتی ہے تو صرف کسی کمرے میں بیٹھ کر آن لائن تحذیر اور نفرتی شعلے بھڑکانے میں ہی لطف ملتا ہے اور اسی سے مسرت کشید کرتے ہیں ۔
جبکہ ہمارے علمائے سلف کس قدر تقشف کی زندگی گزار کر عملی میدان میں دعوت و اصلاح کا فریضہ انجام دیتے تھے
یہ لوگ صرف سلفی علماء کو ٹارگٹ کر کے بطریقِ سہل شہرت و ناموری کے خواہاں ہوتے ہیں ۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مراتب و درجات اور عملی میدان سے دوری بنا کر صرف تحذير پر مکتفی ہو کر سمجھ جاتے ہیں کہ فردوس کی کنجی مل گئی ہے ۔
انھیں بدعتی کو خارجیت زدہ ہو کر اسلام سے خارج ماننے اور مشرکین و کافرین سے بھی زیادہ دین سے دور ماننے میں ہی خوشی ملتی ہے ۔
روشِ خوارج پر چل کر عَش عَش کرتے ہیں ۔
فقہ الدعوۃ کے تحت بڑے بڑے سلفی علماء نے جو اہلِ بدعت کے ساتھ تعامل کے اصول و ضوابط بنائے ہیں انھیں یہ جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں
بس اپنے ایک مقالہ رطب و یابس کا پلندہ جو جمع کر کے ڈگری پائے ہیں اسی کا غرور اور گھمنڈ اور تکبر چھایا رہتا ہے
اور سمجھ لیتے ہیں کہ مناقشہ ہوتے ہی دین کے ہر ہر مسئلے میں گفتگو کی اجازت مل گئی ۔
کوئی شخص اگر ناک کا ڈاکٹر ہے وہ اگر آنکھ کا آپریشن کر دے تو خدا ہی خیر کرے ۔
اسی طرح عمر بھر مدینہ میں مداہنت کرنے والے کوئی کتاب ڈھنگ سے نہیں پڑھتے صرف مذکرہ پر گزارا کرنے والے اب یہ حق ماننے لگے ہیں کہ ہمیں ہی فقط ہر ہر مسئلے پر زبان آرائی کا حق ہے ہم نے دکتوراہ کر لیا ۔
علمِ دین ایک اتھاہ سمندر ہے اس کے کسی ایک قطرے پر کچھ مواد حاطب اللیل کی طرح رطب و یابس جمع کر لینے سے خود کو دنیا کا فقیہِ اعظم سمجھنا مجذوب کی بڑ سے زیادہ کچھ نہیں ۔
یہ مقاصدِ شریعت اور مصالح دینیہ و دنیاویہ سے بالکلیہ انکار کرتے نظر آتے ہیں ۔ اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں جبکہ
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے
وَلْتَكُنْ هِمَّتُهُ فَهْمَ مَقَاصِدِ الرَّسُولِ فِي أَمْرِهِ وَنَهْيِهِ وَسَائِر كَلَامِهِ. فَإِذَا اطْمَأَنَّ قَلْبُهُ أَنَّ هَذَا هُوَ مُرَادُ الرَّسُولِ فَلَا يَعْدِلُ عَنْهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى وَلَا مَعَ النَّاسِ إذَا أَمْكَنَهُ ذَلِكَ ۔
( مجموع الفتاوی ١٠ / ٦٦٤ )
ترجمہ ⏪
" اور ( طالبِ علم یا فقیہ کی ) ہمت اور کوشش کا مرکز یہ ہونا چاہیے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اوامر ، نواہی اور آپ ﷺ کے دیگر تمام ارشادات کے مقاصد کو سمجھے۔ پھر جب اس کے دل کو یہ اطمینان حاصل ہو جائے کہ رسول اللہ ﷺ کی مراد اور منشا یہی ہے، تو پھر وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ( معاملات ) میں اس سے روگردانی نہ کرے، اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ ( برتاؤ میں )، اگر اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو۔"
دوسری جگہ مصالحِ عباد سے متعلق امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں :
الْعِلْم بِصَحِيحِ الْقِيَاسِ وَفَاسِدِهِ مِنْ أَجَلِّ الْعُلُومِ وَإِنَّمَا يَعْرِفُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ خَبِيرًا بِأَسْرَارِ الشَّرْعِ وَمَقَاصِدِهِ، وَمَا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ شَرِيعَةُ الْإِسْلَامِ مِنْ الْمَحَاسِنِ الَّتِي تَفُوقُ التَّعْدَادَ، وَمَا تَضَمَّنَتْهُ مِنْ مَصَالِحِ الْعِبَادِ فِي الْمَعَاشِ وَالْمَعَادِ ۔
( مجموع الفتاوی ٢٠ / ٥٨٣ )
ترجمہ ◀️ :
" درست اور فاسد قیاس ( یعنی صحیح اور غلط استدلال ) کی پہچان بلند ترین علوم میں سے ہے ۔ اور اسے وہی شخص جان سکتا ہے جو شریعت کے اسرار و رموز اور اس کے مقاصد سے گہری واقفیت رکھتا ہو ۔ نیز وہ ان خوبیوں سے آگاہ ہو جو شریعتِ اسلامیہ میں اس قدر موجود ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ، اور ان مصلحتوں کو جانتا ہو جو بندوں کی دنیاوی زندگی (معاش) اور اخروی زندگی (معاد) کے لیے اس شریعت میں پوشیدہ ہیں ۔ "
شریعت کے اسرار و رموز اور اس کے مقاصد کو جاننا ضروری ہے یہ لوگ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ ان مصالح کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان سے دوری بناتے ہیں ۔
بلکہ انکار کرتے نظر آتے ہیں بس دوسروں کو کم علم سمجھ کر حقیر جانتے ہیں اور
خود دوسرے دکتور جو ان کے ہم پلہ ہوں بلکہ دعوتی اور علمی خدمات میں ان سے تیس سے چالیس برس سینیئر بھی کیوں نہ ہوں بس ان کے مزاج کے ہم آہنگ نہیں اور جامعہ دارالسلام عمرآباد سے جڑے ہوں تو ان کے مضمون پر بیجا رد لکھ کر گمراہی کا ٹھپہ لگانے میں لطف محسوس کرتے ہیں ۔
جبکہ خود دعویٰ کرتے ہیں کہ مجلسوں میں جب بڑے بولیں تو چھوٹوں کو ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے زبانوں کو مقفل رکھنا چاہیے ۔ کما تدين تدان !
جامعہ دار السلام عمرآباد کے منہجِ سلف پر قائم رہنے کے باوجود اس پر بے جا طور پر ٹارگٹ کر کے شدید چوٹ کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ جامعہ اپنا منہج واضح کرے جبکہ وہ زبان ِ حال سے ان تمام باتوں کا ہمیشہ سے جواب دیا ہے 👇؏
جو ہر اک نظر میں کھٹکے میں وہ خارِ بے خطا ہوں۔
اسی طرح جامعہ دار السلام عمرآباد نے پچھلی ایک صدی میں اسلام کی اصل دعوتِ توحید اور منہجِ سلف کے مطابق کتاب و سنت کی سچی ترجمانی کی ایسی آب پاشیاں کی ہیں جن کے سبب ملک کے ہر گوشے میں علم کی نہریں رواں کر دی ہیں اور ہر جگہ ان سے کثیر خلق فیض پا رہی ہے ۔
یہ لوگ خود تعصب اور نفرت کی وجہ سے اصم ہوتے ہیں لیکن جامعہ دارالسلام عمرآباد میں بظاہر بدعتی عناصر کی سرگوشیاں سن لینے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں ۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس جامعہ کے قیام اور جڑ میں ردّ بدعت اور منہجِ سلف کی بنیاد پر خالص کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت شامل ہے ۔
یہ لوگ خود کو سب سے بڑا عالم سمجھتے ہیں ہر فن مولا گردانتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ علمی اعتبار سے ہم میں کوئی بھی ایسا نہیں جو تمام علوم کا مکمل احاطہ کر سکتا ہو۔
ایسا ہو سکتا ہے ایک آدمی عقیدہ کا ماہر ہو لیکن علمِ فقہ میں گہرائی نہ رکھتا ہو۔
ہو سکتا ہے ایک شخص علم الفرائض کا ماہر ہو مگر علم الحدیث میں کمزور ہو،
کوئی ادیب و زبان داں ہوں مگر شرعی مسائل میں گہرائی نہ رکھتا ہو
اور یہ صورتحال ہم سب میں موجود ہے۔
قرآن مجید میں وارد ہوا ہے وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ !
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
( و فوق كل ذي علم عليم )، قال: يكون هذا أعلم من هذا , وهذا أعلم من هذا , و الله فوق كل عالم۔
( تفسیر طبری : 16 / 192 )
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
في قوله:
( و فوق كل ذي علم عليم ) ، قال: ليس عالمٌ إلا فوقه عالم، حتى ينتهي العلم إلى الله۔
( تفسیر طبری : 16 / 193 )
یہ دوسروں کو انٹر پاس اور خود کو فضیلت دیتے ہوئے ہر ہر مسئلے میں موشگافیوں کے حقدار سمجھتے ہوئے یہ گمان پال لیتے ہیں کہ مصالح کا اعتبار دین میں نہیں ہونا چاہیے صرف مسالوں کا اعتبار گوشت میں ہونا چاہیے
جبکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ شرعی احکامات بندوں کے مصالح کے حصول اور نقصانات کے ازالے پر مشتمل ہوتے ہیں 👇
وَ أَنَّ تَرْتِيبَ الشَّارِعِ لِلْأَحْكَامِ عَلَى الْأَوْصَافِ الْمُنَاسِبَةِ يَتَضَمَّنُ تَحْصِيلَ مَصَالِحِ الْعِبَادِ وَدَفْعَ مَضَارِّهِمْ وَرَأَوْا أَنَّ الْمَصْلَحَةَ «نَوْعَانِ» أُخْرَوِيَّةٌ وَدُنْيَوِيَّةٌ: جَعَلُوا الْأُخْرَوِيَّةَ مَا فِي سِيَاسَةِ النَّفْسِ وَتَهْذِيبِ الْأَخْلَاقِ مِنْ الْحِكَمِ؛ وَجَعَلُوا الدُّنْيَوِيَّةَ مَا تَضْمَنُ حِفْظَ الدِّمَاءِ وَالْأَمْوَالِ وَالْفُرُوجِ وَالْعُقُولِ وَالدِّينِ الظَّاهِرِ ۔
( مجموع الفتاوى ٣٢ / ٢٣٤ )
ترجمہ 👈 :
اور ( اصولِ فقہ کے ماہرین کی رائے یہ ہے ) کہ شارع ( اللہ تعالیٰ ) کا احکام کو ان کی مناسبت رکھنے والی صفات ( اور مصلحتوں ) پر مرتب فرمانا ، بندوں کے لیے مصلحتوں کے حصول اور نقصانات کے ازالے پر مشتمل ہے۔ ان کے نزدیک مصلحت کی دو قسمیں ہیں : اخروی اور دنیوی ۔
انہوں نے اخروی مصلحت ان حکمتوں کو قرار دیا ہے جو نفس کی تربیت اور اخلاق کی اصلاح سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ دنیوی مصلحت اسے قرار دیا ہے جو ( انسانی زندگی کے پانچ بنیادی حقوق یعنی ) جان ، مال ، نسل ، عقل اور ظاہری دین کی حفاظت کی ضمانت دیتی ہے ۔ "
فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کو مصلحت کے لفظ سے چڑ ہے
انھیں لگتا ہے کہ دین کے ہر مسئلے میں مصلحت کو نظر انداز کر کے شدت پر مبنی حرفِ آخر تو میرا ہی ہونا چاہیے گویا ؎ قطعت جهيزة قول كل خطيب ۔انھیں یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ ہم ہی جہیزۃ ہیں ۔
سبحان اللہ سبحان اللہ
3۔
شریعت ہی کا میدان ایسا ہے جہاں جو صرف کلیہ دعوہ وغیرہ سے کچھ مذکرہ رٹ کر خود کو مکمل شرعی میدان میں پی ایچ ڈی کیا ہوا باور کراتا ہے ۔ گویا علومِ شریعت کے سبھی کلیات جزئیات پر انھوں نے چند مذکرے رٹ کر فقاہت پالی ہے !
یہ پلندہ جمع کر کے متکبرانہ شان سے دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور انھیں کم علمی کے طعنے دیتے ہیں جبکہ خود علمی کم مائیگی کے شکار ہوتے ہیں بس نفس موٹا ہوتا ہے ۔ اور ہر غیر متعلقہ مسائل میں رقمطرازی کا شوق چراتے ہیں ۔
جبکہ قرآن نے کہا ہے :
وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ۔
( الاسراء : 85 )
کہ علم کا بہت قلیل حصہ ہی ہمیں عطا کیا گیا ہے ۔
مگر فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام و متبعین کو یہ گمان قائم ہوتا ہے کہ وہ کثیر علم کے حامل ہیں ۔
انھیں دین کے ہر مسئلے میں بولنے کی کھلی اجازت مرحمت کر دی گئی ہے ۔ اب وہ ڈَرنک ڈرائیو کرنے والے کو ڈیوائس سے پہلے جیسے پولیس کی جانب سے سونگھا جاتا تھا ویسے ہی جس بڑے سلفی عالم کو چاہیں سونگھ کر منہج بدر کرتے پھریں ۔
یہ عجوبہ آپ کو پوری دنیا میں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام اور ان کے اندھ بھکتوں کے علاوہ کہیں نہیں دیکھنے کو ملے گا۔
ایسا شرعی میدان کے علاوہ کسی
اور فیلڈ میں نہیں ملے گا اور بر صغیر کے علاوہ شاید ہی کہیں ملے۔
ایسے لوگوں سے ہم کہنا چاہتے ہیں ؎
علم کا آپ کو ہے دعوی کیوں
یہی بازی تو آپ ہارے ہیں !
4۔
یہ خود کو اپنے زعم میں چند مذکرے پڑھ کر منتہی درجے کے متخصصين سمجھ لیتے ہیں ۔ اور چاہتے ہیں کہ انھیں ہی بس سنا جائے جبکہ جس مسئلے میں موشگافیاں کرتے ہیں اس کے بس تراث کے ذخائر سے مطلب کی باتیں نکالنے کے فن سے بخوبی واقفیت ہوتی ہے ورنہ موضوعِ بحث کی الف سے واقف ہوتے ہیں نہ باء سے ۔
ان کے لیے راقم کا یہ شعر صحیح ہے ؎
منہج کے پتھر سے سب کو مار رہے ہیں فہّامہ
چار کتابیں پڑھ کر خود کو سمجھ رکھے ہیں علامہ
5۔
یہ لوگ فقہ اقلیات اور فقہ اولویات سے مکمل نابلد ہونے کے باوصف یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ہمیں ہی اس مسئلے کا مکمل علم ہے ۔
جس نے اس موضوع پر لکھی گئی معتبر کتابوں میں سے کسی کتاب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ہوگا وہ بھی اس میں ہاتھ بٹاتا ، پاؤں پھیلاتا ، زبان نکالتا اور قلم چلاتا نظر آئے گا ۔ اتباعِ ہوی کا یہ عالم ہے کہ خدا کی پناہ !
ولكنه أخلد إلى الأرض واتبع هواه...
إن تحمل عليه يلهث أو تتركه يلهث۔
وإن تدعوهم إلى الهدى لا يتبعوكم سواء عليكم أدعوتموهم أم أنتم صامتون .
ان کی جب قلعی کھل جاتی ہے اور پنڈتانہ احترام نہیں ملتا ہے تو سب کو ملیچھ اور جاہل کہہ کر انا کی تسکین کرتے ہیں ۔
مکھوٹا بدل بدل کر فیک آئڈی سے گالیاں دیتے ہیں اور ڈی پی پر اصل عمر سے کم جوانی کی تصویریں لگاتے ہیں! اور اپنی مزاج کے مناسب ہر پوسٹ پر کود کر دل کی تشفی کرتے ہوئے کمنٹ میں قئے کرتے ہیں!
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
لا جرم أن الله يعلم ما يسرون وما يعلنون إنه لا يحب المستكبرين
6۔
یہ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ ہر جگہ دلیل سے ہٹ کر اپنے مزاج سے ہم آہنگ دلیل تلاشتا ہے اور اسی کو مسئلے میں اصل بنا دیتا ہے۔ تطبیق کے اصولوں کو پس پشت ڈال کر اسے یہ نہیں سمجھ میں آتا ہے کہ مجبوری میں جو ریال کھاتے رہے اور مداہنت کرتے رہے وہ ہندوستان میں نہیں چلنے والا ہے ۔
؎
ہر جفا پر سرِ نیاز ہے خم
ہے ریال ان کے زخم کا مرہم
مردار کھانا مضطر کے لیے حلال ہو جاتا ہے تو سعودی عرب میں ان کی کیفیت مضطر کی ہوتی ہے ریال خوری کے لیے تسامح و تعایش سب برداشت کر لیتے ہیں ۔
ہندوستان میں اعتدال، تسامح و تعایش کو بھول کر خود کو منہج کا محافظ باور کروانے کے لیے شدت پسندی کا مظاہرہ کر کے اندھ بھکتوں اور کم علموں کو اپنے دام فریب میں پھنساتے ہیں اور انھیں سے واہ واہی بٹورتے ہیں ۔
ان متشددین کے انحرافات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ انھیں نہ تو صحیح و کامل منہجِ سلف کا درس و حوالہ دیتے پائیں گے نہ ہی مشرکین و اہلِ بدعت و منحرفين پر رد کرتے ۔
الا ماشاء اللہ
ان کی ساری انرجی اور توانائی جامعہ عمرآباد اور وہاں کے سلفی اساتذہ پر رد کرنے انھیں اہلِ بدعت کا سہولت کار ٹھہرانے اور نفرت کا بازار سجانے میں صرف ہوتی ہے یوں وہ عوام کو سلفی علماء اور سلفی ادارے سے بدظن کرتے ہیں ۔
عمرآباد کے جامعہ سے متعلق ان کا استدلال ، تحقیق اور نکتہ نظر ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی نابینا شخص ہاتھی کے بعض حصے کو چھو کر مکمل ہاتھی کے اوصاف بیان کرتے ہوۓ پورے ہاتھی کو صرف ایک ستون سے تشبیہ دے دیتا ہے ۔ فافہم و تدبر
7۔
اس انحراف کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے پاس نہ پختہ علم ہے نہ ہی علم میں اصالت ، تاہم زعم ہے ۔ پہلی صف میں رہنے اور میدان میں بنے رہنے کی بیماری ہے ! پس اس زعم کو یہ تطرف اور انتہا پسندی نیز شدت کی تعلیل سے تشفی دیتے ہیں اور منہج بدری کی دوائی سے ہر بیماری کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہر ایک پر لیبل لگاتے ہیں ۔ ان کے منہج کو سونگھ کر دیکھتے ہیں ۔ اور پھرتی کے ساتھ منہج بدر کرتے ہیں ۔ اور شدید انحراف پالیتے ہیں !
واہ کیا قوت شامہ ہے!
؎
ان کے دامن میں سیہ دھبّے ہیں اور واضح ہے داغ
خود کو اب شاہین سمجھا ہند میں ہر بوم وزاغ
فی الواقع امر یہ ہے کہ علمی اور اصولی گفتگو ان کے بس میں نہیں ہے ۔
جبکہ منہج بدری اور شدت کی لاٹھی بھانجنا بہت آسان ہے ۔
میدان عمل میں کام کرنا جگر گردے کا کام ہے ۔
اصل زوال اور المیہ یہ ہے ۔ ہمارا علمی ، فکری اور اخلاقی زوال ہو رہا ہے ۔
اقبال نے کیا خوب کہا ہے ؎
کیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھی نہ مِلا تجھ کو بُوئے گُل کا سُراغ
خدا فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے بیجا گمان، غرور اور زعم کو توڑ دے
؏👇
اپنی انا کی قید میں محبوس ہیں سبھی
کوئی بھی اپنے آپ سے باہر نہیں ملا
نعوذ باللہ من شرور انفسنا !
أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين۔
اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں حسنِ توفیق سے نوازے۔
آمین !
ماخوذ :
۔